Home / تعلیم و صحت / سیرت عشرہ مبشرہ رضی اللہ تعالی ( سبق نمبر 10)

سیرت عشرہ مبشرہ رضی اللہ تعالی ( سبق نمبر 10)

بسم الله الرحمن الرحيم
تحریر
بابرالیاس
عنوان
سیرت مبارکہ حضرت ابوعبیدہ ابن جراح
تخطيط اسم
أبو عبيدة بن الجراح
ضريح ابو عبيدہ بن الجراح الاغوار الوسطى اردن
اہم معلومات
پورا نام عامر بن عبد الله بن الجراح بن ہلال بن اہيب بن ضبہ بن الحارث بن فہر بن مالك بن النضر بن كنانہ بن خزيمہ بن مدركہ بن الياس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان القرشی الفہری المكی۔
نسب الفہری القرشی
تاريخ ولات نحو 40 قبل ہجری/ 584ء
مقام ولادت مكہ
تاريخ وفات 18ھ / 639ء
مقام وفات مات بطاعون عمواس بغور الأردن
مقام دفن غور الأردن
نسبی رشتے والد عبد الله بن الجراح بن ہلال:
والدہ: اميمہ بنت عثمان بن جابر
پیشہ عينہ عمر قائدا عاما على جيوش الشام
اسلام میں
جنگیں غزوہ بدر، غزوہ احد
اہم واقعات
فتح الشام کے چار رہنماؤں میں سے ایک
فرمان نبوی
إن لكل أمة أمينا وأمين هذه الأمة أبو عبيدة بن الجراح
خصوصیت
غزوہ احد، عشرہ مبشرہ، امین امت

سیدنا ابو عبیدہ عامر بن عبداللہ الجراح القرشی النہری المکیؓ سابقین اولین میں سے ہیں۔ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا:
((إن لکلّ أمۃٍ أمینًا و إنّ أمیننا أیتھا الأمۃ أبو عبیدۃ بن الجراح))

بے شک ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اے (میرے) امتیو! بے شک ہمارا امین ابو عبیدہ بن الجراح (رضی اللہ عنہ) ہیں۔(صحیح بخاری: ۳۷۴۴ و صحیح مسلم: ۲۴۱۹)
سیدنا حذیفہ بن الیمانؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے نجرانیوں (کے وفد) سے فرمایا تھا:((لأبعثنّ إلیکم رجلاً أمینًا حق أمین، حق أمین)) میں تمھاری طرف ایسا آدمی بھیجوں گا جو حقیقی معنوں میں امین ہے ، امین ہے ۔ پھر آپ(ﷺ) نے لوگوں (اپنے صحابہ کرامؓ) کو دیکھا پھر ابوعبیدہ بن الجراح (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کو روانہ کیا۔ (صحیح مسلم: ۲۴۲۰ و اللفظ لہ ، صحیح بخاری: ۳۷۴۵)
سیدنا حذیفہؓ ہی سے روایت ہے : رسول اللہ ﷺ کے پاس نجران سے عاقت اور سید (دو عیسائی) آئے ۔ وہ آپ سے مباہلہ کرنے چاہتے تھے تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا : ایسا نہ کر، اللہ کی قسم ! اگر وہ نبی ہوئے اور ہم نے مباہلہ کرلیا تو ہم اور ہماری اولاد کبھی کامیاب نہ رہے گی۔ انھوں نے کہا :”آپ جو چاہتے ہیں ہم آپ کو دیتے ہیں۔ آپ ہمارے ساتھ ایک امین آدمی بھیج دیں، امین (امانت دار) کے سوا دوسرا کوئی شخص نہ بھیجیں۔ “
آپ ﷺنے فرمایا: میں تمہارے ساتھ وہ امین بھیجوں گا جو حقیقی معنوں میں امین ہے ۔ صحابہ کرامؓ کو دیکھنے لگے تو آپ نے فرمایا: ابوعبیدہ بن جراح اٹھ کر کھڑے ہوجاؤ۔ جب وہ کھڑے ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ اس امت کے امین ہیں۔ (صحیح بخاری: ۴۳۸۰)
سیدنا انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس یمن والے (مسلمان) آئے تو کہا:“ابعث معنا رجلاً یعلّمنا السنۃ والإسلام“ آپ ہمارے ساتھ ایسا آدمی بھیجیں جو ہمیں سنت اور اسلام سکھائے ۔ آپ(ﷺ) نے ابوعبیدہ(رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: یہ اس امت کے امین ہیں۔ (صحیح مسلم: ۲۴۱۹/۵۴ و ترقیم دارالسلام: ۶۲۵۳)
جسے رسول اللہ ﷺ حقیقی معنوں میں امین قرار دیں، ان کی کتنی عظیم شان ہے۔ ! اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرامؓ لوگوں کو قرآن و سنت سکھاتے تھے اور یہی دینِ اسلام ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے زبان وحی سے فرمایا: ((وأبو عبیدۃ بن الجراح فی الجنۃ)) اور ابوعبیدہ بن الجراح جنتی ہیں۔
(سنن الترمذی: ۳۷۴۷ و سندہ صحیح، ماہنامہ الحدیث: ۱۹ص ۵۶)
عبداللہ بن شقیقؒ سے روایت ہے کہ میں نے (سیدہ) عائشہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ کے صحابیوں میں سے کون آپ (ﷺ) کو زیادہ محبوب تھا؟انہوں نے فرمایا : ابوبکر ، میں نے پوچھا: پھر کون (زیادہ محبوب) تھا؟ انہوں نےفرمایا: عمر، میں نے پوچھا: پھر کون (زیادہ محبوب) تھا؟ انہوں نے فرمایا: ابوعبیدہ بن الجراح ۔ میں نے پوچھا : پھر کون؟ تو آپ (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) خاموش ہوگئیں۔ (سنن الترمذی: ۳۶۵۷ وقال :”ھذا حدیث حسن صحیح” سنن ابن ماجہ: ۱۰۲ وسندہ صحیح)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ((نعم الرجل أبوبکر، نعم الرجل عمر، نعم الرجل أبوعبیدۃ بن الجراح، نعم الرجل أسید بن حضیر، نعم الرجل ثابت بن قیس بن شماس، نعم الرجل معاذ بن جبل، نعم الرجل معاذ بن عمرو بن الجموح))
ابوبکر (صدیق) اچھے آدمی ہیں، عمر اچھے آدمی ہیں، ابو عبیدہ بن الجراح اچھے آدمی ہیں، اسید بن حضیراچھے آدمی ہیں، ثابت بن قیس بن شماس اچھے آدمی ہیں، معاذ بن جبل اچھے آدمی ہیں (اور) معاذ بن عمرو بن الجموح اچھے آدمی ہیں۔ (مسند احمد ج ۲ ص ۴۱۹ ح ۹۴۳۱ وسندہ صحیح، سنن الترمذی: ۳۷۹۵ وقال:”ھذا حدیث حسن”)
سیدنا ابوعبیدہ الجراحؓ اس لشکر کے امیر تھے جنہیں نبی ﷺ نے جہاد کے لئے بھیجا تھا۔اس لشکر کو سمندر کے پاس ایک بڑی مچھلی مردہ حالت میں ملی تھی جس کا گوشت صحابہ کرام کئی دنوں تک کھاتے رہے بلکہ رسولِ کریم ﷺ نے بھی اس گوشت میں سے کھایا تھا۔ دیکھئے صحیح بخاری (۴۳۶۱،۴۳۶۰) و صحیح مسلم (۱۹۳۵) ایک دفعہ سیدنا عمرؓ نے فرمایا: میں یہ چاہتا ہوں کہ ابوعبیدہ بن الجراح جیسے لوگوں سے یہ گھر بھرا ہوا ہوتا ۔ (حلیۃ الاولیاء ج ۱ص ۱۰۲ و سندہ حسن)
آپ اٹھارہ ہجری (۱۸؁ھ) کو طاعون عمواس میں بیمار ہوئے اور انتہائی صبر و استقلال کا مظاہرہ کیا۔ دیکھئے کتاب الزہد لابن المبارک (ح ۸۸۲ و سندہ حسن، الحارث بن عمیرۃ الزبیدی الحارثی صدوق) اسی بیماری میں آپ ۱۸؁ھ کو اٹھاون (۵۸) سال کی عمر میں فوت ہوئے ۔رضی اللہ تعالیٰ عنہ
ابن سعد کہتے ہیں:”رسول اللہ ﷺ کے دارالارقم میں تشریف لے جانے سے پہلے ابوعبیدہ مسلمان ہوئے اور حبشہ کی طرف ہجرت کے دوسرے سفر میں ہجرت فرمائی پھر (مدینہ) واپس آئے تو بدر، احد، خندق اور تمام غزوات میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شریک رہے ” (طبقات ابن سعد ۳۸۴/۷) عشرہ مبشرہ میں سے آخری جلیل القدر صحابی کا تذکرہ ختم ہوا۔
جس طرح اللہ کے رسول: محمد ﷺ تمام کائنات میں بے مثل وبے نظیر تھے۔صرف رُویت کے لحاظ سے بھی ایک عام صحابی کے درجے کو صحابہ کے بعد امت میں سے کوئی شخص نہیں پہنچ سکتا ۔ اللہﷻ سے دعاہے کہ وہ ہمارے دلوں کو سیدنا ابو عبیدہ بن الجراح اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی محبت سے بھر دے ۔ آمین

ابوعبیدہ ابن الجراح جنہیں دربار رسالت سے امین الملت کا خطاب ملا قبیلہ فہر سے متعلق تھے۔ جو قریش کی ایک شاخ تھی۔ اصل نام عامر بن عبداللہ تھا۔ ہجرت مدینہ کے وقت عمر 40 سال تھی۔ بالکل ابتدائی زمانے میں مشرف باسلام ہوئے۔ دیگر مسلمانوں کی طرح ابتدا میں قریش کے مظالم کا شکار ہوئے۔ حضور سے اجازت لے کر حبشہ ہجرت کر گئے لیکن مکی دور ہی میں واپس لوٹ آئے ۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے چند روز قبل اذن نبی سے مدینہ کی طرف ہجرت کی اور حضور کی آمد تک قبا میں قیام کیا۔ مواخات مدینہ میں معزز انصاری صحابی ابوطلحہ کے بھائی بنائے گئے ۔ بے مثال خدمات اسلام کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جن صحابہ کو دنیا میں جنت کی بشارت دی ان سے ایک ہیں۔

شخصیت
ابوعبیدہ ابن الجرح بے حد ذہین ۔ سلیم الطبع ، متقی اور بہادر تھے۔ لمبا قد ، بظاہر لاغر کمزور نظر آنے والی شخصیت لیکن ایمان کامل کے سبب انتہائی پرنور چہرہ اور آہنی عزم کے مالک تھے۔ ابوعبیدہ بن الجراح نے اپنے زمانے کے سب سے بڑی عالمی طاقت روم کے خلاف ٹکر لی اور اسے ایشائی علاقوں سے پیچھے دھکیل دیا۔

عہد نبوی میں خدمات اسلام
مدینہ کی اسلامی ریاست قائم ہوئی تو ابوعبیدہ ان اکابرین میں سے تھے جن کو ہر نوعیت کا کام سونپا جا سکتا تھا۔ غزوات میں ابوعبیدہ کی خدمات جلیلہ کا خلاصہ یہ ہے کہ تمام غزوات میں شریک ہوئے اور عشق رسول اور اطاعت الٰہی کا حق ادا کر دیا۔ غزوہ بدر میں اپنے باپ عبداللہ بن الجراح کو اپنے ہاتھ سے قتل کیا۔ قرآن پاک کی ایک آیات آپ ہی جیسے صحابہ کے لیے نازل ہوئی تھی جس میں اللہ تعالٰی باپ، بیٹے ، بھائی اور اہل خاندان کے خلاف قتال کی وجہ سے جنت کی بشارت دی اور ارشاد فرمایا کہ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔
غزوہ احد میں ابوعبیدہ بن الجراح افراتفری کے عالم میں بھی ثابت قدم رہنے والے صحابہ میں سے تھے۔ جب ایک کافر کے وار سے حضور کے آہنی خود کی کڑیاں آپ کے رخسار میں دھنس گئیں تو آپ نہایت سرعت سے آگے بڑھے اور اپنے دانتوں سے ان کڑیوں کو باہر نکالا اور اس آپریشن میں خود آپ کے دو دانت ٹوٹ گئے۔
غزوہ احزاب میں ابوعبیدہ بن الجراح نے ایک مستعد اور بہادر سپاہی کی حیثیت سے شرکت کی اور اس کے بعد بنو قریظہ کے استیصال میں حصہ لیا۔ غزوہ احزاب کے بعد بنو ثعلبہ اور بنو انمار کی غارت گری کے انسداد پر مامور ہوئے اور ان کے مرکز ذی القصہ پر کامیاب چھاپہ مارا۔

صلح حدیبیہ کے موقع پر بیعت رضوان میں شامل ہو کر اللہ تعالٰیٰ کی رضا حاصل کی۔ اور غزوہ خیبر میں بھی نبی کریم کے ان فدائیوں میں سے شامل تھے جنہوں نے اپنی شمشیر زنی کا حق ادا کیا۔

بنو قضاعہ نے مدینہ پر حملہ کرنے کے منصوبے بنائے تو آپ کو ایک ایسے دستے کا کمانڈر بنا کر بھیجا گیا جس میں ابوبکر صدیق اور عمر فاروق بھی شامل تھے۔ قریش کی بدعہدی کے بعد ان کے قافلوں کی نگرانی کے لیے ایک مہم ساحل سمندر کی طرف بھیجی گئی جس کی قیادت ابوعبیدہ کو سونپی گئی اور اس لشکر میں عمر بن خطاب بھی شامل تھے۔ اسی سریہ خبط میں خوراک ختم ہونے پر پتے کھا کر گزارہ کیا گیا یہاں تک کہ ایک بہت بڑی مچھلی مسلمانوں کے ہاتھ لگی اور اس طرح اللہ نے مسلمانوں کی خوراک کی ضرورت پوری کی۔

9 ھ میں وفد نجران نے جب ایک ’’امین شخص‘‘ کو ساتھ بھیجنے کا مطالبہ کیا تو آپ نے ابوعبیدہ کو اس مشن پرمامور کرتے ہوئے فرمایا:

’’ ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے ، میری امت کا امین ابوعبیدہ ہے‘‘

ابوعبیدہ ابن الجراح ایک معلم بھی تھے ، محصل (خراج و دیگر سرکاری واجبات وصول کرنے) بھی اور فوج کے کمانڈر بھی غرض دربار رسالت کے معتمد ترین اور اہل ترین اشخاص میں سے تھے۔

دور خلافت راشدہ میں خدمات
ابوعبیدہ کو اپنی عظمت کردار اور زہد و تقوی اور صلاحیتوں کی وجہ سے اہل مدینہ میں بہت اثر و رسوخ حاصل تھا۔ اسی وجہ سے آپ ان تین افراد میں سے تھے جنہوں نے سقیفہ بنو ساعدہ میں انتشار کی لہروں کو روکا اور آپ کی تجویز و تائید سے ابوبکر صدیق خلیفہ بنے ۔ حضرت عمر فاروق کو آپ پر اس حد تک اعتماد تھا کہ ابو لؤلؤ فیروز کے ہاتھوں زخمی ہونے کے بعد جب انہیں خلیفہ کی تلاش تھی تو آپ نے فرمایا

’’اگر ابوعبیدہ زندہ ہوتے توانہیں خلیفہ بناتا کیونکہ حضور نے انہیں امین الملت قرار دیا تھا۔‘‘

اجنادین کا معرکہ
عہد صدیقی میں ابوعبیدہ کو حمص کی فتح پر مامور کیا گیا تو آپ کئی گنا زیادہ نفری والے دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے بصریٰ کو فتح کرتے ہوئے جابیہ پہنچے جہاں سے رومیوں اور شامیوں کی جنگی تیاریوں اور منصوبے کے بارے میں رپورٹ دربار خلافت بھیجی ۔ حضرت ابوبکر نے یزید بن ابوسفیان، شرجیل بن حسنہ اور عمرو بن العاص کو آپ کے پاس پہنچنے کی ہداہت کی۔ مشرقی محاذ سے خالد بن ولید وہاں پہنچے اور اسلامی لشکر نے آپ کی قیادت میں اجنادین کا معرکہ جیتا۔

عہد فاروقی میں فتوحات
عہد فاروقی میں چند سال تک شام کے لشکر کی قیادت خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنہ کرتے رہے ۔ لیکن کم و بیش پانچ سال بعد 17 ھ میں فاروق اعظم نے خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنہ کو ابوعبیدہ ابن الجراح رضی اللہ تعالی عنہ کے ماتحت کر دیا۔ قیادت کی ان تبدیلیوں سے جہاد کے مقاصد کے حصول اور مہمات کی تربیت و کامرانی میں کوئی فرق نہ آیا ۔ اس کا بہت بڑا سبب ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ تعالی عنہ کا وہ منجھا ہوا انداز قیادت تھا جس کی وجہ سے وہ دوسری پوزیشن میں رہتے ہوئے بھی اپنی صائب رائے پیش کرتے ۔ اس پر عمل کرتے اور کرواتے اور اپنے ساتھیوں کا بھرپور تعاون حاصل کرتے ۔ خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنہ بھی ان کی شخصیت اور صلاحیتوں کے مداح تھے اور آپ کی پر کشش شخصیت اور سادہ اور پروقار زندگی ایک طرف رومیوں کے سفیر کو اسلام کی حقانیت کا قائل کرنے والی تھی تو دوسری طرف سرفروشان اسلام کو عزم جہاد دینے والی۔

ابوعبیدہ ابن الجراح جنگ یرموک کے فاتح ہیں جس نے ہرقل شاہ روم کو شام چھوڑنے پر مجبور کیا۔ بیت المقدس کے فاتح ہیں جو دینا کا عظیم روحانی مرکز ہے۔ آپ نے بیت المقدس میں پہلی نماز وہاں پڑھی جہاں آج کل مسجد اقصیٰ ہے۔ ابوعبیدہ فتح شام کے بعد شام کے پہلے گورنر تھے۔ وہ جرنیل بھی تھے۔ اچھے منتظم بھی اور دین اسلام کے مبلغ بھی تھی۔

امین الملت کی زندگی کا آخری معرکہ حمص کی وہ خونریز جنگ ہے جس میں ہرقل نے شام واپس پلٹنے کی آخری کوشش کی لیکن ناکام ہوا اور اس کے بعد اس نے کبھی شام کا رخ نہ کیا۔

شان فقر
فاتح شام اور فاتح بیت المقدس کی شان فقر کا اندازا اس سے ہوسکتا ہے کہ جب فاروق اعظم بیت المقدس تشریف لے گئے تو آپ نے اپنے بھائی ابوعبیدہ بن الجراح سے فرمائش کرکے ان کے ہاں کھانا کھایا جس میں صرف چند سوکھے ہوئے ٹکڑے تھے جن کو ابوعبیدہ پانی میں بھگو کر کھایا کرتے تھے۔ حضرت عمر نے فرمایا ’’شام میں آکر سب ہی بدل گئے لیکن ابوعبیدہ ایک تم ہو کہ اپنی اسی وضع پر قائم ہو۔ایک اور موقع پر فاروق اعظم نے آپ کے بارے میں فرمایا :

’’الحمد اللہ مسلمانوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جن کی نظر میں سیم و زر کی کچھ حقیقت نہیں۔

مزار – ابوعبیدہ ابن الجراح
وفات
18ھ میں مسلمانوں کے لشکر میں طاعون کی وبا پھوٹ نکلی جسے عمواس کی طاعون کہا جاتا ہے۔ اس موذی وبا نے بہت سے مسلمانوں کی جان لے لی ان میں سے ایک سپہ سالار اعظم امین الملت ابوعبیدہ بھی تھے۔ جن کو عمر فاروق نے مدینہ واپس بلانے کی کوشش کی لیکن انہوں نے جواب دیا کہ ’’ میں مسلمانوں کی فوج میں ہوں اور میرا دل ان سے جدا ہونے کو نہیں چاہتا۔ ‘‘ اس طرح اٹھاون برس کی عمر میں یہ تاریخ ساز شخصیت مالک حقیقی سے جا ملی ۔

اللہ آپ کو اور مجھے ایمان کی حلاوت نصیب فرمائے اورحقیقی خوشیاں عطا فرمائے اور ہمیں اِن پاک نفوس کی اتباع کی توفیق نصیب فرمائے اور اللہ پاک سے دعا ھے ہر کمی معاف فرما کر ﺫریعہ نجات بناۓ..آمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے