Home / کالم / سپریم کورٹ: آسیہ مسیح کی بریت کے خلاف نظرثانی اپیل خارج
asia bibi latest news

سپریم کورٹ: آسیہ مسیح کی بریت کے خلاف نظرثانی اپیل خارج

سپریم کورٹ آف پاکستان نے آسیہ مسیح کی بریت کیخلاف نظر ثانی کی اپیل خارج کر دی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے نظرثانی اپیل پر فیصلہ سنایا۔

سپریم کورٹ نے گزشتہ سال 31 اکتوبر کو توہین رسالت کیس میں سزائے موت پانے والی آسیہ بی بی کی سزا کالعدم قرار دے کر ان کی رہائی کا حکم دیا تھا۔ آسیہ بی بی کی سزا کالعدم قرار دینے اور رہائی کے خلاف قاری محمد سلام نے عدالتِ عظمیٰ میں نظر ثانی اپیل دائر کی تھی۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل غلام مصطفیٰ نے مؤقف اختیار کیا کہ نظرثانی درخواست کی سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دیا جائے جس میں اسلامی اسکالرز اور علماء کرام کو شامل کیا جائے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ مذہب کا معاملہ کیسے ہوا؟ کیا فیصلہ میرٹ پر نہیں ہوا ہے ؟ فیصلہ شہادتوں پر ہوا ہے، کیا اسلام یہ کہتا ہے کہ جرم ثابت نہ ہو تو پھر بھی سزا دے دیں؟ آپ ثابت کریں کہ فیصلے میں کیا غلطی ہے۔

وکیل غلام مصطفی نے کہا کہ سابق چیف جسٹس نے کلمہ شہادت سے فیصلہ کروایا، ثاقب نثار نے کلمہ شہادت کا غلط ترجمہ کیا۔ چیف جسٹس نے جواب دیا کہ سابق چیف جسٹس اسوقت بینچ کا حصہ نہیں، ثاقب نثار صاحب آپکی بات کا جواب نہیں دیں گے، لارجر بنچ کاکیس بنتا ہوا تو ضرور بنے گا۔

وکیل نے کہا کہ یہود و نصاری نے معاہدے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے منصوب کیا تھا. نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر بہتان تراشی کی سزا موت ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ معاہدے میں ایسی کوئی بات نہیں ہے جو نبی کریمُ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تعلیمات کے خلاف ہو۔ وکیل نے کہا کہ اقلیتی برداری کا بھی کام ہے قوانین کی پابندی کرے، اسلام اقلیتی برادریوں کومکمل تخفظ فراہم کرتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اللہ تعالی کا حکم ہے سچی گواہی دو چاہیے والدین کے خلاف ہی ہو، قرآن پاک میں حکم ہے یہود و نصارا تمہارے دوست نہیں، عدالت نے فیصلے میں کسی کو دوست بنانے کا نہیں کہا، عدالت نے صرف قانون کی بات کی ہے ۔

وکیل درخواست گزار نے کہاکہ فیصلے میں قرار دیا گیا بار ثبوت استغاثہ پر ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بار ثبوت کا اصول 1987 سے طے ہے، نظر ثانی میں ایک نقطے کا دوبارہ جائزہ نہیں لے سکتے، اگر جرح میں وکیل سوال نہ پوچھے تو کیا ملزم کو پھانسی لگادیں۔

وکیل نے کہا کہ فیصلے میں ایسے معاہدہ کا ذکر آیاجو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منصوب کیا گیا ، تمام علماء نے اس معاہدے کو باطل قرار دیا ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت نے ایک کتاب کے حوالے سے معاہدے کا ذکر کیا، اصل بات یہ ہے کہ جرم ثابت نہیں ہوا، فالسے کے کھیت میں کتنی خواتین تھیں؟ واضح نہیں، آسیہ کھیت میں جلسے سے خطاب تو نہیں کر رہی تھی، واضح نہیں آسیہ نے کسی کو مخاطب کر کے گفتگو کی، تفتیشی افسر نے کہا خواتین میں کوئی جھگڑا نہیں ہوا،گواہ خواتین کو مکمل سچ بولنا چاہیے تھا۔

وکیل درخواست گزار نے کہا کہ گواہان کے بیانات سے واضح ہے کہ آسیہ نے انہیں مخاطب کیا تھا۔ جس پر عدالت نے کہا کہ گواہان جھوٹے ثابت ہو چکے ہیں. ان کے بیانات میں تضاد ہے. جھوٹی گواہی پر ان کو سزا بھی ہو سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے