Home / کالم / نئی و یز ہ پالیسی اور وزراء کی کا ر کر دگی
khawaja asif

نئی و یز ہ پالیسی اور وزراء کی کا ر کر دگی

ڈاکٹر ابراہیم مغل
نئی ویزہ پالیسی اور وز راء کی کا ر کر دگی ، کو ئی ایک مو ضو ع نہیں، بلکہ دو الگ الگ مو ضو عا ت ہیں۔ مگر دو نو ں پہ لکھنا اس قد ر وا جب ہو چکا تھا کہ مز ید تا خیر کی کو ئی گنجا ئش نہیں بچی تھی۔ لہذا اب کو شش کر تا ہو ں کہ دو نو ں کو ایک ہی کا لم میں نمٹا دوں۔
تو صا حبو با ت کچھ یو ں ہے کہ اس میں کو ئی شک کی بات نہیں کہ فی ز ما نہ ر یا ستہا ئے متحد ہ ا مر یکہ دنیا کا طا قتو ر تر ین ملک ہے۔ اس کے اسقد ر زیا دہ طا قتو ر ہو نے کی بڑی وجہ اس کا اپنی سر حد و ں پہ ہر دم نظر ر کھنا ہے۔ چنا نچہ ہم د یکھتے ہیں کہ وہا ں کے ویزہ کا حصو ل انتہا ئی جو کھو ں کا م ہے۔ ڈو نلڈ ٹر مپ کے پچھلے انتخا با ت میں کا میا بی کی بڑی وجہ و ہ نعر ہ تھا جس کے تحت انہو ں نے ا علا ن کیا تھا کہ کا میا بی کی صو رت میں وہ امر یکہ اور میکسیکو ملک کے در میا ن سر حد پر دیوا ر تعمیر کر یں گے جس کے نتیجے میں میکسیکو سے امر یکہ میں غیر قا نو نی دا خلہ نا ممکن ہو جا ئے گا۔ یا د دلا نے کی ضر ور ت نہیں کہ امر یکن عوا م نے ٹر مپ کے نعر ے کو سرا ہا اور ان کے حق میں فیصلہ دیا۔
یہ سب یہا ں بیا ن کر نے کی وجہ احسا س دلا نا ہے کہ ز ند ہ اور کا میا ب قو میں اپنی سر حد و ں کو ، خو ا ہ وہ ز مینی را ستو ں سے متعلق ہو ں یا ہو ا ئی را ستو ں سے، ما در پدر آ زا د نہیں چھو ڑ تیں۔ اسی ز مرے میں اگر ہم وطنِ عز یز کا جا ئز ہ لیں تو ا یک عجیب اور دلخر ا ش منظر سے سا بقہ پڑتا ہے۔ وہ یو ں کہ عمرا ن خا ن حکو مت نے حا لیہ دنو ں میں اعلا ن کیا ہے، کہ وہ غیر ملکیو ں کے لیئے پا کستا ن میں دا خلے کو آ سا ن بنا نے کی غر ض سے و یز ہ کا اجرا ء پا کستا نی ہو ا ئی اڈو ں پر شر وع کر نے وا لے ہیں۔ایک عر صے سے ہما را ملک دہشتگر دی کی لپیٹ میں ہے۔ اس دہشتگر دی میں ز یا دہ بڑا ہا تھ غیر ملکی عنا صر کا ہو تا ہے۔ ہر اس قسم کی دہشتگر دی کے بعد سوا ل اٹھ کھڑا ہو تا ہے کہ آ خر غیر ملکی د ہشتگر د پا کستا ن میں دا خل کیسے ہو ئے۔ لیکن مستقبل میں ہو ا ئی اڈو ں پر ویزو ں کے اجرا ء کے شر و ع ہو نے کے بعد اس سوا ل کی بھی کو ئی گنجا ئش نہیں بچے گی۔ یا د دلا دو ں کہ ما ضی میں ا مر یکن کنٹر یکٹر ریمنڈیو د س کے پا کستا نی قو ا نین کی خلا ف ورزی کرنے کی کا روا ئی میں کا میا ب ہو جا نے کی بڑی وجہ ہما ری ویز ہ پا لیسی میں نر می تھی۔ چہ چا ئیکہ اب یہ پا لیسی ما در پدر آ زا د ہو نے کو ہے۔ پھر تحر یکِ ا نصا ف کی عطا کر دہ یہ آ زا دی صر ف و یزہ پا لیسی تک ہی محد و د نہیں، بلکہ اس کے اپنے وز را ء اس آ زا دی سے پو ری طر ح آ سو دہ ہو رہے ہیں۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ جناب عمران خان نے 2018ء میں فرمایا تھا کہ ہر وزیر کی کارکردگی پر کڑی نظر رکھی جائے گی اور جو وزرا اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرسکیں گے انہیں اپنی وزارت سے ہاتھ دھونا پڑیں گے۔ مزید یہ کہ حکومت کا حصہ رہنا صرف اور صرف کارکردگی پر منحصر ہوگا۔
سوال پو چھا جا سکتا ہے کہ میں وز را ء ہی کی کارکردگی کا ذکر ہی کیوں کر ر ہا ہو ں؟ اس کی ایک وجہ ہے اور وہ یہ کہ چند دن پہلے یہ خبر ذرائع ابلاغ میں گردش کر رہی تھی کہ پنجاب کے وزرا کی کارکردگی کا جائزہ مکمل ہوگیا ہے۔ اس دوران وزراء کی زیادہ ناقص اور کم ناقص کارکردگی کی خبریں بھی گردش کرتی رہیں اور نمایاں طور پر اخبارات میں چھپیں اور ٹیلی ویژن چینلوں پر دکھائی گئیں۔ حیرانی بھی ہوئی کہ اتنی جلد یہ جائزہ کیونکر مکمل ہوگیا۔ آخر کس معیار پر کارکردگی کو پرکھا گیا اور موازنہ کس سے کیا گیا؟ تھوڑی سی تفتیش سے معلوم ہوا کہ صرف یہ دیکھا گیا ہے کہ محکمے نے حکومت کے قیام کے بعد فراہم کردہ ترقیاتی رقوم کو کس قدر خرچ کیا ہے۔ غور کیا تو اس جائزے کی نوعیت بہت محدود نظر آئی۔ ظاہر ہے کہ اس معیار پر ان محکموں کے لیے کارکردگی دکھانا بہت آسان تھا جن کے ترقیاتی منصوبے پچھلے سال یا پچھلے کئی سالوں سے چل رہے تھے۔ انہوں نے صرف جاری کاموں کو جوش و خروش کے ساتھ جاری رکھنا تھا۔ جہاں تک نئے منصوبوں کا تعلق ہے تو ان کی مختلف مراحل سے منظوری، ٹینڈر، ٹھیکوں کے فیصلے اور رقوم کے اجراء میں کئی کئی مہینے لگ جاتے ہیں۔ چنانچہ نظریہ آیا کہ اگر کارگزاری کو جانچنے کا معیار یہی تو ہے تو اس پر بہت غور و فکر کی ضرورت ہے۔ اس معیار کو بنیاد بنانا بہت نامناسب ہے اور محض موجود فنڈز خرچ کردیئے جانے سے کسی بھی وزارت یا ادارے کی کارکردگی کا کوئی اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ ا یک تجویز یہ ہے کہ کارکردگی پرکھنے کا معیار صائب اور منصفانہ ہونا چاہیے جس میں کسی محکمے کو دو سرے پر کوئی غیر منصفانہ برتری حاصل نہ ہو۔ تعلیم، صحت، پینے کے پانی، گھروں کی تعمیر، زراعت اور معیشت سے متعلق وزارتوں کی کامیاب کارکردگی کن نتائج سے جانچی جانی چاہیے؟ تو پہلے یہ نکتہ پیش نظر رہے کہ ان سب وزارتوں کی ذمہ داریاں مختلف ہیں۔ ان سبھی کو ایک ہی فارمولے سے کیسے جانچ سکتے ہیں؟ مثا ل کے طو ر پر کیا وز ار تِ تعلیم اور وزا ر تِ صحت کو ایک ہی پیما نے سے جا نچا جا سکتا ہے؟ ظا ہر ہے کہ اس کا جو اب اسلیئے نفی میں آ ئے گاکیو نکہ دو نو ں کے اغرا ض و مقا صد ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔پہلے اگر ہم محکمہ تعلیم کی با ت کر تے وقت سوا ل کر یں کہ کیا رقم کو کم خرچ کر نے کا مطلب بہتر کا رکر گی سمجھا جا ئے تو عر ض کچھ یو ں ہے کہ خرچ کارکردگی کا صرف ایک اور وہ بھی بہت چھوٹا سا حصہ ہے۔ اس سے طلباء کی تعداد میں اضافہ، نئے اور بہتر اساتذہ کی تقرری، سکولوں کا بہتر ماحول، تعلیم کا بہتر معیار، ان میں کھیل، پانی اور ٹائلٹ کی سہولیات، طالب علموں اور ان کے والدین کا اطمینان وغیرہ، یہ سب کچھ کیسے ماپا جائے گا؟ دو سری طر ف اگر ہم محکمہ صحت کی با ت کر یں تو وہا ں ہمیں ہسپتا لو ں میں طبی سہو لیا ت کی بر وقت فر ا ہمی کا جا ئز ہ لینا ہو گا۔ دیکھنا ہو گا کہ کیا ایک ہی بستر پر دو دو تین تین مر یضو ں کو لٹا نے کا مسلہء ختم ہو چکا ہے یا نہیں۔
دیکھنا ہو گا کہ ز چگی کے کہ نا قا بلِ بیا ن مسا ئل سے کس حد تک نمٹا گیا ہے؟د یکھنا ہو گا کہ مستحق مر یضو ں کو یہ کہہ کر تو نہیں ٹر خا یا جا ر ہا کہ یہ دوا آ و ٹ آ ف سٹا ک ہے؟
میں کہنا یہ چا ہتا ہو ں کہ اگر وزرا اور ان کے محکموں کی کارکردگی کاجائزہ لینا ہے، جو کہ بہت ضروری ہے۔ تو ہر ایک محکمے کو جانچنے کے الگ الگ معیار، تفصیل اور احتیاط سے مرتب کرنا پڑیں گے۔ اس کام کے لیے پیشہ وارانہ مہارت در کا ر ہوگی۔ اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہے اور سنجیدہ ہونا بھی چاہیے تو پھر کارکردگی کو بہتر سے بہترین بنانے کے لیے ضروری ہوگا کہ ان اہم نکات کا تعین پیشگی کردیا جائے کہ ہر وزیر اور اس کے محکمے کی کارکردگی جانچنے کے معیار کیا ہوں گے؟ اس کام کی ذمہ داری کسی ملکی یا بین الاقوامی شہرت کے حامل ادارے کو دینا ہی مناسب ہوگا۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو اس جائزے کی ساکھ وہ نہ ہوگی جسے وزرا کے ساتھ ساتھ عوام بھی تسلیم کریں۔ سرِ راہے یہ پوچھنا بھی بنتا ہے کہ وزیر اعظم اور وزرائے اعلیٰ کی کارکردگی کو جانچنے کا معیار کیا ہوگا؟ قیادت کے معیار کو جانچنے کا بھی تو آخر کوئی طریقِ کار ہونا چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے