Home / کالم / اختیا ر ت کی جنگ — ڈاکٹر ابراہیم مغل
chichawatni news

اختیا ر ت کی جنگ — ڈاکٹر ابراہیم مغل

از: ابر ا ہیم مغل
یادش بخیرمرحو م جنر ل ضیا ء ا لحق کے دورِ حکو مت کے دو را نیۂ کی با ت ہے جب ایک بر طا نوی نشر یا تی چینل سے ایک کا میڈی ٹی وی شو بعنو ا ن یس منسٹر پیش کیا جا تا تھا۔ اس شو کا دلچسپ نکتہ یہ ہوا کر تا کہ کس طر ح سیا ستد ان ، یہا ں تک کہ ملک کا پر ائم منسٹر تک سر کا ری افسر و ں یا دو سر ے لفظو ں میں با بو لو گوں کے ہاتھو ں بیو ا قو ف بن جا تے ہیں۔گو یا سیا ستد ا نو ں اور سر کا ری افسر و ں کے در میا ن تنا ؤ کی کیفیت کا مو جو د ہو نا ہر ملک کا مسلۂ ہے۔اور یہ کہ دو نو ں گر و پو ں کے ما بین یہ کشا کش ہمیشہ سے مو جو د ر ہی ہے۔ وطنِ عز یز بھی اس کیفیت سے مبرا نہیں۔

تا ہم اب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اس تنا ؤ کی کیفیت کو ختم کر نے کا پر و گر ا م بنا یا ہے۔ سچی با ت تو یو ں ہے کہ یہ ایک اچھا ارادہ ہے۔ لیکن کیا ایسا ہوسکے گا؟ ایک تازہ خبر کے مطابق آئندہ سینئر افسران کی تقرریاں ایک کمیٹی میں چناؤ کے بعد ہوں گی جس میں متعلقہ وزیر بھی شامل ہوا کریں گے۔ اس کے بعد پہلے چھ ماہ کی کارکردگی جانچی جایا کرے گی۔ اگر تسلی بخش پائی گئی تو اعلیٰ افسر کی تعیناتی دو سال تک برقرار رہا کرے گی۔ کارکردگی بہت اچھی ہونے کی صورت میں تیسرا سال بھی عطا ہوسکتا ہے۔ اعلیٰ افسر ہمیشہ سے وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ کے مقام کو تو پہنچاتے رہے ہیں؛ البتہ وزیر چاہے مرکز میں ہو یا صوبے میں، کا معاملہ ہر دور میں کچھ اور رہا ہے۔ بعض اوقات تو وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کو وزراء اور سینئر افسران کا باہمی تناؤ بہت پسند رہتا ہے۔ وزراء کو طے شدہ حدود میں رکھنے میں بہت مدد ملتی ہے۔ وزارتیں اور محکمے ایسے تناؤ کی حکایات سے بھرے پڑے ہیں۔ بڑی بڑی گھمسان کی جنگیں ہوئی ہیں، جن میں کئی مرتبہ وزراء کام آئے اور بہت سی جنگوں میں افسروں کوشکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اب جو نئی پالیسی نافذ ہورہی ہے تو کیااس سے اُکھاڑ پچھاڑ اور تناؤ والے معاملات ختم ہوجائیں گے؟ ممکن ہے ایسا نہ ہوسکے۔ یہاں سوال اٹھایا جاسکتا ہے کہ کیوں؟ وزراء کی شخصیات ہمیشہ الگ الگ ہوتی ہیں۔ چند اتنے اہم ہوتے ہیں، اِن کا قد کاٹھ ایسا ہوتا ہے کہ نہ تو کوئی افسر ان کی وزارت یا محکمے میں ان کی مرضی کے بغیر تعینات ہوسکتا ہے اور نہ ہی ان کی پسند کے بغیر تعیناتی جاری رہ سکتی ہے۔ قارئین میں سے جو بھی ملکی سیاست اور سیاسی شخصیات کے بارے میں اپنے آپ کو باخبر رکھتے ہیں، وہ آسانی سے صحیح اندازہ کرسکتے ہیں کہ کون سا وزیر کس فہرست میں درج ہے۔ پیچھے نظر دوڑائیں یا سابق حکومت کی کابینہ کو دیکھ لیں۔ فوراً چہرے آنکھوں کے سامنے گھوم جائیں گے۔ اسحق ڈار، چوہدری نثار علی خان، گنتی کے چند اور۔ ایسے وزراء ہر دور میں ہوتے ہیں، آج کل بھی ہیں۔ مذکورہ پالیسی ہو یا نہ ہو، افسر اُن وزراء کا مقام اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ یہاں ایک سوال اور اٹھایا جاسکتا ہے کہ وزراء اور سرکاری افسران میں تناؤ پیدا کیوں ہوتا ہے؟ ان کے مابین اختلافات کیسے جنم لیتے ہیں۔ شاید اس لیے کہ دونوں ایک ہی کام کو مختلف نظر سے اور مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک سڑک بننا ہوتو سیاست دان کی عموماً کوشش یہ ہوتی ہے کہ سڑک وہ بنے اور اس کا گزر اس رستے یا علاقے سے ہو جس میں اس کا سب سے زیادہ مفاد ہے۔ مفاد ضروری نہیں صرف ذاتی ہی ہو، سیاسی مفاد بھی ہوسکتا ہے اور مالی بھی۔ ایک اور مثال لے لیں۔ بھرتی یا تقرریوں میں سیاستدان وہ فیصلہ چاہے گا اور اس فرد کو تعینات کرنا چاہے گا جسے وہ کسی بھی وجہ سے پسند کرتا ہو۔ دوسری طرف سرکاری افسر کو عموماً صرف اس بات سے سروکار ہوتا ہے کہ حکومت کے طے شدہ اصولوں کی روشنی میں کون سی سڑک بننا چاہیے، اس کا گزر کہاں کہاں سے ہونا چاہیے یا کس مڈل سکول کو ہائی سکول کا درجہ ملنا چاہیے۔ بھرتی میں کسے فوقیت ملنی چاہیے، تقرری کس کی مناسب ہے وغیرہ وغیرہ۔ یہا ں اہم نکتہ یہ ہے کہ ان دو نو ں گر و پو ں کو نہ صر ف اپنی اپنی حیثیت کا زعم ہو تا ہے ، بلکہ ہر ایک گر وپ دوسرے پر خو د کو فو قیت دینے کا حقد ا ر سمجھتا ہے۔ سیا ستد ا نوا ں کو یہ زعم ہو تا ہے کہ وہ ایک عوا می چنا ؤ کے نتیجے میں یہا ں تک پہنچے ہیں ، لہذا حکو مت کر نے کے سا تھ ساتھ سیا ہ اور سفید کا ما لک ہو نے کااختیا ر انہی کے پا س ہو نا چاہیے۔ جبکہ سر کاری افسرا ن سمجھتے ہیں کہ چو نکہ وہ ایک طے شد ہ پر و سیس سے گذ رنے کے بعد ہی یہا ں تک پہنچے ہیں،لہذا ذمہ دایریو ں کے سا تھ ساتھ سیا ہ اور سفید کے کا لک ہو نے کی اتھا رٹی بھی انہی کے پا س ہو نی چا ہیے۔

بہر کیف حکومت میں اہم فیصلوں کے لیے واضح اور تفصیلی اصول اور ضابطے نافذ ہوتے ہیں۔ بعض معاملوں میں، اگر بال کی زیادہ کھال نہ اتاری جائے تو اصولوں، ضابطوں اور قواعد کے اندر رہتے ہوئے، وہی من پسند کام کرنے کی گنجائش نکل آتی ہے۔ وہی فیصلہ کرنا ممکن ہوجاتا ہے جو پہلے سے ذہن میں موجود ہو۔ لیکن ہمیشہ ایسا نہیں ہوسکتا۔ بعض اوقات صورتحال توقع کے برعکس بھی ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسی صورت حال میں سینئر افسران کی شفاف تقرریاں برقرار رہ سکیں گی؟ سرکاری افسر گھبراتے ہیں کہ ان کا فیصلہ اگر طے شدہ اصولوں کے خلاف ہو تو ان کی گردن پکڑ میں آئے گی۔ اپنی صفائی میں وہ یہ نہیں کہہ سکیں گے کہ انہوں نے کس سیاستدان کے کہنے پر کیا تھا۔ ظاہر ہے یہاں ان ممکنات کا تذکرہ نہیں جن میں کسی سیاستدان یا سرکاری افسر کے ذہن میں ایسے مقاصد ہوں جن میں آگے چل کر احتساب کرنے والے اداروں کو دلچسپی ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں ایسا ہوتا ہے ۔ اگر تو وزراء اور سیاستدان سرکار کے وضع کردہ اصولوں، پالیسیوں، ضابطوں اور قواعد کی پابندی ضروری سمجھیں، ان کے تقاضے سمجھیں، اس بارے اختلاف رائے ضرور ہوتا ہے کیونکہ مقاصد میں فرق داخل ہوجاتا ہے۔ ایک دوسرے کی نیت پر شک کرنا بھی عام سی بات ہے۔ تناؤ کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ حکومتی اختیارات سے متعلق قواعد و ضوابط میں سرکاری افسروں کے نام درج ہیں۔ وزراء اور سیاستدانوں کا مؤقف یہ ہے کہ اختیار افسروں کے ہی سہی لیکن، چونکہ وہ عوام کے نمائندے ہیں لہٰذا اختیارات کا استعمال ان کی منشاء کے مطابق ہونا چاہیے۔ ایسا کبھی نہیں ہوسکے گا۔ یہ درست ہے کہ افسر بعض اوقات اپنے اختیارات سے وزراء اور سیاستدانوں کے حق میں دستبردار ہوجاتے ہیں، لیکن ایسے افسر نہ تو اپنا بھلا کرتے ہیں، نہ ہی حکومت کا۔ تحریک انصاف جو نئی پالیسی نافذ کر رہی ہے اس سے شاید مسئلہ تو حل نہ ہوسکے البتہ اختلاف اور تنازعات کی نئی شکلیں سامنے آسکتی ہیں۔اس پالیسی پر عمل درآمد کرتے ہوئے ان معاملات کو پیش نظر رکھنا مناسب ہوگا، تبھی کوئی ہموار راہ استوار کی جاسکے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے