Home / تعلیم و صحت / خضر کا کام کروں, راہ نما بن جاؤں

خضر کا کام کروں, راہ نما بن جاؤں

انتخاب
بابرالیاس

درد جس دل میں ہو اس دل کی دوا بن جاؤں
کوئی بیمار اگر ہو تو شفاء بن جاؤں
دکھ میں ہلتے ہوۓ لب کی میں دعا بن جاؤں

اف! وہ آنکھیں کہ ہیں بینائی سے محروم کہیں
روشنی جن میں نہیں ,نور جن آنکھوں میں نہیں
میں ان آنکھوں کے لیے نور ؤ ضیا بن جاؤں

ہاۓ! وہ دل جو تڑپتا ہوا گھر سے نکلے
اف! وہ آنسو جو کسی دیدہ تر سے نکلے
میں اس آنسو کے سکھانے کو ہوا بن جاؤں

دور منزل سے اگر راہ تھک جاۓ کوئی
جب مسافر کہیں رستے سے بھٹک جاۓ کوئی
خضر کا کام کروں , راہ نما بن جاؤں

عمر کے بوجھ سے جو لوگ دبے جاتے ہیں
ناتوانی سے جو ہر روز جھکے جاتے ہیں
ان ضعیفوں کے سہارے کو عصا بن جاؤں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے