Home / تعلیم و صحت / سیرت ازواج مطہرات) درس نمبر ..(3) حصہ دوم( تاریخ اسلام)

سیرت ازواج مطہرات) درس نمبر ..(3) حصہ دوم( تاریخ اسلام)

بسم الله الرحمن الرحيم
تحریر, انتخاب, ترتیب
بابرالیاس… قلمدان ڈاٹ نیٹ
موضوع …مؤمنین کی والدہ(امہات المؤمنین)

عنوان…
سیرت مبارکہ حضرت عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ تعالی عنہا

اسم
حضرت عائشہ بنت ابی بکر (رضی اللہ عنہا)
اُم المومنین، حبیبۃ الرسول، حبیبۃ المصطفیٰ، حبیبۃ الحبیب، المُبرۃ، طیبہ، صدیقہ، مُوَفقہ، اُم عبداللہ، حمیراء،
ولادت
ماہِ شوال 9 سال قبل ہجرت/ ماہِ جولائی 614ء
مکہ مکرمہ، حجاز، موجودہ سعودی عرب
وفات منگل 17 رمضان 58ھ/ 13 جولائی 678ء
(مدت حیات: 64 سال شمسی، 66 سال 11 ماہ قمری)
حجرہ عائشہ، مسجد نبوی، مدینہ منورہ، حجاز، خلافت امویہ، موجودہ سعودی عرب

قابل احترام..
تمام اہل اسلام کے لیے
المقام الرئيسي …
جنت البقیع، مدینہ منورہ، حجاز، موجودہ سعودی عرب
رموز 2210 احادیث، 174 متفق علیہ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) 54 صحیح بخاری میں منفرد، 69 صحیح مسلم میں منفرد۔
نسب * والد: حضرت ابوبکر صدیق
والدہ: حضرت ام رومان
بہن اور بھائی:
عبد الرحمن بن ابی بکر، عبداللہ بن ابی بکر، محمد بن ابی بکر، اسماء بنت ابی بکر، ام کلثوم بنت ابی بکر
شوہر:
پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم (مدت زوجیت 619ء— 8 جون 632ء)
حضرت عائشہ بنت ابی بکر (رضی اللہ عنہا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ہیں۔ آپ کو اُم المومنین کے خطاب سے یاد کیا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد عہد خلفائے راشدین میں آپ کی شخصیت بہت نمایاں نظر آتی ہے۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد 47 سال بقید حیات رہیں اور یہ تمام وہ عرصہ ہے جس میں ابتدائی مسلم فتوحات ہوئیں، مختلف ممالک مملکت اسلامیہ میں داخل ہوئے۔ علم الحدیث میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایات کے بعد سب سے زیادہ روایاتِ حدیث کا ذخیرہ آپ سے ہی روایت کیاگیا ہے۔ آپ عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم، اور عہد خلفائے راشدین کی عینی شاہد بھی تھیں اور مزید برآں آپ نے خلافت امویہ کے ابتدائی 17 سال بھی ملاحظہ فرمائے۔ سنہ 58ھ/ 678ء میں آپ کا اِنتقال مدینہ منورہ میں ہوا۔ آپ کے مناقب و فضائل کثیر ہیں جن سے آپ کی عظمت و شان جلالت مسلم خواتین پر نمایاں ہے۔

نام و القاب

آپ کا نام عائشہ ہے۔خطاب اُم المومنین ہے۔ القاب صدیقہ، حبیبۃ الرسول، المُبرۃ، المُوَفقہ، طیبہ، حبیبۃ المصطفیٰ اور حمیراء ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنت الصدیق سے بھی آپ کو خطاب فرمایا ہے []۔ علاوہ ازیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو یَا عَائشُ کے نام سے بھی خطاب فرمایا ہے۔

کنیت

آپ کی کنیت اُمِ عبداللہ ہے۔ عرب میں کنیت اشراف کی شرافت کا نشان ہے اور چونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی کوئی اولاد نہ تھی، اِس لیے کنیت بھی نہ تھی۔ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ازراہِ حسرت عرض کرنے لگیں کہ اور خواتین نے تو اپنی سابقہ اولادوں کے نام پر اپنی اپنی کنیت رکھ لیں، میں اپنی کنیت کس کے نام پر رکھوں؟۔ فرمایا: اپنے بھانجے عبداللہ کے نام پر []۔ چنانچہ اُسی دن سے آپ کی کنیت اُمِ عبداللہ قرار پائی۔ حضرت عبداللہ اپنے والد زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے نام سے زیادہ مشہور ہیں یعنی حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ، اِن کی والدہ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا ہیں جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں۔

نسب

آپ والد کی طرف سے قریشیہ تیمیہ ہیں اور والدہ کی طرف سے کنانیہ ہیں۔ والد کی طرف سے قبیلہ قریش کی شاخ بنو تمیم سے تعلق ہے اور والدہ کی طرف سے قبیلہ قریش کی شاخ کنانہ سے تعلق ہے۔

والد کی طرف سے نسب یوں ہے:
حضرت عائشہ بنت ابی بکر الصدیق بن ابی قحافہ عثمان بن عامر بن عمر بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک۔ ]

والدہ کی طرف سے نسب یوں ہے:
حضرت عائشہ بنت اُمِ رومان زینب بنت عامر بن عویمر بن عبد شمس بن عتاب بن اذینہ بن سبیع بن وہمان بن حارث بن غنم بن مالک بن کنانہ۔

والد کی طرف سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا نسب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب سے مرہ بن کعب پر آٹھویں پشت پر ملتا ہے اور والدہ کی طرف سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا نسب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب سے مالک بن کنانہ پر گیارہویں پشت پر ملتا ہے .

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نسب یوں ہے :
حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک بن کنانہ۔

حلیہ و ہیئت مبارکہ اور لباس

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا خوش رو اور صاحب جمال تھیں۔ رنگ سفید تھا جس میں سرخی غالب تھی، اِسی لیے لقب حمیراء سے مشہور ہیں [14]۔ نو یا دس سال کی عمر تک آپ بالغ ہوچکی تھیں[]۔ لڑکپن میں دبلی پتلی تھیں [] مگر بعد ازاں فربھی غالب آگئی تو بدن کسی قدر بھاری ہوگیا تھا[1]۔ زہد و قناعت کی وجہ صرف ایک جوڑا لباس کا اپنے پاس رکھتی تھیں، اور اُسی کو دھو دھو کر پہن لیا کرتی تھیں۔[ ایک کرتا جس کی قیمت پانچ درہم تھی اور یہ اُس زمانہ کے لحاظ سے اِس قدر بیش قیمت تھا کہ تقاریب میں دلہن کے واسطے عاریتاً مانگ لیا جاتا۔ [] زعفران میں رنگ کر کپڑے پہن لیا کرتی تھیں۔[]

بعض اوقات سرخ رنگ کا کرتا زیب تن فرماتیں۔[ اکثر سیاہ رنگ کا دوپٹہ استعمال فرماتیں۔[ کبھی کبھی زیور بھی پہن لیا کرتیں، گلے میں یمن کا بنا ہوا خاص قسم کا سیاہ و سفید مہروں کا ہار ہوا کرتا۔[ انگلیوں میں سونے کی انگوٹھیاں بھی پہنا کرتی تھیں۔] طوافِ کعبہ کے دوران میں چہرہ اقدس پر ایک پردہ نقاب جیسا اوڑھ لیا کرتیں تاکہ لوگوں سے پردے میں رہیں۔[] ایک ریشمی چادر آپ کے پاس تھی، بعد ازاں وہ چادر آپ نے اپنے بھانجے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو دے دی۔ یہ ریشمی چادر آپ اوڑھا کرتی تھیں۔آپ فرماتی ہیں : ہم عہد رسالت میں سیراء کے کپڑے پہنا کرتے تھے، سیرا میں کچھ ریشم ہوتا ہے۔[]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی مہندی استعمال فرماتی رہیں اور زعفران میں رنگے ہوئے لباس میں حج اداء کرلیا کرتیں۔[33] حالتِ احرام میں سرخ لباس زیب تن بھی فرماتیں۔[34] تابعی عطاء بن ابی الرباح کہتے ہیں کہ میں اور عبید بن عمیر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا جایا کرتے تھے جبکہ آپ کوہِ ثبیر پر ٹھہری ہوئی تھیں (یعنی موسم حج میں) ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء سے پوچھا: اُس دِن آپ کا پردہ کیا تھا؟ فرمایا: آپ اُس وقت اپنے ترکی خیمہ میں تھیں اور ہمارے اور آپ کے درمیان میں خیمہ کی قناتیں حائل تھیں لیکن میں نے دیکھا کہ آپ زعفران میں رنگا ہوا کرتا پہنے ہوئے ہیں، اُس وقت میں بچہ تھا۔ [

سر اقدس پر اکثر خوشبو لگا لیا کرتیں۔ خود فرماتی ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ یوئے حتیٰ کہ ہم مقام قاحہ میں پہنچے تو میرے سر سے زردی بہہ کر چہرے پر آئی کیونکہ میں نے روانہ ہونے سے قبل سر پر خوشبو لگائی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب تمہارا رنگ بڑا پیارا ہے۔[

تابعی اسحٰق اعمیٰ جو نابینا تھے، کہتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، آپ نے مجھ سے پردہ کیا، میں بولا: آپ مجھ سے پردہ کرتی ہیں حالانکہ میں آپ کو دیکھ نہیں سکتا۔ آپ نے فرمایا: اگر تم مجھے نہیں دیکھتے تو میں تو تمہیں دیکھتی ہوں۔]

والدین

آپ کے والد حضرت ابوبکر صدیق ابن ابی قحافہ عثمان رضی اللہ عنہ ہیں جو سب سے پہلے اسلام لائے اور اُن کا اِنتقال بروز پیر 22 جمادی الثانی 13ھ مطابق 22 اگست 634ء کو 63 سال کی عمر میں مدینہ منورہ میں ہوا، تب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی عمر مبارک قریباً 22 سال تھی۔

آپ کی والدہ حضرت ام رومان زینب بنت عامر ہیں جن کا سنہ وفات اختلافی ہے۔ بعض مورخین کے مطابق حضرت ام رومان رضی اللہ عنہا کی وفات حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ہوئی۔ بعض مورخین نے اُن کا سال وفات 5ھ اور 6ھ بھی لکھا ہے، معتبر احادیث کی روشنی میں یہ صریحاً غلط معلوم ہوتا ہے کیونکہ 6ھ میں پیش آنے والے واقعہ اِفک میں اُن کی موجودگی کا پتہ چلتا ہے اور اِس سلسلے میں تمام روایات میں اِن کا نام آیا ہے۔ 9ھ میں پیش آنے والے واقعہ تخییر کے وقت بھی وہ زِندہ تھیں۔ صحیح بخاری میں تو مسروق تابعی کی روایت حضرت ام رومان سے متصلاً مروی ہے۔ امام بخاری نے تاریخ الصغیر میں اِن کا نام اُن لوگوں میں لکھا ہے جنہوں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں وفات پائی اور پہلی روایت یعنی 5ھ اور 6ھ پر اعتراض کیا ہے۔یہ بھی مصدقہ ہے کہ حضرت ام رومان رضی اللہ عنہا کی وفات بعہد نبوی میں نہیں ہوئی، ایسا کسی روایت میں نہیں ملتا۔ الحافظ ابن حجر عسقلانی نے تہذیب التہذیب میں اِس پر محققانہ نقد لکھا ہے اور ثابت کیا ہے کہ امام بخاری کا بیان بالکل صحیح ہے ۔امام بخاری کے بیان کے مطابق حضرت ام رومان رضی اللہ عنہا کی وفات غالباً ماہِ ربیع الاول 11ھ مطابق جون 632ء سے ماہِ جمادی الثانی 13ھ مطابق اگست 634ء کے وسطی زمانہ میں ہوئی جو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا عہد خلافت ہے۔
ولادت

آپ کی ولادت بعثت کے پانچویں سال ماہِ شوال المکرم مطابق ماہِ جولائی 614ء بمقام مکہ مکرمہ، حجاز مقدس میں ہوئی ]۔ ابن سعد نے طبقات میں آپ کی ولادت نبوت کے چوتھے سال کے آغاز میں لکھی ہے مگر پہلی روایت پر تمام مورخین کا اتفاق ہے۔ آپ بحالتِ مسلمانی پیدا ہوئیں ہیں کیونکہ آپ کے والد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ کی ولادت سے قریباً پانچ سال قبل اسلام لے آئے تھے۔ آپ کا بچپن مکہ مکرمہ میں ہی گزرا۔ اور قریباً 9 سال کی عمر میں ہجرت کرکے مدینہ منورہ لائی گئیں۔

بچپن

غیر معمولی اشخاص اپنے بچپن میں ہی اپنی حرکات و سکنات اور نشوونما میں ممتاز ہوتے ہیں، اُن کے ایک ایک خط و خال میں کشش ہوتی ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بچپن بھی روشن اور سعادت مندی سے بھرپور گزرا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو لڑکپن میں کھیل کود کا شوق تو تھا مگر دو شوق مرغوب تھے: گڑیاؤں سے کھیلنا اور جھولا جھولنا۔[

گڑیائیں تو مدت مدید تک آپ کے پاس رہیں۔ سنن ابوداؤد کی ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ غزؤہ خیبر یا غزؤہ تبوک سے واپسی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے پاس گڑیائیں دیکھیں تھیں جو ایک طاق میں رکھی ہوئی تھیں اور اُن کھلونوں میں ایک پروں والا گھوڑا بھی تھا۔[42] اگر یہ روایت غزؤہ خبیر (محرم 7ھ) سے متعلق ہے تو غالباً اُس وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا 14 برس کی تھیں اور اگر یہ روایت غزؤہ تبوک (رجب 9ھ) سے متعلق ہے تو اُس وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ساڑھے 16 برس کی تھیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا خود بیان ہے کہ: میں گڑیاؤں سے کھیلتی تھی۔

آپ فرماتی ہیں کہ:
“میں گڑیاؤں سے کھیلا کرتی تھی، بعض اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آتے اور میرے پاس چھوٹی چھوٹی بچیاں بیٹھی ہوتی تھیں، جب آپ داخل ہوتے تو وہ بچیاں باہر نکل جاتیں اور جب آپ تشریف لے جاتے تو وہ داخل ہوجاتیں (یعنی میرے پاس واپس آ جاتیں)۔” [

رخصتی کے بعد بھی آپ گڑیاؤں سے کھیلا کرتی تھیں، خود بیان فرماتی ہیں کہ: رخصتی کے بعد بھی میں بچیوں کے ساتھ گڑیاؤں سے کھیلا کرتی تھی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے تو آپ سے میری سہیلیاں چھپ جاتیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے ہٹ کر اُنہیں بھیج دیا کرتے تھے (یعنی جب میرے پاس سے چلے جاتے تو میری سہیلیوں کو واپس میرے پاس بھیج دیتے)۔[] بعض اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے کہہ دیا کرتے: اپنی اپنی جگہ پر رہو۔[ عروہ بن زبیر تابعی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ: میں عہد رسالت میں گڑیاؤں سے کھیلا کرتی تھی۔[] آپ فرماتی ہیں کہ: میری گڑیائیں تھیں، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لاتے تو میں ان پر کپڑا ڈال دیا کرتی تھی۔ [] جھولا جھولنے سے متعلق کئی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو جھولا جھولنا مرغوب تھا۔ سنن ابوداؤد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح سے تھوڑی دیر قبل تک آپ جھولا جھول رہی تھیں۔[ اور جھولا جھولنے میں اکثر آپ کی سانس پھول جایا کرتی۔[]

عموماً ہر زمانہ کے بچوں کا وہی حال ہوتا ہے جو آج کل کے بچوں کا ہے کہ سات یا آٹھ سال کی عمر تک تو اُنہیں کسی بات کا مطلق بھی ہوش نہیں رہتا اور نہ ہی وہ کسی بات کی تہہ تک ہی پہنچ سکتے ہیں لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا لڑکپن میں بھی ایک ایک بات یاد رکھتی تھیں، اُن باتوں کی روایت بھی کردیا کرتی تھیں اور اُن سے اکثر احکام بھی اِستنباط فرما لیا کرتیں۔ لڑکپن کے جزئی جزئی واقعات کی مصلحتوں کو بیان فرمایا کرتیں۔ اِسی زمانہ میں اگر کھیل کود کے دوران میں کوئی سن لیتیں تو اُس کو یاد رکھتی تھیں۔

خود حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ: مکہ مکرمہ میں جب یہ آیت بَلِ السَّاعَۃُ مَوْعِدُھُمْ وَ السَّاعَۃُ اَدْھٰی وَ اَمَرُّ نازل ہوئی تو میں (اُس وقت) بچی تھی اور کھیل رہی تھی۔[] یہ سورۃ القمر کی آیت 46 ہے اِس کا ترجمہ یہ ہے: ” اصل میں اُن کے وعدے کا وقت تو قیامت ہے اور قیامت بڑی سخت اور بہت تلخ ہوگی۔”
ہجرت کے وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا سن محض 8 سال کا تھا مگر اِس کم سنی اور کم عمری میں ہوش مندی اور قوتِ حافظہ کا یہ حال تھا کہ ہجرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام واقعات بلکہ جزئیات بھی یاد تھیں، آپ سے بڑھ کر کسی صحابی نے ہجرت کے واقعات کا تمام مسلسل بیان محفوظ نہیں رکھا۔ امام بخاری نے صحیح بخاری میں باب الہجرۃ کے تحت اِن تمام روایات کو نقل کردیا ہے۔

نکاح

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی زوجہ حضرت خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا ہیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت میں آئیں تو اُس وقت اُن کا سن 40 سال کا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سن مبارک 25 سال کا تھا۔ اور حضرت خدیجہ بنت خویلد مزید 25 سال تک شرفِ زوجیت میں رہیں۔ ماہِ رمضان 10 نبوی مطابق اپریل 619ء میں حضرت خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا نے 65 سال کی عمر میں مکہ مکرمہ میں وفات پائی۔ اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سن 50 سال تھا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غمگین رہنے لگے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا اپنے شوہر کے ہمراہ ہر موقع پر ساتھ دیتی رہیں، آپ کے ساتھ ہمدردی کرتی رہیں، مصائب میں آپ کا ہاتھ بٹاتی رہیں، سب سے پہلے آپ کے رسول و نبی ہونے کا اقرار کیا، ایسی غمگسار اور رفیق زوجہ کی جدائی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت ملول رہا کرتے، بلکہ تنہائی کے غم میں زندگی میں دشواری آنے لگی۔

جانثاران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت فکر لاحق ہوئی، مشہور صحابی حضرت عثمان بن مظعون (متوفی 2ھ/ 624ء) کی زوجہ حضرت خولہ رضی اللہ عنہا بنت حکیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ دوسرا نکاح کرلیں۔ آپ نے فرمایا: کس سے؟ خولہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: بیوہ اور کنواری دونوں طرح کی لڑکیاں موجود ہیں، جس کو آپ پسند فرمائیں اُسی کے متعلق گفتگو کی جائے۔ فرمایا: وہ کون ہیں؟ خولہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بیوہ تو سودہ بنت زمعہ ہیں اور کنواری ابوبکر ( رضی اللہ عنہ) کی بیٹی عائشہ (رضی اللہ عنہا)۔ ارشاد ہوا: بہتر ہے تم اِن کی نسبت گفتگو کرو۔ حضرت خولہ رضی اللہ عنہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی پا کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھر آئیں اور اُن سے تذکرہ کیا۔ دورِ جاہلیت میں دستور تھا کہ جس طرح سگے بھائیوں کی اولاد سے نکاح جائز نہیں، اِسی طرح عرب اپنے منہ بولے بھائی کی اولاد سے بھی شادی نہیں کیا کرتے تھے۔ اِس بناء پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: خولہ! عائشہ (رضی اللہ عنہا) تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بھتیجی ہے، آپ سے اُس کا کیونکر نکاح ہوسکتا ہے؟ حضرت خولہ رضی اللہ عنہا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اِستفسار کیا تو آپ نے فرمایا: ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے دینی بھائی ہیں اور اِس قسم کے بھائیوں سے نکاح جائز ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو جب یہ معلوم ہوا تو اُنہوں نے قبول کرلیا۔

لیکن اِس سے قبل حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی نسبت جبیر بن مطعم کے بیٹے سے ہوچکی تھی، اِس لیے اُن سے پوچھنا بھی ضروری تھا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جبیر سے جا کر پوچھا کہ تم نے عائشہ (رضی اللہ عنہا) کی نسبت اپنے بیٹے سے کی تھی، اب کیا کہتے ہو؟ جبیر نے اپنی بیوی سے پوچھا۔ جبیر بن مطعم کا خاندان ابھی اسلام سے آشنا نہیں ہوا تھا، اُس کی بیوی نے کہا: اگر یہ لڑکی (یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) ہمارے گھر آگئی تو ہمارا بچہ بے دِین ہوجائے گا (یعنی بت پرستی چھوڑ دے گا)، ہم کو یہ بات منظور نہیں۔

نکاح کے وقت عمر6سال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح ہوا تو تب آپ کی عمر 6 سال تھی۔ یہ نکاح ماہِ شوال 10 نبوی مئی 619ء میں ہوا۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سن 49 سال 7 ماہ تھا۔ یہ ہجرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے تین سال قبل کا واقعہ ہے۔ آپ کا مہر 500 درہم تھا۔ آپ کی رخصتی ہجرت کے پہلے سال ماہِ شوال 1ھ/ اپریل 623ء میں عمل میں آئی۔ اُس وقت آپ کی عمر مکمل 9 سال تھی۔تابعی عروہ بن زبیر (جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے ہیں) نے آپ سے نکاح کے متعلق پوچھا تو بیان فرمایا کہ: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے نکاح کیا تو میں بچیوں کے ساتھ کھیل رہی تھی، مجھے معلوم نہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے نکاح کرلیا ہے حتیٰ کہ مجھے میری والدہ پکڑ کر گھر میں لے گئیں اور گھر ہی مجھے روک دیا، اب مجھے خیال آیا کہ میرا نکاح ہوگیا ہے۔ میں نے اِس بارے میں اپنی والدہ سے نہیں پوچھا، ہاں اُنہوں نے خود ہی مجھے بتادیا کہ تمہارا نکاح ہوگیا ہے۔

تابعیہ عمرہ بنت عبدالرحمٰن (جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی بھتیجی ہیں) نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، آپ فرماتی تھیں کہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شوال 10 نبوی میں ہجرت سے تین سال قبل نکاح کیا، اُس وقت میں 6 سال کی تھی [59]، پھر آپ ہجرت کرکے مدینہ منورہ پیر کے دن 12 ربیع الاول کو آئے اور ہجرت سے آٹھویں ماہ میں آپ نے مجھ سے بیاہ کیا (یعنی رخصتی) اور خلوت کے وقت میں 9 سال کی تھی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ ماہ ربیع الاول 1ھ کو پہنچے اور ربیع الاول سے آٹھواں مہینہ شوال ہوتا ہے ۔جس کے مطابق یہ رخصتی ماہِ شوال 1ھ/ اپریل 623ء میں عمل میں آئی اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک 53 سال 10 ماہ تھی۔ اِس لحاظ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں 9 سال 6 ماہ رہیں۔

بکثرت احادیث میں آیا ہے کہ نکاح سے قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں دیکھا کہ ایک فرشتہ ریشم کے کپڑے میں لپیٹ کر آپ کے سامنے کوئی چیز پیش کر رہا ہے، پوچھا: کیا ہے؟ جواب دیا کہ آپ کی زوجہ ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے کھول کر دیکھا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: میں تم کو دو بار خواب میں دیکھ چکا ہوں، میں نے دیکھا کہ ایک شخص ریشمی کپڑے میں تم کو میرے پاس لایا ہے اور کہہ رہا ہے: یہ آپ کی اہلیہ ہیں، اِن کا پردہ اُٹھا کر دیکھئیے، میں نے پردہ اُٹھا کر دیکھا تو تم تھیں۔ میں نے کہا: اگر یہ اللہ کے پاس سے ہے تو اللہ اِسے ضرور نافذ فرما دے گا۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ: حضرت جبرئیل امین علیہ السلام ریشم کے سبز کپڑے میں (لپٹی ہوئی) اُن کی تصویر لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ دنیاء و آخرت میں آپ کی اہلیہ ہیں۔ [63] آپ فرماتی ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ: میں نے خواب میں تمہیں دو بار دیکھا، میں نے فرمایا کہ تم ریشمی کپڑوں میں لپٹی ہوئی ہو اور مجھے کہا گیا کہ یہ آپ کی بیوی ہیں۔ سو پردہ ہٹا کر دیکھیے، جب میں نے دیکھا تو تم ہی تھی۔ تو میں نے کہا: اگر یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تو وہ ایسا کرکے ہی رہے گا۔

کم سنی کی شادی کے حوالے سے سید سلیمان ندوی کہتے ہیں:

کم سنی کی اِس شادی کا اصل منشاء نبوت اور خلافت کے درمیان میں تعلقات کی مضبوطی تھی۔ ایک تو عرب کی گرم آب و ہوا میں خواتین کی غیر معمولی نشوونماء کی طبعی صلاحیت موجود ہے، دوسرے عام طور پر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جس طرح ممتاز اشخاص کے دماغی اور ذہنی قویٰ میں ترقی کی غیر معمولی استعداد ہوا کرتی ہے، اِسی طرح قد و قامت میں بھی بالیدگی کی خاص قابلیت ہوتی ہے، انگریزی میں اِسے Precocious بھی کہتے ہیں۔ بہرحال اِس کمسنی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اپنی زوجیت میں قبول کرنا اِس بات کی صریح دلیل ہے کہ لڑکپن سے اُن میں نشوونماء، ذکاوت، جودتِ ذہن اور نکتہ رسی کے آثار نمایاں تھے۔

نکاح لڑکپن میں
بہت سے مسلمان مصنفین نے حضرت عائشہ کی عمر کا حساب اُن کی بہن حضرت اسماء کی عمر کی معلومات سے بھی نکالا ہے۔ جس کے مطابق شادی کے وقت اُن کی عمر 13، 17 یا 19 سال کے درمیان تھی۔ محمد نکنام عرب شاہی، جو ایرانی اسلامی محقق اور تاریخ دان ہیں، نے 6 مختلف طریقوں سے بیان کیا ہے کہ منگنی کے وقت حضرت عائشہ کی عمر 17 یا 19 سال اور رخصتی کے وقت 20 یا 22 سال تھی۔[] حضرت فاطمہ کی عمر کو بنیاد بنا کر لاہور احمدیہ تحریک کے محقق محمد علی نے اندازا لگایا ہے کہ نکاح کے وقت حضرت عائشہ کی عمر 10 سال سے زیادہ اور رخصتی کے وقت 15 سال سے زیادہ تھی۔

اللہ آپ کو اور مجھے ایمان کی حلاوت نصیب فرمائے اورحقیقی خوشیاں عطا فرمائے اور ہمیں اِن پاک نفوس کی اتباع کی توفیق نصیب فرمائے اور اللہ پاک سے دعا ھے ہر کمی معاف فرما کر ﺫریعہ نجات بناۓ..آمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے