Home / کالم / کم سن ملازمائیں (تحریر سائرہ فاروق)

کم سن ملازمائیں (تحریر سائرہ فاروق)

یہ ایک پانچ مرلے کا گھر تھا جس کے چھوٹے سے ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر، میں ڈیکوریشن پیسز کا جائزہ لے رہی تھی کہ اچانک دروازہ کھلا اور میری نظر سرخ چپل میں بے رونق پیروں پر پڑی۔

میں کسی انجانے احساس کے ساتھ انہیں اپنی طرف بڑھتا ہوا دیکھ رہی تھی۔ تبھی اچانک میری دوست کی غصے میں بھری ہوئی آواز کمرے میں گونجی۔

’’کب سیکھو گی تم۔۔۔ کوئی کام تو ڈھنگ سے کر لیا کرو۔ وہ بولتی ہی چلی جا رہی تھی۔
ساسر میں ایک ذرا سی چائے ہی تو چھلکی تھی، مگر اس دس سالہ ’نوکرانی‘ کو وہ باتیں سننے کو ملیں جس پر گھروں میں اس عمر کی اپنی بچیوں کو یہ کہہ کر چھوٹ دے دی جاتی ہے کہ بچی ہی ہے، سیانی تو نہیں۔۔۔!

مگر جب اسی عمر کے بچے معاشی مجبوری کی وجہ سے ہمارے ہاں ملازم ہو جائیں تو ہماری سوچ اور زبانیں ان کے ساتھ معاملہ برتنے میں یکسر بدل جاتی ہیں۔ چائے پیتے ہوئے میں ذہن میں خیالات کی بھرمار تھی۔ میں نجانے کیا کچھ سوچتی رہی۔ میٹھی چائے نے میرے حلق میں کڑواہٹ بھر دی تھی۔

اب کھڑی کیا منہ تکتی رہو گی؟ جاؤ یہاں سے! نخوت بھرا لہجہ میری سماعتوں سے ٹکرایا اور میری آنکھوں نے گویا ایک ’روبوٹ‘ کو خاموشی سے کمرے سے باہر نکلتے دیکھا۔

کیا لوگ ہیں، پتا نہیں کہاں سے منہ اٹھا کر آجاتے ہیں۔ آنٹی نے بھی اس میں اپنا حصہ ڈالنا ضروری سمجھا۔ میں نے ان کے چہرے کو بغور دیکھا اور سوچنے لگی کہ کیسے اس فقط پانچ مرلے کے گھر اور ذرا سے اختیار نے انھیں ایک انسان کی تذلیل کرنے کا گویا لائسنس ہی دے دیا ہے۔ شاید احساسِ برتری اور کسی بھی قسم کا رویہ اپنانے کی بنیاد اس وقت پڑتی ہے جب سامنے والا کم زور اور آپ لامحدود اختیارات رکھتے ہوں۔

ان کے چہروں سے پشیمانی نہیں جھلکی۔۔۔، مگر میرے لیے یہ تکلیف دہ تھا۔ سامنے بیٹھی میری وہ دوست ایم فل، گولڈ میڈلسٹ تھی اور اب پی ایچ ڈی کی تیاری میں اپنی تگ و دو کا ذکر کر رہی تھی۔ مجھے اس وقت لگا کہ ہماری تعلیم محض ڈگری ہے۔ یہ ہمارے اندر کی خباثت، بداخلاقی اور دوسروں کی توہین، ہتک اور تذلیل کے حوالے سے کوئی قدغن نہیں لگاتی۔ نہ ہی ہماری علمیت اس بات کی ضمانت ہے کہ آپ دوسروں سے بات کرنے کا سلیقہ اور تمیز بھی جانتے ہوں، آپ کو جذبات اور احساسات کی قدر کرنا اور کسی کا مان رکھنا بھی آتا ہو۔ یہ تو صرف احساس کی بات ہے جس کا بڑی بڑی ڈگریوں سے کوئی تعلق نہیں۔

پہلے چوہدریوں، وڈیروں، زمیں داروں کے گھروں میں خدمت گاروں اور نوکروں کا سلسلہ نسل در نسل چلتا تھا۔ اور جن گھروں میں کام کاج کے لیے ملازم رکھے جاتے تھے وہ انتہائی متمول اور بااثر تصور کیے جاتے تھے۔ مگر اب ہر وہ خاندان جو مالی طور پر نسبتاً بہتر یا مستحکم ہے، وہ جھاڑو پونچھے، کپڑے اور برتن دھونے اور دیگر کاموں کے لیے بھی ماسی رکھنا چاہتا ہے۔ دوسری طرف غربت اور تنگ دستی کے باعث لوگ اپنی کم عمر بچیوں کو بھی گھروں میں کام کرنے کے لیے بھیج دیتے ہیں۔ ان میں کم عمر نو، دس سال تک کی بچیاں شامل ہیں۔ یہ وہی تمام کام کرتی نظر آئیں گی، جو ایک پکی عمر کی عورت کرتی ہے جب کہ اس عمر کی بچیوں کو نہ تو ان کاموں کا تجربہ ہوتا ہے اور نہ ہی وہ اس کی طاقت اور استعداد رکھتی ہیں۔

یہ گھرانے ان کم سن ملازماؤں کے لیے عقوبت خانے ثابت ہوتے ہیں اور اکثر ان کی قبر بن جاتے ہیں یا اگر کوئی بچی خوش قسمتی سے بچ نکلی تو اس کا جلا ہوا، داغ دار جسم یا اس پر تشدد کے نشانات کی تصاویر اور اس کی درد ناک کہانی سب سے پہلے تو سوشل میڈیا اور پھر الیکٹرانک میڈیا پر بریکنگ نیوز بننے کے بعد قانون کی ’عقابی‘ نظروں میں آ جاتی ہے۔

قانون دیکھتا، سنتا سب ہے، سزا دینے کا اختیار بھی رکھتا ہے، مگر بعض اوقات فریقین کے درمیان معاملہ طے ہو جانے اور ‘صلح نامہ‘ سامنے آجانے کی وجہ سے عدالت اور انتظامیہ بے بس ہو جاتی ہے۔

جب اپنی ہی بچی کے حق میں کھڑے ہونے والے والدین کا منہ پیسوں سے بند کر دیا جائے یا ڈرا دھمکا کر معاملہ نمٹا دیا جائے، دونوں ہی صورتوں میں ہمارے سماج کا پسا ہوا یہ طبقہ خاموش ہوجانے پر مجبور ہوتا ہے۔ اور معاشی ناہم واریوں کا مقابلہ کرنے کے لیے لیے اپنا اگلا بچہ تیار کر کے پھر کسی کوٹھی یا چند گز پر محیط گھر میں بھیج دیتا ہے کیوں کہ زندہ رہنے کے لیے اسے پیٹ بھر روٹی تو روز چاہیے۔

بدقسمتی سے اس ملک میں انصاف اور قانون مذاق بنا ہوا ہے۔ طاقت ور اور طبقۂ امراء انسانوں کو اپنی آسائش، آرام اور سکون کے لیے غلام بنا سکتا ہے۔ ہمارے ہاں جبری مشقت یا چائلڈ لیبر کے قوانین پر عمل جیسے دیوانے کا خواب ہوں۔ ایسے میں بڑھتی ہوئی غربت نے مسائل کو مزید بڑھاوا دیا ہے۔ ایسے حالات میں غریب و مفلس خاندانوں کی دو وقت کی ان کے معصوم بچوں کی دیہاڑی اور معمولی تنخواہ سے ہی جڑی ہے تو کیا یہ بہتر نہیں کہ وہ ان کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے تحریری معاہدہ ہی کر لیں۔ خاص طور پر جب اپنی بچیوں کو کسی گھر میں آیا اور نوکرانی کے طور پر چھوڑیں تو اس کے مالک سے کچھ باتیں طے کر لیں۔ یہ کسی غریب کنبے کے لیے یوں بھی ضروری ہے کہ آیا یا خادمہ بن کر کسی گھر میں جانے والی ان بچی اگر جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی طور پر محفوظ رہے گی اور صحت مند ہوگی تبھی وہ اپنے غریب اور مجبور والدین کا معاشی بوجھ اٹھاسکے گی۔

بدقسمتی سے لوگوں میں زندگی اور معاشرت کا شعور ہی نہیں اور غریب اپنے حقوق سے متعلق آگاہی نہیں رکھتا۔ اس پر تعلیم سے محرومی اور مالی مسائل اس طرح اثر انداز ہوتے ہیں کہ وہ کچھ سوچے سمجھے بغیر چند سو یا چند ہزار روپوں کی خاطر اپنے لختِ جگر کو کسی کے بھی سپرد کر دیتے ہیں۔ اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ کوئی بھی فرد جب اپنی بچیوں کو بحیثیت خادمہ کسی کے گھر چھوڑے تو مالک سے تحریری معاہدہ کرے۔ اگر وہ ناخواندہ ہے تو آسانی سے اس سلسلے میں کسی کی مدد لے سکتا ہے۔ اس معاہدے کی ایک کاپی مالک، ایک بچی کے سرپرست کے پاس اور تیسری کاپی اس علاقے کے متعلقہ تھانے میں جمع کروائی جائے۔ یہ ایک اہم قدم ہے جو اس بچی کو کسی بھی گھر میں محفوظ رکھ سکتی ہے۔

اگر کچھ پڑھے لکھے لوگوں کی مدد لی جائے تو معاہدے کے نکات اور مندرجات تیار کیے جاسکتے ہیں جس میں خادمہ کے کام کے اوقاتِ کار، خوشی و غم کی مناسبت سے تقاریب یا بیماری کی صورت میں خدمت لینے پر اضافی رقم دینا، کام کی نوعیت طے ہو اور یہ بچی کے علم میں ہو۔ ملازمہ کو دن میں کچھ وقت آرام کا موقع، بیماری یا کسی حادثہ کی صورت میں فوری طبی امداد کے ساتھ مالکان اس کے والدین کو مطلع کرنے کے پابند ہوں جب کہ بیماری کی حالت میں بچی سے کام نہ لیا جائے۔

مہینے دو مہینے کے بعد بچی رخصت پر اپنے گھر جا سکے۔ والدین کو مکمل آزادی دی جائے کہ جب چاہیں اپنی بچی سے ملنے آئیں اور جان سکیں کہ وہ کیسی زندگی بسر کر رہی ہے۔کیوں کہ جب کئی سال بچی کی خبر گیری نہ کی جائے تو مالکان بے فکر اور اس کے ساتھ برے سلوک کے عادی ہو جاتے ہیں۔ آج کل رابطے کا سب سے بڑا ذریعہ موبائل فون ہے۔ طے کیا جائے کہ والدین بچی سے رابطہ کر کے حال احوال لے سکیں گے۔ ملازمہ کی جائے رہائش موزوں اور محفوظ ہو، ممکن ہو تو اسے کسی بزرگ خاتون یا مالک کی بچیوں کے کمرے میں سونے کی جگہ دی جائے کیوں کہ یہ اس کی حفاظت اور نگرانی کا تقاضا ہے۔

خادمہ کے والدین اپنی بچی کے لیے صاف ستھرا بستر، تکیہ چادر، اور سردیوں کی مناسبت سے انتظامات کا تقاضا ضرور کریں اور اسے تحریری شکل دی جائے۔ مالکان پر بھی فرض ہے کہ وہ اس بچی کو سمجھاتے رہیں کہ گھر میں کسی دوسری نوکرانی اور مالکن کی غیر موجودگی میں محتاط رہے اور کسی بھی ناخوش گوار بات یا حرکت کو گھر کی عورت کے علم میں لائے۔ معاہدے میں یہ بھی لکھا جائے کہ مالکان بچی کو حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق اور پیٹ بھر خوراک دیں گے۔

دوسری طرف مالکان اس بچی کو اپنے گھر کے اصولوں، طور طریقوں سے ضرور آگاہ کریں اور اسے پیار محبت سے ان کی افادیت پر قائل کریں، لیکن ان کی پابندی کروانے کے لیے بے جا سختی، بچی میں کسی قسم کا خوف پیدا کرنا اور تشدد ناقابلِ قبول ہو گا۔ دوسرا آپ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ کوئی بھیڑ بکری یا زر خرید غلام نہیں ہے بلکہ آپ کے بچوں کی طرح کی گوشت پوست کا انسان ہے جسے اسی طرح محبت، شفقت اور سب سے بڑھ کر احترام کی ضرورت ہے جس طرح آپ کے بچوں کو ہے۔

والدین کی غربت اور معاشی مجبوری کی چکی میں پستی کم عمر ملازمائیں اپنے ہی ہم عمروں کی آیا اور خادم تو بن جاتی ہیں، مگر ان کے جذبات، احساسات بچوں جیسے ہی ہوتے ہیں۔ وہ خوشی، غم، خوف اور غصے کا اسی طرح اثر لیتی ہیں جیسے آپ کے بچے! کبھی اپنی نازک مزاج بیٹی کو اس کی جگہ رکھ کر سوچیں تو یقیناً آپ کا دل کانپ اٹھے۔ لیکن جب آپ مالک اور سامنے والا ملازمہ کے مقام پر آجائے تو نہ جانے دلوں میں سختی اور بے اعتنائی کیوں اتر جاتی ہے۔

اپنی بیٹی کی ہم سن اور اسی جیسی معصوم بچی سے بے تحاشا کام لیتے ہوئے نہ جانے کیوں کسی کو ان کی تھکاوٹ، بھوک پیاس اور آرام کا خیال نہیں رہتا۔ آپ کی نگاہوں کے سامنے ہی جب ایسی بچی اپنے ہم عمر بچوں کے آگے پیچھے گھومتی، ان کی ایک آواز پر دوڑ کر ان کا حکم بجا لاتی ہے تو یقین جانیے یہ اس کی منشا نہیں ہوتی، بلکہ مفلس والدین کی مجبور اولاد کا حالات سے سمجھوتا ہے۔ ورنہ اچھے کپڑوں، کھلونوں، لذیذ کھانوں اور بستے میں رکھی رنگ برنگی پنسلوں اور کتابوں کے لیے دل تو اس کا بھی مچلتا ہوگا،

مگر یہ ان گھرانوں کے بچے ہوتے ہیں جہاں مفلسی، خواب دیکھنے کی اجازت نہیں دیتی۔

ہمارے نبی نے اپنے آخری خطبے میں اپنے غلاموں اور نوکروں سے حسنِ سلوک پر زور دیا اور اس کی تاکید کی ہے۔ اگر ہم میں سے ہر شخص اس کی روشنی میں اپنا محاسبہ کرے تو یہ کم سن ملازمائیں بھی عزت اور وقار کے ساتھ زندگی کی سختیوں کا مقابلہ کرسکتی ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے