Home / تعلیم و صحت / ازواج مطہرات) درس نمبر ..(6) ( حصہ دوم( آخری)

ازواج مطہرات) درس نمبر ..(6) ( حصہ دوم( آخری)

بسم الله الرحمن الرحيم
تحریر ,انتخاب, ترتیب
بابرالیاس.. قلمدان ڈاٹ نیٹ
( تاریخ اسلام کی روشنی میں)
موضوع …مؤمنین کی والدہ(امہات المؤمنین)
عنوان…
سیرت مبارکہ حضرت
ام سلمہ (ہند) بنت ابی امیہ رضی اللہ تعالی

حلیہ

،”یعنی حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نہایت حسین تھیں۔”
ابن سعد[32] نے روایت کی ہے کہ جب حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کو انکے حسن کا حال معلوم ہوا تو سخت پریشان ہوئیں، مگر یہ واقدی کی روایت ہے جو چنداں قابل اعتبار نہیں،
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے بال نہایت گھنے تھے۔[33] [] فضل و کمال

علمی حیثیت اگرچہ تمام ازواج بلند مرتبہ تھیں، تاہم حضرت عائشہ اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہما کا ان میں کوئی جواب نہیں تھا، چنانچہ محمود بن لبید کہتے ہیں،[34] “آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج احادیث کا مخزن تھیں، تاہم عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہما کا ان میں کوئی حریف مقابل نہ تھا۔”
مروان بن حکم ان سے مسائل دریافت کرتا اور اعلانیہ کہتا تھا۔
“آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے ہوتے ہوئے ہم دوسروں سے کیوں پوچھیں،”[35] حضرت ابو ہریرہ اور ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما دریائے علم ہونے کے باوجود انکے دریائے فیض سے مستغنی نہ تھے،[36] تابعین کرام کا ایک بڑا گروہ انکے آستانہ فضل پر سربر تھا۔
قرآن اچھا پڑھتیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز پر پڑھ سکتی تھیں، ایک مرتبہ کسی نے پوچھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کیونکر قرأت کرتے تھے؟ بولیں ایک ایک آیت الگ الگ کر کے پڑھتے تھے اسکے بعد خود پڑھ کر بتلا دیا۔[37] حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے سوا انکا کوئی حریف نہ تھا، ان سے 378 روائتیں مروی ہیں۔ اس بنا پر وہ محدثین صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم کے تیسرے طبقہ میں شامل ہیں۔
حدیث سننے کا بڑا شوق تھا۔ ایک دن بال گوندوارہی تھیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے زبان مبارک سے ایھاالناس(لوگو!) کا لفظ نکلا تو فوراً بال باندھ کر اٹھ کھڑی ہوئیں، اور کھڑے ہو کر پورا خطبہ سنا،[38] مجتہد تھیں، صاحب اصابہ نے انکے تذکرہ میں لکھا ہے،
“یعنی وہ کامل العقل اور صاحب الرائے تھیں۔”[39] علامہ ابن قیم نےلکھا ہے کہ ان کے فتاویٰ اگر جمع کیئے جائیں تو ایک چھوٹا سا رسالہ تیار ہو سکتا ہے،[40] انکے فتاوی کی ایک خاص خصوصیت یہ ہے کہ وہ عموما متفق علیہ ہیں اور یہ انکی دقیقہ رسی اور نقطہ سنجی کا کرشمہ ہے،
انکی نکتہ سنجی پر ذیل کے واقعات شاہد ہیں۔
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ عصر کے بعد دو رکعت نماز پڑھا کرتے تھے، مروان نے پوچھا آپ یہ نماز کیوں پڑھتے ہیں؟ بولے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی پڑھتے تھے، چونکہ انہوں نے یہ حدیث حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے سلسلہ سے سنی تھی، مروان نے انکے پاس تصدیق کےلیے آدمی بھیجا، انہوں نے کہا مجھکو ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے یہ حدیث پہنچی ہے۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس آدمی گیا اور انکو یہ قول نقل کیا تو بولیں،”یعنی خدا عائشہ(رضی اللہ تعالی عنہا) کی مغفرت کرے انہوں نے بات نہیں سمجھی،”[41] “کیا میں نے ان سے یہ نہیں کہا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انکے پڑھنے کی ممانعت فرمائی ہے۔”[42] حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کا خیال تھا کہ رمضان میں جنابت کا غسل فورا صبح اٹھ کر کرنا چاہیے، ورنہ روزہ ٹوٹ جاتا ہے، ایک شخص نے جا کر حضرت ام سلمہ و حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہما سے جا کر پوچھا دونوں نے کہا کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کی حالت میں صائم ہوتے تھے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے سنا تو رنگ فق ہو گیا، اسی خیال سے رجوع کیا اور کہا کہ میں کیا کروں فضل بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے مجھ سے اسی طرح بیان کیا تھا، لیکن ظاہر ہے کہ حضرت ام سلمہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہما کو زیادہ علم ہے۔[43](اسکے بعد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنا فتوی واپس لے لیا)[44] ایک مرتبہ چند صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم نے دریافت کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اندرونی زندگی کے متعلق کچھ ارشاد کیجیئے، فرمایا”آپ کا ظاہروباطن یکساں تھا۔” آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائےتو آپ سے واقعہ بیان کیا، فرمایا تم نے بہت اچھا کیا،[45] حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا جواب صاف دیتی تھیں اور کوشش کرتی تھیں کہ سائل کی تشفی ہو جائے، ایک دفعہ کسی شخص کو مسئلہ بتایا، وہ انکے پاس سے اٹھ کر دوسری ازواج کے پاس گیا۔ سب نے ایک ہی جواب دیا، واپس آ کے حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کو یہ خبر سنائی تو بولیں، نعم واشفیک! ذرا ٹھہرو میں تمھاری تشفی کرنا چاہتی ہوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسکے متعلق یہ حدیث سنی ہے،[46] حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کو حدیث و فقہ کے علاوہ اسرار کا بھی علم تھا، اور یہ وہ فن تھا جسکے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ عالم خصوصی تھے۔ ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ انکے پاس آئے تو بولیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ بعض صحابی ایسے ہیں جنکو نہ میں اپنے انتقال کے بعد دیکھونگا نہ وہ مجھکو دیکھیں گے، حضرت عبدالرحمن رضی اللہ تعالی عنہ گھبرا کر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس پہنچے اور ان سے یہ حدیث بیان کی، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس تشریف لائے اور کہا، “خدا کی قسم! سچ سچ کہنا کیا میں انہی میں ہوں۔”حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا نہیں، لیکن تمھارے علاوہ میں کسی کو مستثنےٰ نہیں کرونگی،[47] حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے جن لوگوں نے علم حدیث حاصل کیا انکی ایک بڑی جماعت ہے ہم صرف چند ناموں پر اکتفا کرتے ہیں۔
عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ تعالی عنہ، اسامہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہ، ہندرضی اللہ تعالی عنہا بنت الحارث الفراسیہ، صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا بنت شیبہ، عمررضی اللہ تعالی عنہ، زینب رضی اللہ تعالی عنہا(اولاد حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا) مصعب رضی اللہ تعالی عنہ بن عبداللہ(برادرزادہ) نبہان (غلام مکاتب) عبداللہ بن رافع، نافع رضی اللہ تعالی عنہ، شعبہ، پسر شعبہ رضی اللہ تعالی عنہ، ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ، خیرة والدۂ حسن بصری، سلیمان رضی اللہ تعالی عنہ بن یسار، ابو عثمان رضی اللہ تعالی عنہ الہندی، حمید رضی اللہ تعالی عنہ، ابوسلمہ رضی اللہ تعالی عنہ، سعید بن مسیب، ابووائل، صفیہ بنت محصی، شعبی، عبدالرحمان، ابن حارث بن ہشام، عکرمہ، ابوبکر بن عبدالرحمان، عثمان بن عبداللہ ابن موہب، عروہ بن زبیر، کریب مولیٰ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ، قبیصہ بن زویب رضی اللہ تعالی عنہ، نافع مولا ابن عمر یعلےٰ بن مالک،
[] اخلاق و عادات

حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نہایت زاہدانہ زندگی بسر کرتی تھیں۔ ایک مرتبہ ایک ہار پہنا جس میں سونے کا کچھ حصہ شامل تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اعراض کیا تو اسکو توڑ ڈالا۔[48] ہر مہینے میں تین دن(دو شنبہ، جمعرات اور جمعہ) روزہ رکھتی تھیں،[49] ثواب کی متلاشی رہتیں، انکے پہلے شوہر کی اولاد انکے ساھ تھی، اور وہ نہایت عمدگی سے انکی پرورش کرتی تھیں، اس بنا پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پوچھا کہ مجھکو اسکا کچھ ثواب بھی ملے گا۔ اپ نے فرمایا”ہاں”[50] اچھے کاموں میں شریک ہوتی تھیں، آیت تطہیر انہی کے گھر میں نازل ہوئی تھی،
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا اور حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو بلا کر کمبل اڑھایا اور کہا”خدایا! یہ میرے اہل بیت ہیں، ان سے ناپاکی کو دور کر اور انہیں پاک کر” حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے یہ دعا سنی تو بولیں یا رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) میں بھی انکے ساتھ شریک ہوں ارشاد ہوا۔ تم اپنی جگہ پر ہو اور اچھی ہوں۔[51] امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی پابند تھیں، نماز کے اوقات میں بعض امراء نے تغیر و تبدل کیا یعنی مستحب اوقات چھوڑ دیئے تو حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے انکو تنبیہہ کی اور فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ظہر جلد پڑھا کرتے تھے اور تم عصر جلد پڑھتے ہو۔[52] ایک دن انکے بھتیجے نے دو رکعت نماز پڑھی، چونکہ سجدہ گاہ غبار آلود تھی، وہ سجدہ کرتے عقت مٹی جھاڑتے تھے، حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے روکا کہ یہ فعل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روش کے خلاف ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک غلام نے ایک دفعہ ایسا کیا تھا تو آپ نے فرمایا تھا، ترب وجھک اللہ! یعنی تیرا چہرہ خدا کی راہ میں غبار آلود ہو۔[53] فیاض تھیں، اور دوسروں کو بھی فیاضی کی طرف مائل کرتی تھیں۔ ایک دفعہ حضرت عبدالرحمان بن عوف نے آکر کہا اماں! میرے پاس اس قدر مال جمع ہو گیا ہے کہ اب بربادی کا خوف ہے، فرمایا بیٹا! اسکو خرچ کرو، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بہت سے صحابہ ایسے ہیں کہ جو مجھکو میری موت کے بعد پھر نہ دیکھیں گے![54] ایک مرتبہ چند فقراء جن میں عورتیں بھی تھیں، انکے گھر آئے اور نہایت الحاح سے سوال کیا، ام الحسن بیٹھی تھیں، انہوں نے ڈانٹا لیکن حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا ہمکو اسکا حکم نہیں ہے۔ اسکے بعد لونڈی کو کہا کہ انکو کچھ دیکر رخصت کرو۔ کچھ نہ ہو تو ایک ایک چھوہارا انکے ہاتھ پر رکھ دو،[55] آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے انکو جو محبت تھی اسکا یہ اثر تھا کہ آپکے موئے مبارک تبرکاً رکھ چھوڑے تھے۔ جنکی وہ لوگوں کو زیارت کراتی تھیں،[56] آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے اس قدر محبت تھی کہ ایک مرتبہ انہوں نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) اسکا کیا سبب ہے کہ ہمارا قرآن میں ذکر نہیں۔ تو آپ منبر پر تشریف لے گئے اور یہ آیت پڑھی
“ان المسلمین والمسلمات والمومنین والمومنات”[57] مناقب

ایک مرتبہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھی تھیں، حضرت جبرئیل آئے اور باتیں کرتے رہے، انکے جانے کے بعد آپ نے پوچھا۔”انکو جانتی ہو؟” بولیں وحیہ رضی اللہ تعالی عنہ تھے، لیکن جب اپ نے اس واقعہ کو اور لوگوں سے بیان کیا تو اس وقت معلوم ہوا کہ وہ جبرئیل تھے،[58](غالبا یہ نزول حجاب سے قبل کا واقعہ ہے۔)
[]حوالہ جات

↑ (اصابہ ج8ص240)
↑ (زرقانی ج3ص272،273)
↑ (مسند ابن حنبل ج6ص307)
↑ (زرقانی ج3ص273)
↑ (سنن نسائی ص511)
↑ (مسندج6ص295)
↑ (ایضاً)
↑ (ج8ص24)
↑ (صحیح بخاری ج1ص532)
↑ (مسندج6ص322)
↑ (ایضاًص316)
↑ (ایضاًص289)
↑ (زرقانی ج2ص153وابن سعدج2ق1ص54)
↑ (مسندج6ص296)
↑ (صحیح بخاری ج6ص380)
↑ (زرقانی ج3ص272)
↑ (استیعاب ج2ص803)
↑ (صحیح بخاری ج2ص730)
↑ (مسندج6ص308وص289)
↑ (صحیح بخاری ج1ص219،220)
↑ (طبقات ج2ق2ص13)
↑ (صیح بخاری ج2ص641وطبقات ج2ق2ص32)
↑ (صحیح بخاری وصحیح مسلم)
↑ (طبقات ج2ق2ص40)
↑ (صحیح ترمذی ص224)
↑ (مسند ج6ص98)
↑ (صحیح بخاری ج2ص493،494)
↑ (زرقانی ج3ص276)
↑ (طبری کبیرج3ص2443)
↑ (صحیح بخاری ج2ص764)
↑ (زرقانی ج3ص272)
↑ (ابن سعدج8ص66)
↑ (مسندج6ص389)
↑ (طبقات ابن سعدج6ص317)
↑ (مسندج6ص317)
↑ (ایضاًص312)
↑ (ایضاًص300،301)
↑ (ایضاًص301)
↑ (اصابہ ج8ص241)
↑ (اعلام الموقین ج1ص13)
↑ (مسند احمد ج6ص299، یہ واقعہ صحیح بخاری میں بھی ہے ج2ص239)
↑ (مسنداحمدج6ص303)
↑ (مسنداحمدج6ص306،307)
↑ (ایضاًص306)
↑ (ایضاًص309)
↑ (ایضاًص297)
↑ (مسنداحمدص307ج6)
↑ (ایضاًج6ص319،323)
↑ (ایضاًص389)
↑ (صحیح بخاری ج1ص1198)
↑ (صحیح ترمذی ص530)
↑ (مسندج6ص289)
↑ (ایضاًج6ص301)
↑ (ایضاًص290)
↑ (استیعابج2ص803)
↑ (مسند احمدج6ص296)
↑ (ایضاًص301)
↑ (صحیح مسلم ج2ص241مطبوعہ مصر)

اللہ آپ کو اور مجھے ایمان کی حلاوت نصیب فرمائے اورحقیقی خوشیاں عطا فرمائے اور ہمیں اِن پاک نفوس کی اتباع کی توفیق نصیب فرمائے اور اللہ پاک سے دعا ھے ہر کمی معاف فرما کر ﺫریعہ نجات بناۓ..آمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے