Home / تعلیم و صحت / سلطان صلاح الدین ایوبی۔۔!!!

سلطان صلاح الدین ایوبی۔۔!!!

انتخاب ؤ ترتیب
بابرالیاس

خلافت راشدہ کے بعد اس سے بہتر اور عظیم لیڈر امت مسلمہ کی کسی ماں نے ابھی تک پیدا نہیں کیا۔
اپنی آخری جنگ میں جب مسلمانوں کے دو غظیم لیڈر شانہ بشانہ تھے یہ اعزاز نورالدین زنگی بھی خود اسے دے چکا ہے کہ شاید میری زندگی مجھ سے وفا نہ کرے مگر یہ زمہ داری تم نے نبھانی ہے جس کو اس مرد مجاہد نے خوب نبھایا۔
اپنا آخری معرکہ اس عظیم انسان کا رچرڈ سے ہوا تھا جو انگلستان سے آیا تھا اور یہ باوجود اس کے ساری فوج پچھلے کئی سال کی مسلسل جنگوں کی وجہ سے بری طرح تھک چکی تھی اس نے رچرڈ شیر دل کو اس کی فوج سمیت اپنے پڑاو سے چند کوس آگے نہیں بڑھنے دیا اور تین سال سے کچھ زیادہ اس کے ساتھ حالت جنگ میں رہا۔
ایک دن رچرڈ کی بہن سلطان کے پاس آئی اور اسے کہا کہ میرا بھائی یعنی رچرڈ بہت بیمار ہے بہت علاج کروائے مگر کوئی فرق نہیں پڑا آپ یہاں کے مقامی ہیں ہماری مدد کریں اس عظیم انسان نے اپنا خصوصی معالج اس کے ساتھ روانہ کیا اور اسے ہدایت دی کہ بے شک وہ دشمن ہے مگر ہم سے مدد کا طلب گار ہے اپنی بہتر کوشش کرنا اسے ٹھیک کرنے کی کیونکہ یہ ہی دین اسلام کی تعلیم ہے۔
کچھ دن بعد جب رچرڈ صحت مند ہو گیا تو سلطان فجر کی نماز کے بعد اپنے گھوڑے پہ بیٹھ کہ اکیلا ہی دشمن کے کیمپوں میں چلا گیا جہاں رچرڈ کی فووج نیم آرام کی حالت میں تھی اس نے کہا کہ رچرڈ سے کہو کہ سلطان ایوبی عیادت کے لئے آیا ہے۔
رچرڈ کی ساری فوج پہ جیسے سناٹا طاری ہو گیا جب یہ خبر رچرڈ کو پہنچی تو وہ خود اپنے خیمے سے باہر خوش آمدید کہنے کے لیے آیا اور پھر اسے اپنے خیمے میں لے گیا
ملاقات کے آخر میں رچرڈ کے الفاظ کچھ یوں تھے۔
سلطان جیسا تمھارے بارے میں سنا تھا اس سے بڑھ کر تجھ کو پایا ہے میں کیا ہم سب غیر مسلم قوتیں مل کر بھی آپ کو شکست نہیں دے سکتے آپ جتنے اچھے جنگجو اور لیڈر ہیں اس سے کہیں زیادہ بلند آپکے اخلاق ہیں اور بہت اچھے انسان ہیں ایسے انسان کو رچرڈ شیر دل کبھی اپنا دشمن کہلوانا پسند نہیں کرے گا آو دوستی کر لیںآخر ہم کب تک لڑیں گے۔
اس بات پہ سلطان نے کہا اگر تم دوستی کی قیمت بیت المقدس مانگو گے تو ہرگز نہیں رچرڈ نے کہا نہیں وہ تمھیں مبارک مگر ہم کو اس دریا کے ساتھ ساتھ ایک بستی قائم کرنے کی اجازے دے دو جہاں پہ یہ عیسائی اور یہودی آباد رہیں گے اور دور سے بیت المقدس کا دیدار کر لیا کریں گئے۔
سالہا سال کی جنگوں اور فوج کی ناگفتہ بہ حالات کی وجہ سے سلطان نے یہ بات مان لی اپنی دیگر شرائط کے ساتھ اور اس کے بعد عیسائیوں کا اس وقت کا سب سے بڑا بادشاہ جو سلطان کی فوج سے پندرہ گناہ بڑا لشکر لے کہ آیا تھا سلطان کا خاتمہ کرنے کے لیے تین سال کے ناکام پڑاو کے بعد ایک دوست بن کے ہمیشہ کے اپنی فوج سمیت دریا کے راستے واپس انگلستان چلا جاتا ہے۔
پھر لگ بھگ آٹھ صدیوں بعد سلطنت عثمانیہ زوال کا شکار ہوتی ہے اور اوائل انیسویں صدی یہ بیت المقدس مسلمانوں سے چھن جاتا ہے اور آج تک یہودیوں کا مسکن ہے۔
امت مسلمہ کو آج پھر ایک سلطان ایوبی کی ضرورت ہے جو اس کی ریزہ ریزہ ٹکڑوں میں بٹی طاقتوں کے شیرازے کو سمیٹ کر اسلام کے جھنڈے تلے جمع کرے اور ایک ناگزیر قوت بنا دے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ایسا بہادر با کردار لیڈر بحثیت مسلمت امہ عطا فرما۔۔۔۔
آمین ثم آمین یا رب العالمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے