Home / تعلیم و صحت / اقوال خاص

اقوال خاص

انتخاب
محترمہ رابعہ ساہیوال

اقوالِ زریں:1
’’اگر تم اُس وقت مسکرا سکتے ہو جب تُم پوری طرح ٹُوٹ چکے ہو،تو یقین جانوکہ دنیا میں تمہیں کبھی کوئی توڑ نہیں سکتا‘‘

اقوالِ زریں:2
یہ کیسا دور ہے یہاں کوئی اپنے دُکھ سے اِتنا دُکھی نہیں جتنا دُوسرے کے سُکھ سے دُکھی ہے ۔

اقوالِ زریں:3
نفس وہ بھوکا کُتا ہے جو اِنسان سے غلط کام کروانے کے لیے اُس وقت تک بھونکتا رہتا ہے جب تک وہ غلط کام کروا نہ لے، اور جب اِنسان وہ کام کر لیتا ہے تو یہ کُتا سو جاتا ہے لیکن سونے سے پہلے ضمیر جگا جاتا ہے۔

اقوالِ زریں:4
اگر ہم سے غلطی ہو جائے تو اِبلیس کی طرح دلیر نہیں ہو نا چاہیے بلکہ معافی مانگ لینی چاہیے کیونکہ ہم اِبن آدم ہیں ،اِبنِ اِبلیس نہیں۔

اقوالِ زریں:5
میں آج تک اپنی خاموشی پر نہیں پچھتایا، جب بھی پچھتایا اپنے بولنے پر پچھتایا۔

اقوالِ زریں:6
تُو اللہ کی راہ میں مستحق کو بھی دے اور اُس کو بھی دے جو مستحق نہیں،اللہ تجھ کو وہ دے گا جس کا تُو مستحق ہے اور وہ بھی دے گاجس کا تُو مستحق نہیں۔

اقوالِ زریں:7
جسے دیکھو اُسے اپنے سے بہتر سمجھو ، اگرچہ تُم اطاعت گزار ہو اور وہ گناہ گارہو ، ہو سکتا ہے یہ تمھاری آخری اطاعت ہو اور اُس کا آخری گناہ۔

اقوالِ زریں:8
بانٹنے کی عادت ڈالئے۔۔۔ جزبے بھی،چیزیں بھی، خُوشیاں بھی۔

اقوالِ زریں:9
جو اِنسان جتنا خاموش رہتا ہے وہ اپنی عزت کو اِتنا ہی محفوظ رکھتا ہے۔

اقوالِ زریں:10
غریب شخص وہ ہے جس کا کوئی دوست نہیں۔

اقوالِ زریں :11
میری محفوظ ترین پناہ گاہ میری ماں کی آغوش ہے۔

اقوالِ زریں:12
دنیا میں ماں سے زیادہ ہمدرد ہستی کوئی ہے ہی نہیں۔

اقوالِ زریں:13
اِس بات سے ہمیشہ بچنے کی کوشش کروکہ ماں نفرت کرے یا بدعا کے لئے ہاتھ اُٹھائے۔

اقوالِ زریں :14
اللہ تعالیٰ کی چار رحمتیں ہیں جو اِنسان سے برداشت نہیں ہوتیں۔
۱۔بیٹی ۲۔ مہمان ۳۔ بارش ۴۔ بیماری
اللہ تعالیٰ کے چار عذاب ہیں جو اِنسان خوشی سے قبول کر لیتا ہے۔
۱۔ سُود ۲۔ جہیز ۳۔ غیبت ۴۔ جھوٹ

اقوالِ زریں :15
زندگی گزر گئی سب کو خوش کرنے میں ، جو خوش ہوئے وہ اپنے نہ تھے ، جو اپنے تھے وہ کبھی خوش نہ ہوئے۔

اقوالِ زریں :16
جن کا بھروسہ اللہ ہو اُن کی منزل کامیابی ہے۔۔۔

اقوالِ زریں :17
ماں باپ کی دوائی کی پرچی اکثر کھو جاتی ہے لیکن لوگ وصیت کے کاغذات بہت سنبھال کر رکھتے ہیں۔

اقوالِ زریں:18
کچھ باتوں کا جواب صرف خاموشی ہوتی ہے اور خاموشی بہت خوبصورت جواب ہے۔

اقوالِ زریں:19
کبھی کبھار اچھے لوگوں سے بھی غلطیاں ہو جاتی ہیں ، اِس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ برے ہیں۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بھی اِنسان ہیں۔

اقوالِ زریں:20
شیشہ اور رشتہ دونوں نازک ہوتے ہیں مگر ان میں ایک فرق ضرور ہو تا ہے کہ شیشہ غلطی سے ٹوٹتا ہے اور رشتہ غلط فہمی سے۔

اقوالِ زریں:21
کبھی کبھی اپنی خوشیوں کو حاصل کرنے کے لئے جھکنا پڑتا ہے اور وہ جھکنا رائیگاں نہیں ہوتا۔

اقوالِ زریں:22
محبت اور دوستی یہ دو چیزیں ہر طوفان کا مقابلہ کر سکتی ہے مگر ایک چیز اِن دونوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر سکتی ہے اور وہ ہے غلط فہمی۔

اقوالِ زریں:23
جتنی ذہانت کسی کی بات کا جواب دینے کے لیے ضروری ہے اس سے کہی زیادہ ذہانت اس کی بات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے۔

اقوالِ زریں:24
خدا کے نزدیک کسی انسان کی عزت جتنی زیادہ ہوتی جاتی ہے اس کا امتحان بھی اس قدر سخت ہو تا چلا جاتا ہے۔

اقوالِ زریں:25
استاد بادشاہ نہیں ہوتا لیکن بادشاہ بنا دیتا ہے۔

اقوالِ زریں:26
اچھے کے ساتھ اچھے رہو لیکن بُرے کے لیے بُرے مت بنو کیونکہ تم پانی سے خون صاف کر سکتے ہو لیکن خون سے خون نہیں۔

اقوالِ زریں :27
عِلم وہ نہیں جو آپ نے سیکھا ہے ، عِلم تو وہ ہے جو آپ کے عمل و کردار سے ظاہر ہو۔

اقوالِ زریں:28
دوسروں کو بے سکون کرنے والا کبھی سکون نہیں پاسکتا۔

اقوالِ زریں:29
صحیح وقت پر دو لفظ نہ بولے جائیں تووقت گزر جانے کے بعد لمبی کہانیاں سنانا بے کار جاتا ہے۔

اقوالِ زریں:30
ٍ اگر آپ کی نیت اور ضمیر صاف ہے تواس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ لوگ آپ کو اچھا کہیں یا بُرا ، کیونکہ آپ اپنی نیت اور عمل پر جانچے جائیں گے، دوسروں کی سوچ پر نہیں۔!!!!

اقوالِ زریں:31
محنت اتنی خاموشی سے کروکہ تمہاری کامیابی شور مچادے۔

اقوالِ زریں:32
اگر ثابت قدم رہا جائے تو راستے خودبخود بن جاتے ہیں۔

اقوالِ زریں:33
زندگی اُستاد سے زیادہ سخت ہوتی ہے کیونکہ اُستاد سبق دے کر اِمتحان لیتا ہے اور زندگی اِمتحان لے کر سبق دیتی ہے۔

اقوالِ زریں:34
مومن وہ نہیں جس کی محفل پاک ہو ، مومن وہ ہے جس کی تنہائی پاک ہو۔

اقوالِ زریں:35
بد نصیب ہے وہ شخص جو والدین کی خدمت کرکے ان کی دعا نہیں لیتا اور لوگوں سے کہتا پھرتا ہے کہ میرے لیے دعا کرنا۔

اقوالِ زریں:36
’’بد نصیب ہے وہ شخص جس نے ماہ رمضان پایا اور اپنے رب کو راضی نہ کر سکا‘‘

اقوالِ زریں:37
کبھی آنسو ،کبھی سجدے ،کبھی ہاتھوں کا اُٹھ جانا
اِنسان جب ٹوٹ جاتا ہے تو اللہ بہت یاد آتا ہے۔

اقوالِ زریں:38
اگر تم کسی کو چھوٹا دیکھ رہے ہو تو تم اسے دور سے دیکھ رہے ہو یاغرور سے۔

اقوالِ زریں:39-
مشکل وقت میں دلاسہ دینے والا کوئی اجنبی بھی ہو تو وہ دل میں اُتر جاتا ہے اور اُس وقت میں کنارہ کرلینے والا کوئی اپنا ہی کیوں نہ ہو پر دل سے اُتر جاتا ہے۔

اقوالِ زریں:40
سب سے زیادہ جاہل وہ ہے جو گناہ سے باخبر ہوتے ہوئے بھی گناہ کرے۔

اقوالِ زریں:41
سب سے زیادہ مفلِس اور خالی ہاتھ وہ ہے جس کے پاس اعمالِ صالحہ نہ ہوں۔

اقوالِ زریں:42
جو قوم لڑنا نہیں جانتی بہت جلد اُس پر لڑنے والی قوم کی حکومت بن جاتی ہے۔ 

اقوالِ زریں:43
درخت جتنا اُونچا ہو گااُس کا سایہ اُتناہی کم ہو گا،اِس لیے ’اُونچا‘ بننے کی بجائے ’بڑا‘ بننے کی کوشش کرو۔

اقوالِ زریں:44
جس میں یہ تین خوبیاں ہوں ، سمجھ لو کہ خدا اسے اپنا دوست رکھتا ہے۔
۱۔ دریا جیسی سخاوت ۲۔ آفتاب جیسی شفقت ۳۔ زمین جیسی تواضع

اقوالِ زریں:45
بُرائی کی مثال ایسی ہے جیسے پہاڑ سے اُترنا،ایک قدم اُٹھاؤ تو باقی خودبخود اُٹھتے چلے جاتے ہیں اور اچھائی کی مثال ایسی ہے جیسے پہاڑ پر چڑھنا، ہر اگلا قدم پچھلے قدم سے مشکل ہوتاہے مگرہر قدم پر بلندی ملتی ہے۔

اقوالِ زریں :46
جو شخص روکھی سوکھی کھاکر بھی مطمئن رہتا ہے وہ سب سے زیادہ دولت مند ہے کیونکہ اطمینان دنیا کی سب سے بڑی دولت ہے۔

اقوالِ زریں:47
موت کو یاد رکھنا نفس کی تمام بیماریوں کا علاج ہے۔

اقوالِ زریں:48
ماں کی گود سے لے کر قبر کی دیوار تک زند گی کے ہر پہلو پر نظر ڈال کر دیکھ اللہ کے سوا کوئی کام نہیں آتا۔

اقوالِ زریں :49
انسان کا دل توڑنے والا شخص ، اللہ کی تلاش نہیں کر سکتا۔

اقوالِ زریں :50
زندگی کے ہر موڑ پر صلح کرنا سیکھو کیونکہ جھکتا وہی ہے جس میں جان ہوتی ہے اکڑنا تو مردے کی پہچان ہو تی ہے۔

اقوالِ زریں :51
تم کو کس دنیا پر فخر ہے؟ جس کا ’’بہترین مشروب‘‘’’مکھی کا تھوک‘‘ (شہد) ہے اور’’ بہترین لباس‘‘’’کیڑے کا تھوک ‘‘(ریشم )ہے ۔ مجھے اس دنیا سے کیا لینا؟جس کے ’’حلال‘‘ میں ’’حساب‘‘ اور ’’حرام ‘‘ میں ’’عذاب‘‘ہے۔

اقوالِ زریں :52
رشتوں کی خوبصورتی ایک دوسرے کی بات کو برداشت کرنے میں ہے۔بے عیب انسان تلاش کروگے تو اکیلے رہ جاؤ گے۔

اقوالِ زریں :53
قسمت اور بیوی بے شک پریشان کرتی ہیں لیکن جب ساتھ دیتی ہیں ،تو زندگی بدل دیتی ہیں۔

اقوالِ زریں :54
وجود جتنا بھی حسین ہو ، آخر کردار بازی لے ہی جاتاہے۔

اقوالِ زریں:55
گھڑی کی ٹک ٹک کو معمولی نہ سمجھو ، یہ زندگی کے درخت پر کلہاڑی کے وار ہیں۔

اقوالِ زریں :56
محبت سب سے کرو لیکن اس سے اور بھی زیادہ کرو جس کے دل میں تمہارے لیے تم سے بھی زیادہ محبت ہے۔

اقوالِ زریں:57
خوش قسمت اپنے نصیبوں سے پاتا ہے اور بد نصیب اپنی قسمت خود بناتاہے۔

اقوالِ زریں:58
کسی سے اِتنی نفرت نہ کرو کہ کبھی ملنا پڑے تو مل نہ سکواور کسی سے اتنی محبت بھی نہ کرو کہ کبھی تنہا جینا پڑے تو جی نہ سکو۔

اقوالِ زریں :59
حق بات کی پہلی نشانی یہ ہے کہ اس کی مخالفت ہوتی ہے جس کی کوئی مخالفت نہیں وہ قطعاََ حق نہیں۔

اقوالِ زریں:60
آنسو مسکراہٹ سے زیادہ اسپیشل ہوتے ہیں پتہ ہے کیوں ؟ کیونکہ مسکراہٹ تو سب کے لیے ہو تی ہے لیکن آ نسو صرف ان کے لیے ہوتے ہیں جنہیں ہم کبھی کھونا نہیں چاہتے۔۔۔

اقوالِ زریں :61
کسی کا دل مت دُکھاؤ اُس کے آنسو تمہارے لیے سزا بن سکتے ہیں۔

اقوالِ زریں:62
جب زندگی ہنسائے تب سمجھنا کہ اچھے کام کا پھل مل رہا ہے اور جب زندگی رلائے تب سمجھ لیناکہ اچھے کام کرنے کا وقت آگیا ہے۔

اقوالِ زریں:63
جب تمہارے دل میں کسی کے لیے نفرت پیداہونے لگے تواسکے اچھے کام یاد کرو۔

اقوالِ زریں:64
جو ظلم کے ذریعے عزت چاہتا ہے اللہ اسے انصاف کے ذریعے ذلیل کرتا ہے۔

اقوالِ زریں:65
کسی کو دُکھ دینا ایک قرض ہے ، جو آپ کسی اور کے ہاتھوں سے ملے گا۔

اقوالِ زریں:66
ایک دفعہ بولا گیا جھوٹ آپ کی ساری سچائی پر سوالیہ نشان(؟) لگا دیتا ہے۔

اقوالِ زریں:67
ہمیشہ اُس انسان کی بہت عزت کرو جو آپ کو نہایت نا پسند ہو، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ آپ کی عزت کرنے سے اُسکا کردار بدل جائے۔

اقوالِ زریں:68
کسی کو کمزور اور حقیر نہ سمجھو ، کیونکہ راستے میں چھوٹا سا پتھر بھی آپکو منہ کے بل گرا سکتا ہے۔

اقوالِ زریں:69
جو شخص تمہارا غصہ برداشت کر لے اور ثابت قدم رہے تو وہ تمہارا سچا دوست ہے۔

اقوالِ زریں:70
میں رب سے ڈرتا ہوں اور رب کے بعد اس شخص سے ڈرتا ہوں جو رب سے نہیں ڈرتا۔

اقوالِ زریں:71
اتنی محنت سے کپڑے دھو کر رسی پر سکھانے کیلئے ڈال کر مڑا ہی تھا کہ رسی ٹوٹ گئی بہت غصہ آیا لیکن پھر خیال آیا کہ جب ہم اللہ کی رسی کو چھوڑتے ہیں اور گرتے ہیں تو اسی طرح گندے ہو جاتے ہیں۔

اقوالِ زریں:72
بات ہے تو کڑوی مگر ہے سچی کہ آدمی کی غیرت کا اندازہ اسکی عورت کے لباس اور پردے سے لگایا جا سکتا ہے۔

اقوالِ زریں:73
جسے اللہ تعالیٰ اپنی محبت عطا کرتا ہے اسے پھر کسی اور چیز کی خواہش نہیں ہوتی اور جسے وہ دنیا عطا کرتا ہے تو اس کی خواہش اسکی بھوک بن جاتی ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتی۔

اقوالِ زریں:74
جب تک آپ کسی کو معاف نہیں کرتے تب تک آپ نفرت، بدلے اور غصہ کا بوجھ اٹھا کر پھر تے رہتے ہیں۔ کبھی کبھی ہم دوسروں کو معاف ان کیلئے نہیں بلکہ اپنا بوجھ ہلکا کرنے کیلئے بھی کرتے ہیں۔

اقوالِ زریں:75
اگر کچھ بننا چاہتے ہو تو ایک لمحہ بھی فضول باتوں میں ضائع نہ کرو۔

اقوالِ زریں:76
جو شخص اپنے دوست کوبرے کاموں سے نصیحت کے ذریعے باز نہیں رکھ سکتا، وہ دوستی کے قابل نہیں۔

اقوالِ زریں:77
کسی کی مدد کرتے وقت اس کے چہرے کی جانب مت دیکھو، ہو سکتا ہے کہ اس کی شرمسار آنکھیں تمہارے دل میں غرور کا بیج بو دیں۔

اقوالِ زریں:78
جب تم جان لو کہ تم حق پر ہو تو پھر نہ جان کی پرواہ کرو نہ مال کی۔

اقوالِ زریں:79
اعتبار اگر حد سے بے حد ہو جائے تو نقصان دیتا ہے اور جب ٹوٹتا ہے تو اس کی بکھری ہوئی کرچیاں سمیٹتے ہوئے اپنے ہی ہاتھ زخمی ہوتے ہیں۔

اقوالِ زریں:80
فاصلے کبھی بھی رشتے الگ نہیں کرتے اور نزدیکیاں کبھی بھی رشتے نہیں بناتیں، اگر احساس سچے اور پُر خلوص ہوں تو رشتے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔

اقوالِ زریں:81
بھروسہ تو اپنی سانسوں کا نہیں ، اور ہم انسانوں کا کر لیتے ہیں۔

اقوالِ زریں:82
اگر کسی کو ہوا میں چارزانوں بیٹھا دیکھو تب بھی اس کی پیروی اس وقت تک نہ کروجب تک اسکے اعمال قرآن و سنت کے مطابق درست نہ پالو۔

اقوالِ زریں:83
ہم زندگی میں ضرور کامیاب ہونگے ، اگر ہم ان نصیحتوں پر عمل کر لیں جو ہم دوسروں کو کرتے ہیں۔

اقوالِ زریں:84
دنیا آپ کو دیوار سے لگانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی، یہ اب آپ کے اختیار میں ہے کہ آپ اس دیوار سے سر پھوڑیں اور ٹسوے بہائیںیا اس دیوار میں چھید کرکے اس کی دوسری طرف نکل کر دنیا سے بے پرواہ ہو جائیں۔

اقوالِ زریں:85
اگر کوئی تم سے بھلائی کی اُمید رکھے تو اسے مایوس مت کروکیونکہ لوگوں کی ضرورت کا تم سے وابستہ ہونا ، تم پر اللہ کا خاص کرم ہے۔

اقوالِ زریں:86
اے انسان تیری زندگی ایک کتاب ہے ، تو اپنے ہاتھوں سے ایسی کتاب لکھناکہ جسکو پڑھتے ہوئے قیامت کے دن کوئی شرمساری نہ ہو۔

اقوالِ زریں:87
صدقہ فقیر کے سامنے عاجزی سے باادب پیش کرو، کیونکہ خوشدلی سے صدقہ دینا قبولیت کی علامت ہے۔

اقوالِ زریں:88
تین آ دمی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ روز قیامت دیکھے گا بھی نہیں۔
۱۔والدین کا نافرمان۲۔ مستقل شراب پینے والا۳۔ احسان جتانے والا

اقوالِ زریں:89
اپنی سوچ کو پانی کے قطروں سے بھی زیادہ شفاف رکھو، کیونکہ جس طرح قطروں سے دریا بنتا ہے اسی طرح سوچوں سے ایمان بنتا ہے۔

اقوالِ زریں:90
کھجور کی گھٹلی پر ایک باریک سا جھلی نما چھلکا ہوتا ہے جسے قطمیر کہتے ہیں ۔’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان اس کا بھی مالک نہیں ‘‘تو پھر اکڑ کیسی؟

اقوالِ زریں:91
سب انسان مردہ ہیں ، زندہ وہ ہیں جو علم والے ہیں۔ سب علم والے سوئے ہوئے ہیں،بیدار وہ ہیں جو عمل والے ہیں۔ سب عمل والے گھاٹے میں ہیں ، فائدہ میں وہ ہیں جو اخلاص والے ہیں۔سب اخلاص والے خطرے میں ہیں، کامیاب وہ ہیں جو تکبر سے پاک ہیں۔

اقوالِ زریں:92
یہ نہ سوچو کہ اللہ تمہاری دعاکو فوراََ قبول کیوں نہیں کرتا، یہ شُکر کرو کہ وہ تمہارے گناہوں کی سزا فوراََ نہیں دیتا۔

اقوالِ زریں:93
وقت سب کو ملتا ہے زندگی بدلنے کے لیے لیکن کسی کو دوبارہ زندگی نہیں ملتی وقت کو بدلنے کے لیے۔

اقوالِ زریں:94
اے بندے ، جس نے تمہیں بنایا ہے اس سے بہتر تجھے کون سمجھے گا بس اس پر بھروسہ رکھ۔

اقوالِ زریں:95
تین چیزوں کو حاصل کرو ۱۔علم ۲۔ اخلاق ۳۔ شرافت، تین چیزوں کو پاک رکھو ۱۔ جسم ۲۔ لباس ۳۔ خیالات ، تین چیزوں پہ ایمان رکھو ۱۔ توحید ۲۔ رسالت ۳۔ آخرت ، تین چیزوں سے کا م لو ۱۔ عقل ۲۔ ہمت ۳۔ نرمی ، تین چیزوں کے لیے تیار رہو ۱۔ موت ۲۔ زوال ۳۔ غم

اقوالِ زریں:96
دریا نے نہر سے پوچھاکہ کیا تیرا دل نہیں چاہتاکہ تو سمندر بن جائے تو نہر نے جواب دیا کہ بڑا بن کر کھارا ہو جانے سے بہتر ہے کہ میں چھوٹا رہ کر میٹھا رہوں۔

اقوالِ زریں:97
انسان کو اچھی ’’سوچ ‘‘پہ وہ انعام ملتا ہے جو اچھے ’’اعمال ‘‘ پہ بھی نہیں ملتا ۔ کیونکہ سوچ میں دکھاوا نہیں ہوتا۔

اقوالِ زریں:98
کسی مشکل میں کسی بزدل سے کوئی مشورہ مت کرنا، کیونکہ وہ تمہاری بچی ہوئی ہمت کو بھی ختم کردے گا۔

اقوالِ زریں:99
اگر کوئی آپ کو اچھا لگتا ہے تو اچھا وہ نہیں اچھے آپ ہوکیونکہ آپ اُس میں اچھائی تلاش کرتے ہو۔

اقوالِ زریں:100
آسمان پر اُڑتے ہوئے پرندے سے کسی نے پوچھا کہ کیا تمہیں زمین پر گرنے کا ڈر نہیں ؟ پرندے نے جواب دیا’’میں انسان نہیں جو ذرا سی بلندی پر جا کر اکڑ جاؤں، نظریں میری زمین پر ہی ہو تی ہیں۔  

اقوالِ زریں

اقوالِ زریں:1
’’اگر تم اُس وقت مسکرا سکتے ہو جب تُم پوری طرح ٹُوٹ چکے ہو،تو یقین جانوکہ دنیا میں تمہیں کبھی کوئی توڑ نہیں سکتا‘‘

اقوالِ زریں:2
یہ کیسا دور ہے یہاں کوئی اپنے دُکھ سے اِتنا دُکھی نہیں جتنا دُوسرے کے سُکھ سے دُکھی ہے ۔

اقوالِ زریں:3
نفس وہ بھوکا کُتا ہے جو اِنسان سے غلط کام کروانے کے لیے اُس وقت تک بھونکتا رہتا ہے جب تک وہ غلط کام کروا نہ لے، اور جب اِنسان وہ کام کر لیتا ہے تو یہ کُتا سو جاتا ہے لیکن سونے سے پہلے ضمیر جگا جاتا ہے۔

اقوالِ زریں:4
اگر ہم سے غلطی ہو جائے تو اِبلیس کی طرح دلیر نہیں ہو نا چاہیے بلکہ معافی مانگ لینی چاہیے کیونکہ ہم اِبن آدم ہیں ،اِبنِ اِبلیس نہیں۔

اقوالِ زریں:5
میں آج تک اپنی خاموشی پر نہیں پچھتایا، جب بھی پچھتایا اپنے بولنے پر پچھتایا۔

اقوالِ زریں:6
تُو اللہ کی راہ میں مستحق کو بھی دے اور اُس کو بھی دے جو مستحق نہیں،اللہ تجھ کو وہ دے گا جس کا تُو مستحق ہے اور وہ بھی دے گاجس کا تُو مستحق نہیں۔

اقوالِ زریں:7
جسے دیکھو اُسے اپنے سے بہتر سمجھو ، اگرچہ تُم اطاعت گزار ہو اور وہ گناہ گارہو ، ہو سکتا ہے یہ تمھاری آخری اطاعت ہو اور اُس کا آخری گناہ۔

اقوالِ زریں:8
بانٹنے کی عادت ڈالئے۔۔۔ جزبے بھی،چیزیں بھی، خُوشیاں بھی۔

اقوالِ زریں:9
جو اِنسان جتنا خاموش رہتا ہے وہ اپنی عزت کو اِتنا ہی محفوظ رکھتا ہے۔

اقوالِ زریں:10
غریب شخص وہ ہے جس کا کوئی دوست نہیں۔

اقوالِ زریں :11
میری محفوظ ترین پناہ گاہ میری ماں کی آغوش ہے۔

اقوالِ زریں:12
دنیا میں ماں سے زیادہ ہمدرد ہستی کوئی ہے ہی نہیں۔

اقوالِ زریں:13
اِس بات سے ہمیشہ بچنے کی کوشش کروکہ ماں نفرت کرے یا بدعا کے لئے ہاتھ اُٹھائے۔

اقوالِ زریں :14
اللہ تعالیٰ کی چار رحمتیں ہیں جو اِنسان سے برداشت نہیں ہوتیں۔
۱۔بیٹی ۲۔ مہمان ۳۔ بارش ۴۔ بیماری
اللہ تعالیٰ کے چار عذاب ہیں جو اِنسان خوشی سے قبول کر لیتا ہے۔
۱۔ سُود ۲۔ جہیز ۳۔ غیبت ۴۔ جھوٹ

اقوالِ زریں :15
زندگی گزر گئی سب کو خوش کرنے میں ، جو خوش ہوئے وہ اپنے نہ تھے ، جو اپنے تھے وہ کبھی خوش نہ ہوئے۔

اقوالِ زریں :16
جن کا بھروسہ اللہ ہو اُن کی منزل کامیابی ہے۔۔۔

اقوالِ زریں :17
ماں باپ کی دوائی کی پرچی اکثر کھو جاتی ہے لیکن لوگ وصیت کے کاغذات بہت سنبھال کر رکھتے ہیں۔

اقوالِ زریں:18
کچھ باتوں کا جواب صرف خاموشی ہوتی ہے اور خاموشی بہت خوبصورت جواب ہے۔

اقوالِ زریں:19
کبھی کبھار اچھے لوگوں سے بھی غلطیاں ہو جاتی ہیں ، اِس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ برے ہیں۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بھی اِنسان ہیں۔

اقوالِ زریں:20
شیشہ اور رشتہ دونوں نازک ہوتے ہیں مگر ان میں ایک فرق ضرور ہو تا ہے کہ شیشہ غلطی سے ٹوٹتا ہے اور رشتہ غلط فہمی سے۔

اقوالِ زریں:21
کبھی کبھی اپنی خوشیوں کو حاصل کرنے کے لئے جھکنا پڑتا ہے اور وہ جھکنا رائیگاں نہیں ہوتا۔

اقوالِ زریں:22
محبت اور دوستی یہ دو چیزیں ہر طوفان کا مقابلہ کر سکتی ہے مگر ایک چیز اِن دونوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر سکتی ہے اور وہ ہے غلط فہمی۔

اقوالِ زریں:23
جتنی ذہانت کسی کی بات کا جواب دینے کے لیے ضروری ہے اس سے کہی زیادہ ذہانت اس کی بات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے۔

اقوالِ زریں:24
خدا کے نزدیک کسی انسان کی عزت جتنی زیادہ ہوتی جاتی ہے اس کا امتحان بھی اس قدر سخت ہو تا چلا جاتا ہے۔

اقوالِ زریں:25
استاد بادشاہ نہیں ہوتا لیکن بادشاہ بنا دیتا ہے۔

اقوالِ زریں:26
اچھے کے ساتھ اچھے رہو لیکن بُرے کے لیے بُرے مت بنو کیونکہ تم پانی سے خون صاف کر سکتے ہو لیکن خون سے خون نہیں۔

اقوالِ زریں :27
عِلم وہ نہیں جو آپ نے سیکھا ہے ، عِلم تو وہ ہے جو آپ کے عمل و کردار سے ظاہر ہو۔

اقوالِ زریں:28
دوسروں کو بے سکون کرنے والا کبھی سکون نہیں پاسکتا۔

اقوالِ زریں:29
صحیح وقت پر دو لفظ نہ بولے جائیں تووقت گزر جانے کے بعد لمبی کہانیاں سنانا بے کار جاتا ہے۔

اقوالِ زریں:30
ٍ اگر آپ کی نیت اور ضمیر صاف ہے تواس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ لوگ آپ کو اچھا کہیں یا بُرا ، کیونکہ آپ اپنی نیت اور عمل پر جانچے جائیں گے، دوسروں کی سوچ پر نہیں۔!!!!

اقوالِ زریں:31
محنت اتنی خاموشی سے کروکہ تمہاری کامیابی شور مچادے۔

اقوالِ زریں:32
اگر ثابت قدم رہا جائے تو راستے خودبخود بن جاتے ہیں۔

اقوالِ زریں:33
زندگی اُستاد سے زیادہ سخت ہوتی ہے کیونکہ اُستاد سبق دے کر اِمتحان لیتا ہے اور زندگی اِمتحان لے کر سبق دیتی ہے۔

اقوالِ زریں:34
مومن وہ نہیں جس کی محفل پاک ہو ، مومن وہ ہے جس کی تنہائی پاک ہو۔

اقوالِ زریں:35
بد نصیب ہے وہ شخص جو والدین کی خدمت کرکے ان کی دعا نہیں لیتا اور لوگوں سے کہتا پھرتا ہے کہ میرے لیے دعا کرنا۔

اقوالِ زریں:36
’’بد نصیب ہے وہ شخص جس نے ماہ رمضان پایا اور اپنے رب کو راضی نہ کر سکا‘‘

اقوالِ زریں:37
کبھی آنسو ،کبھی سجدے ،کبھی ہاتھوں کا اُٹھ جانا
اِنسان جب ٹوٹ جاتا ہے تو اللہ بہت یاد آتا ہے۔

اقوالِ زریں:38
اگر تم کسی کو چھوٹا دیکھ رہے ہو تو تم اسے دور سے دیکھ رہے ہو یاغرور سے۔

اقوالِ زریں:39-
مشکل وقت میں دلاسہ دینے والا کوئی اجنبی بھی ہو تو وہ دل میں اُتر جاتا ہے اور اُس وقت میں کنارہ کرلینے والا کوئی اپنا ہی کیوں نہ ہو پر دل سے اُتر جاتا ہے۔

اقوالِ زریں:40
سب سے زیادہ جاہل وہ ہے جو گناہ سے باخبر ہوتے ہوئے بھی گناہ کرے۔

اقوالِ زریں:41
سب سے زیادہ مفلِس اور خالی ہاتھ وہ ہے جس کے پاس اعمالِ صالحہ نہ ہوں۔

اقوالِ زریں:42
جو قوم لڑنا نہیں جانتی بہت جلد اُس پر لڑنے والی قوم کی حکومت بن جاتی ہے۔ 

اقوالِ زریں:43
درخت جتنا اُونچا ہو گااُس کا سایہ اُتناہی کم ہو گا،اِس لیے ’اُونچا‘ بننے کی بجائے ’بڑا‘ بننے کی کوشش کرو۔

اقوالِ زریں:44
جس میں یہ تین خوبیاں ہوں ، سمجھ لو کہ خدا اسے اپنا دوست رکھتا ہے۔
۱۔ دریا جیسی سخاوت ۲۔ آفتاب جیسی شفقت ۳۔ زمین جیسی تواضع

اقوالِ زریں:45
بُرائی کی مثال ایسی ہے جیسے پہاڑ سے اُترنا،ایک قدم اُٹھاؤ تو باقی خودبخود اُٹھتے چلے جاتے ہیں اور اچھائی کی مثال ایسی ہے جیسے پہاڑ پر چڑھنا، ہر اگلا قدم پچھلے قدم سے مشکل ہوتاہے مگرہر قدم پر بلندی ملتی ہے۔

اقوالِ زریں :46
جو شخص روکھی سوکھی کھاکر بھی مطمئن رہتا ہے وہ سب سے زیادہ دولت مند ہے کیونکہ اطمینان دنیا کی سب سے بڑی دولت ہے۔

اقوالِ زریں:47
موت کو یاد رکھنا نفس کی تمام بیماریوں کا علاج ہے۔

اقوالِ زریں:48
ماں کی گود سے لے کر قبر کی دیوار تک زند گی کے ہر پہلو پر نظر ڈال کر دیکھ اللہ کے سوا کوئی کام نہیں آتا۔

اقوالِ زریں :49
انسان کا دل توڑنے والا شخص ، اللہ کی تلاش نہیں کر سکتا۔

اقوالِ زریں :50
زندگی کے ہر موڑ پر صلح کرنا سیکھو کیونکہ جھکتا وہی ہے جس میں جان ہوتی ہے اکڑنا تو مردے کی پہچان ہو تی ہے۔

اقوالِ زریں :51
تم کو کس دنیا پر فخر ہے؟ جس کا ’’بہترین مشروب‘‘’’مکھی کا تھوک‘‘ (شہد) ہے اور’’ بہترین لباس‘‘’’کیڑے کا تھوک ‘‘(ریشم )ہے ۔ مجھے اس دنیا سے کیا لینا؟جس کے ’’حلال‘‘ میں ’’حساب‘‘ اور ’’حرام ‘‘ میں ’’عذاب‘‘ہے۔

اقوالِ زریں :52
رشتوں کی خوبصورتی ایک دوسرے کی بات کو برداشت کرنے میں ہے۔بے عیب انسان تلاش کروگے تو اکیلے رہ جاؤ گے۔

اقوالِ زریں :53
قسمت اور بیوی بے شک پریشان کرتی ہیں لیکن جب ساتھ دیتی ہیں ،تو زندگی بدل دیتی ہیں۔

اقوالِ زریں :54
وجود جتنا بھی حسین ہو ، آخر کردار بازی لے ہی جاتاہے۔

اقوالِ زریں:55
گھڑی کی ٹک ٹک کو معمولی نہ سمجھو ، یہ زندگی کے درخت پر کلہاڑی کے وار ہیں۔

اقوالِ زریں :56
محبت سب سے کرو لیکن اس سے اور بھی زیادہ کرو جس کے دل میں تمہارے لیے تم سے بھی زیادہ محبت ہے۔

اقوالِ زریں:57
خوش قسمت اپنے نصیبوں سے پاتا ہے اور بد نصیب اپنی قسمت خود بناتاہے۔

اقوالِ زریں:58
کسی سے اِتنی نفرت نہ کرو کہ کبھی ملنا پڑے تو مل نہ سکواور کسی سے اتنی محبت بھی نہ کرو کہ کبھی تنہا جینا پڑے تو جی نہ سکو۔

اقوالِ زریں :59
حق بات کی پہلی نشانی یہ ہے کہ اس کی مخالفت ہوتی ہے جس کی کوئی مخالفت نہیں وہ قطعاََ حق نہیں۔

اقوالِ زریں:60
آنسو مسکراہٹ سے زیادہ اسپیشل ہوتے ہیں پتہ ہے کیوں ؟ کیونکہ مسکراہٹ تو سب کے لیے ہو تی ہے لیکن آ نسو صرف ان کے لیے ہوتے ہیں جنہیں ہم کبھی کھونا نہیں چاہتے۔۔۔

اقوالِ زریں :61
کسی کا دل مت دُکھاؤ اُس کے آنسو تمہارے لیے سزا بن سکتے ہیں۔

اقوالِ زریں:62
جب زندگی ہنسائے تب سمجھنا کہ اچھے کام کا پھل مل رہا ہے اور جب زندگی رلائے تب سمجھ لیناکہ اچھے کام کرنے کا وقت آگیا ہے۔

اقوالِ زریں:63
جب تمہارے دل میں کسی کے لیے نفرت پیداہونے لگے تواسکے اچھے کام یاد کرو۔

اقوالِ زریں:64
جو ظلم کے ذریعے عزت چاہتا ہے اللہ اسے انصاف کے ذریعے ذلیل کرتا ہے۔

اقوالِ زریں:65
کسی کو دُکھ دینا ایک قرض ہے ، جو آپ کسی اور کے ہاتھوں سے ملے گا۔

اقوالِ زریں:66
ایک دفعہ بولا گیا جھوٹ آپ کی ساری سچائی پر سوالیہ نشان(؟) لگا دیتا ہے۔

اقوالِ زریں:67
ہمیشہ اُس انسان کی بہت عزت کرو جو آپ کو نہایت نا پسند ہو، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ آپ کی عزت کرنے سے اُسکا کردار بدل جائے۔

اقوالِ زریں:68
کسی کو کمزور اور حقیر نہ سمجھو ، کیونکہ راستے میں چھوٹا سا پتھر بھی آپکو منہ کے بل گرا سکتا ہے۔

اقوالِ زریں:69
جو شخص تمہارا غصہ برداشت کر لے اور ثابت قدم رہے تو وہ تمہارا سچا دوست ہے۔

اقوالِ زریں:70
میں رب سے ڈرتا ہوں اور رب کے بعد اس شخص سے ڈرتا ہوں جو رب سے نہیں ڈرتا۔

اقوالِ زریں:71
اتنی محنت سے کپڑے دھو کر رسی پر سکھانے کیلئے ڈال کر مڑا ہی تھا کہ رسی ٹوٹ گئی بہت غصہ آیا لیکن پھر خیال آیا کہ جب ہم اللہ کی رسی کو چھوڑتے ہیں اور گرتے ہیں تو اسی طرح گندے ہو جاتے ہیں۔

اقوالِ زریں:72
بات ہے تو کڑوی مگر ہے سچی کہ آدمی کی غیرت کا اندازہ اسکی عورت کے لباس اور پردے سے لگایا جا سکتا ہے۔

اقوالِ زریں:73
جسے اللہ تعالیٰ اپنی محبت عطا کرتا ہے اسے پھر کسی اور چیز کی خواہش نہیں ہوتی اور جسے وہ دنیا عطا کرتا ہے تو اس کی خواہش اسکی بھوک بن جاتی ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتی۔

اقوالِ زریں:74
جب تک آپ کسی کو معاف نہیں کرتے تب تک آپ نفرت، بدلے اور غصہ کا بوجھ اٹھا کر پھر تے رہتے ہیں۔ کبھی کبھی ہم دوسروں کو معاف ان کیلئے نہیں بلکہ اپنا بوجھ ہلکا کرنے کیلئے بھی کرتے ہیں۔

اقوالِ زریں:75
اگر کچھ بننا چاہتے ہو تو ایک لمحہ بھی فضول باتوں میں ضائع نہ کرو۔

اقوالِ زریں:76
جو شخص اپنے دوست کوبرے کاموں سے نصیحت کے ذریعے باز نہیں رکھ سکتا، وہ دوستی کے قابل نہیں۔

اقوالِ زریں:77
کسی کی مدد کرتے وقت اس کے چہرے کی جانب مت دیکھو، ہو سکتا ہے کہ اس کی شرمسار آنکھیں تمہارے دل میں غرور کا بیج بو دیں۔

اقوالِ زریں:78
جب تم جان لو کہ تم حق پر ہو تو پھر نہ جان کی پرواہ کرو نہ مال کی۔

اقوالِ زریں:79
اعتبار اگر حد سے بے حد ہو جائے تو نقصان دیتا ہے اور جب ٹوٹتا ہے تو اس کی بکھری ہوئی کرچیاں سمیٹتے ہوئے اپنے ہی ہاتھ زخمی ہوتے ہیں۔

اقوالِ زریں:80
فاصلے کبھی بھی رشتے الگ نہیں کرتے اور نزدیکیاں کبھی بھی رشتے نہیں بناتیں، اگر احساس سچے اور پُر خلوص ہوں تو رشتے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔

اقوالِ زریں:81
بھروسہ تو اپنی سانسوں کا نہیں ، اور ہم انسانوں کا کر لیتے ہیں۔

اقوالِ زریں:82
اگر کسی کو ہوا میں چارزانوں بیٹھا دیکھو تب بھی اس کی پیروی اس وقت تک نہ کروجب تک اسکے اعمال قرآن و سنت کے مطابق درست نہ پالو۔

اقوالِ زریں:83
ہم زندگی میں ضرور کامیاب ہونگے ، اگر ہم ان نصیحتوں پر عمل کر لیں جو ہم دوسروں کو کرتے ہیں۔

اقوالِ زریں:84
دنیا آپ کو دیوار سے لگانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی، یہ اب آپ کے اختیار میں ہے کہ آپ اس دیوار سے سر پھوڑیں اور ٹسوے بہائیںیا اس دیوار میں چھید کرکے اس کی دوسری طرف نکل کر دنیا سے بے پرواہ ہو جائیں۔

اقوالِ زریں:85
اگر کوئی تم سے بھلائی کی اُمید رکھے تو اسے مایوس مت کروکیونکہ لوگوں کی ضرورت کا تم سے وابستہ ہونا ، تم پر اللہ کا خاص کرم ہے۔

اقوالِ زریں:86
اے انسان تیری زندگی ایک کتاب ہے ، تو اپنے ہاتھوں سے ایسی کتاب لکھناکہ جسکو پڑھتے ہوئے قیامت کے دن کوئی شرمساری نہ ہو۔

اقوالِ زریں:87
صدقہ فقیر کے سامنے عاجزی سے باادب پیش کرو، کیونکہ خوشدلی سے صدقہ دینا قبولیت کی علامت ہے۔

اقوالِ زریں:88
تین آ دمی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ روز قیامت دیکھے گا بھی نہیں۔
۱۔والدین کا نافرمان۲۔ مستقل شراب پینے والا۳۔ احسان جتانے والا

اقوالِ زریں:89
اپنی سوچ کو پانی کے قطروں سے بھی زیادہ شفاف رکھو، کیونکہ جس طرح قطروں سے دریا بنتا ہے اسی طرح سوچوں سے ایمان بنتا ہے۔

اقوالِ زریں:90
کھجور کی گھٹلی پر ایک باریک سا جھلی نما چھلکا ہوتا ہے جسے قطمیر کہتے ہیں ۔’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان اس کا بھی مالک نہیں ‘‘تو پھر اکڑ کیسی؟

اقوالِ زریں:91
سب انسان مردہ ہیں ، زندہ وہ ہیں جو علم والے ہیں۔ سب علم والے سوئے ہوئے ہیں،بیدار وہ ہیں جو عمل والے ہیں۔ سب عمل والے گھاٹے میں ہیں ، فائدہ میں وہ ہیں جو اخلاص والے ہیں۔سب اخلاص والے خطرے میں ہیں، کامیاب وہ ہیں جو تکبر سے پاک ہیں۔

اقوالِ زریں:92
یہ نہ سوچو کہ اللہ تمہاری دعاکو فوراََ قبول کیوں نہیں کرتا، یہ شُکر کرو کہ وہ تمہارے گناہوں کی سزا فوراََ نہیں دیتا۔

اقوالِ زریں:93
وقت سب کو ملتا ہے زندگی بدلنے کے لیے لیکن کسی کو دوبارہ زندگی نہیں ملتی وقت کو بدلنے کے لیے۔

اقوالِ زریں:94
اے بندے ، جس نے تمہیں بنایا ہے اس سے بہتر تجھے کون سمجھے گا بس اس پر بھروسہ رکھ۔

اقوالِ زریں:95
تین چیزوں کو حاصل کرو ۱۔علم ۲۔ اخلاق ۳۔ شرافت، تین چیزوں کو پاک رکھو ۱۔ جسم ۲۔ لباس ۳۔ خیالات ، تین چیزوں پہ ایمان رکھو ۱۔ توحید ۲۔ رسالت ۳۔ آخرت ، تین چیزوں سے کا م لو ۱۔ عقل ۲۔ ہمت ۳۔ نرمی ، تین چیزوں کے لیے تیار رہو ۱۔ موت ۲۔ زوال ۳۔ غم

اقوالِ زریں:96
دریا نے نہر سے پوچھاکہ کیا تیرا دل نہیں چاہتاکہ تو سمندر بن جائے تو نہر نے جواب دیا کہ بڑا بن کر کھارا ہو جانے سے بہتر ہے کہ میں چھوٹا رہ کر میٹھا رہوں۔

اقوالِ زریں:97
انسان کو اچھی ’’سوچ ‘‘پہ وہ انعام ملتا ہے جو اچھے ’’اعمال ‘‘ پہ بھی نہیں ملتا ۔ کیونکہ سوچ میں دکھاوا نہیں ہوتا۔

اقوالِ زریں:98
کسی مشکل میں کسی بزدل سے کوئی مشورہ مت کرنا، کیونکہ وہ تمہاری بچی ہوئی ہمت کو بھی ختم کردے گا۔

اقوالِ زریں:99
اگر کوئی آپ کو اچھا لگتا ہے تو اچھا وہ نہیں اچھے آپ ہوکیونکہ آپ اُس میں اچھائی تلاش کرتے ہو۔

اقوالِ زریں:100
آسمان پر اُڑتے ہوئے پرندے سے کسی نے پوچھا کہ کیا تمہیں زمین پر گرنے کا ڈر نہیں ؟ پرندے نے جواب دیا’’میں انسان نہیں جو ذرا سی بلندی پر جا کر اکڑ جاؤں، نظریں میری زمین پر ہی ہو تی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے