Home / تعلیم و صحت / سیرت عشرہ مبشرہ رضی اللہ تعالی ( سبق نمبر 3)

سیرت عشرہ مبشرہ رضی اللہ تعالی ( سبق نمبر 3)

بسم الله الرحمن الرحيم
تحریر
بابرالیاس
عنوان
حضرت عثمان رضی اللہ تعالی

تخطيط اسم
عثمان بن عفان بالخط العربي
ابو عبد الله، ابو عمرو، ذو النورين،
ذو الہجرتين
ولادت
576ء تقريبًا، سنہ 47 ق ھ
وفات
656ء، بمطابق 35ھ، اباضیہ،
المقام الرئيسي
جنت البقیع
نسب والد:
عفان بن ابی العاص
والدہ:
اروی بنت كريز
أشقاؤه لأبيه:
آمنہ بنت عفان
أشقاؤه لأمه:
وليد بن عقبہ، خالد بن عقبہ، عمرو بن عقبہ و ام كلثوم بنت عقبہ
ازواج:
ام عمرو بنت جندب، فاطمہ بنت وليد، رقيہ بنت النبی محمد، ام كلثوم بنت النبی محمد، فاختہ بنت غزوان، ام البنين بنت عيينہ، رملہ بنت شيبہ، و نائلہ بنت الفرافصہ
ذريت:
عمرو، خالد، ابان، عمر، مريم، وليد، سعيد، ام سعيد، عبد الله، عبد الله الصغير، عبد الملک، عائشہ، ام ابان، ام عمرو، ام خالد، ام ابان الصغری، اروی۔

عثمان بن عفان اموی قریشی (47 ق ھ – 35 ھ / 576ء – 656ء)[1] اسلام کے تیسرے خلیفہ، داماد رسول، اور جامع القرآن تھے۔ عثمان غنی سابقین اسلام میں شامل اور عشرہ مبشرہ میں سے تھے، ان کی کنیت ذو النورین ہے کیونکہ انھوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دو صاحبزادیوں سے نکاح کیا تھا، پہلے رقیہ بنت محمد سے کیا، پھر ان کی وفات کے بعد ام کلثوم بنت محمد سے نکاح کیا۔
عثمان غنی پہلے صحابی ہیں جنھوں نے سرزمین حبشہ کی ہجرت کی، بعد میں دیگر صحابہ بھی آپ کے پیچھے حبشہ پہونچے۔ بعد ازاں دوسری ہجرت مدینہ منورہ کی جانب کی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عثمان غنی پر مکمل اعتماد، اور ان کی فطری حیاء و شرافت اور جو انھوں نے اپنے مال کے ذریعہ اہل ایمان کی نصرت کی تھی، اس کی انتہائی قدر کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیگر صحابہ کے ساتھ ان کو بھی جنت اور شہادت کی موت کی خوش خبری دی۔
سنہ 23 ھ (644ء) میں عمر بن خطاب کی شہادت کے بعد مشورہ سے آپ کو خلافت کی ذمہ داری سونپی گئی، جسے انھوں نے 644ء سے 656ء تک انجام دی۔[3] ان کے عہد خلافت میں جمع قرآن مکمل ہوا، مسجد حرام اور مسجد نبوی کی توسیع ہوئی، اور قفقاز، خراسان، کرمان، سیستان، افریقیہ اور قبرص فتح ہو کر سلطنت اسلامی میں شامل ہوئے۔ نیز انھوں نے اسلامی ممالک کے ساحلوں کو بیزنطینیوں کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اولین مسلم بحری فوج بھی بنائی۔[3][4]

ان کا زمانہ خلافت بارہ سال کے عرصہ پر محیط ہے، جس میں آخری کے چھ سالوں میں کچھ ناخوشگوار حادثات پیش آئے، جو بالآخر ان کی شہادت پر منتج ہوا۔[5] ‏سنہ 35 ھ، 18 ذی الحجہ، بروز جمعہ بیاسی سال کی عمر میں انھیں ان کے گھر میں قرآن کریم کی تلاوت کے دوران شہید کر دیا گیا، اور مدینہ منورہ کے قبرستان جنت البقیع میں دفن ہوئے۔[6]

ابتدائی زندگی

نسب عثمان بن عفان
عثمان غنی کا نسب حسب ذیل ہے:
«عثمان بن عفان بن ابو العاص بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف بن قصی بن قصی بن كلاب بن مرہ بن کعب بن كعب بن لوی بن غالب بن فہر بن فہر بن مالک بن مالک بن النضر بن کنانہ (اسی کا لقب قریش تھا) بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن معد بن عدنان»، عثمان غنی کا نسب عبد مناف بن قصی کے بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب سے مل جاتا ہے۔

والدہ: «اروی بنت کریز بن ربیعہ بن حبیہب بن عبد شمس بن عبد مناف بن قصی بن كلاب بن مرہ بن کعب بن كعب بن لوی بن غالب بن فہر بن فہر بن مالک بن مالک بن النضر بن کنانہ بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن معد بن عدنان»، ان کی والدہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی زاد بہن تھیں، اور ان کی نانی کا نام بیضا بنت عبدالمطلب تھا۔

نشو و نما
عثمان بن عفان کی پیدائش سنہ 576ء میں عام الفیل کے چھ سال بعد[1] طائف میں ہوئی،[1] تاہم ایک قول مکہ میں پیدائش کا بھی ہے۔[2] یہ قریش کی ایک شاخ بنو امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف میں پیدا ہوئے، یہ قبیلہ سرداران قریش میں سے تھا۔ ان کے والد عفان ابو سفیان بن حرب کےچچا زاد بھائی تھے۔ عثمان غنی کی ایک بہن بھی تھی جس کا نام آمنہ بنت عفان تھا۔ عفان کے انتقال کے بعد ان کی والدہ نے عقبہ بن ابی معیط سے نکاح کر لیا، جس سے تین بیٹے اور بیٹیاں ہوئیں، ولید بن عقبہ، خالد بن عقبہ، عمارۃ بن عقبہ اور ام کلثوم بنت عقبہ، یہ سب عثمان غنی کے ماں شریک بھائی بہن تھے۔[11] عثمان غنی کی والد اروی بنت کریز نے اسلام قبول کیا تھا اور انہی کے دور خلافت میں وفات پائیں،[12] جبکہ ان کے والد عفان کا انتقال زمانہ جاہلیت ہی میں ہو گیا تھا۔

عثمان غنی زمانہ جاہلیت ہی سے انتہائی شریف الطبع،[2] ذہین اور صائب الرائے تھے۔ اسلام قبول کرنے سے قبل کبھی کسی بت کو سجدہ کیا اور نہ شراب پی۔[13] نیز علوم عرب مثلاً انساب، امثال اور جنگوں کے بڑے عالم تھے، شام اور حبشہ کا سفر کیا تو وہاں غیر عرب قوموں کے ساتھ رہنے کا موقع ملا، جس کی وجہ سے ان اقوام کے حالات، طور طریقے اور رسم و رواج سے انھیں واقفیت حاصل ہوئی، یہ خصوصیت ان کی قوم میں کسی اور شخص کو حاصل نہیں تھی۔[14] عثمان غنی کا پیشہ تجارت تھا جو ان کے والد سے انھیں وراثت میں ملی تھی، اس پیشہ سے انھوں نے خوب دولت حاصل کی اور بنو امیہ کی اہم شخصیات میں شمار ہونے لگے۔ عثمان غنی انتہائی سخی اور کریم النفس تھے، زمانہ جاہلیت میں ان کی کنیت ابو عمرو تھی، لیکن جب رقیہ بنت محمد سے ان کے گھر میں عبد اللہ کی ولادت ہوئی تو مسلمان ان کو ابو عبد اللہ کی کنیت سے پکارنے لگے۔

اوصاف

عثمان غنی کا رنگ سفید لیکن کچھ زردی مائل تھا، خوبصورت اور خوش قامت تھے۔ دونوں ہاتھوں کی کلائیاں خوش منظر تھیں، بال سیدھے یعنی گھنگریالے نہیں تھے۔ ناک ابھری ہوئی اور جسم کا نچلا حصہ بھاری تھا۔ پنڈلیوں اور دونوں بازوؤں پر کثرت سے بال تھے۔ سینہ چوڑا چکلا، اور کاندھوں کی ہڈیاں بڑی بڑی تھی تھیں۔ چہرہ پر چیچک کے متعدد نشانات، دانت ہموار اور خوبصورت تھے۔ داڑھی بڑی گنجان اور زلفیں دراز، آخر عمر میں زرد خضاب کرنے لگے تھے۔ جسم کی کھال ملائم اور باریک تھی۔۔
۔’’حضرت مرہ بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے فتنوں کا بیان کیا،اُس وقت ایک شخص کپڑا اوڑھے ہوئے گزرا ، آپ ﷺ نے فرمایا : ’’یہ شخص اُس دن(یعنی فتنوں کے دورمیں) ہدایت پر ہوگا ‘‘،میں نے جاکر دیکھا تو وہ شخص حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ تھے،
(ترمذی ) ‘‘ ۔
سورۂ بقرہ کی آیت261تا 266صدقۂ خیرات کی ترغیب دلائی گئی ہے ،ایک جگہ ارشاد فرمایا:ترجمہ؛’’جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنے مالوں کو خرچ کرتے ہیں ان کی مثال اس دانے کی طرح ہے ،جس نے سات ایسے خوشے اُگائے کہ ہر خوشے میں سودانے ہیں اوراللہ جس کے لیے چاہے ان کو دگنا کردیتا ہے اور اللہ بڑی وسعت والا بہت علم والا ہے ،(البقرہ:261)‘‘۔صحابۂ کرام کی زندگیاں صدق واخلاص ،وفاشعاری وجاںنثاری کا عملی اظہار ہیں ۔حضرت سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ اپنا تمام مال راہِ خدا میں لٹادیتے ہیں اور اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کی رضا کو اپنی متاعِ حیات کا بیش بہا خزانہ بنالیتے ہیں ،یہی جذبہ حضرت عمر فاروق وحضرت علی رضی اللہ عنہما کی زندگی میں نظر آتاہے لیکن حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ ہرمشکل موقع پر اسلام اور عظمتِ اسلام کے لئے اپنا سب کچھ قربان کرتے نظرآتے ہیں ۔
صحابۂ کرام ؓجو صدق ووفاکا پیکر تھے اور راہِ خدا میں اپنا مال بے دریغ لٹاتے رہے ،ان آیاتِ قرآنی کی عملی تفسیر ہیں ۔مدینہ منورہ میں جب قحط پڑا تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اپنا تمام مال صدقہ کردیا :ترجمہ:’’ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں (مدینہ میں) قحط پڑا،حضر ت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم صبح نہیں کروگے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تم پر(رزق ) کشادہ فرمادے گا ۔
اگلے دن صبح یہ خبر ملی کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ایک ہزاراونٹ گندم اور اشیائے خوراک کے منگوائے ہیں ،آپ نے فرمایا: مدینے کے تاجر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور دروازہ کھٹکھٹایا ، آپ گھر سے باہر تشریف لائے ،اس حال میں کہ چادر آپ کے کاندھوں پر تھی اور اُس کے دونوں سرے مخالف سمت میں کاندھے پر ڈالے ہوئے تھے ۔آپ نے مدینے کے تاجروں سے پوچھا کہ تم لوگ کس لئے آئے ہو ؟،کہنے لگے : ہمیں خبر پہنچی ہے کہ آپ کے پاس ایک ہزار اونٹ غلے کے آئے ہیں ،آپ اُنہیں ہمارے ہاتھ فروخت کردیجیے تاکہ ہم مدینے کے فقراء پر آسانی کریں ،آپ نے فرمایا : اندر آؤ ، پس وہ اندر داخل ہوئے ،تو ایک ہزار تھیلے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر میں رکھے ہوئے تھے ،آپ نے فرمایا: اگرمیں تمہارے ہاتھ فروخت کروں، تم مجھے کتنا منافع دوگے ؟۔

اُنہوں نے کہا : دس پر بارہ ، آپ نے فرمایا : کچھ اور بڑھاؤ ،اُنہوں نے کہا دس پر چودہ ،آپ نے فرمایا: اور بڑھاؤ ، اُنہوں نے کہا : دس پر پندرہ ،آپ نے فرمایا: اور بڑھاؤ ،اُنہوں نے کہا : اِس سے زیادہ کون دے گا ،جبکہ ہم مدینے کے تاجر ہیں ۔آپ نے فرمایا: اوربڑھاؤ ،ہر درہم پر دس درہم تمہارے لئے زیادہ ہیں ۔
اُنہوں نے کہا :نہیں ، پھر آپ نے فرمایا: اے گروہِ تجار تم گواہ ہوجاؤ کہ (یہ تمام مال)میں نے مدینہ کے فقراء پر صدقہ کردیا ۔ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ رات گزری رسول اللہ ﷺ میرے خواب میں تشریف لائے ، آپ ﷺ سیاہی مائل سفید سواری پر تشریف فرماتھے ، آپ جلدی میں تھے اور آپ کے دست مبارک میں ایک قندیل تھی جس سے روشنی نور کی طرح پھوٹ رہی تھی ،نعلین مبارک کے تسموں سے نور پھوٹ رہا تھا ۔ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ﷺ ! میری ماں باپ آپ پر قربان میری رغبت آپ ﷺ کی جانب بڑھ رہی ہے،آپ ﷺ نے ارشادفرمایا: یہ عثمان کی اُس نیکی کا بدلہ ہے جو اُس نے ایک ہزار اونٹ اللہ کی راہ میں صدقہ کیے اور اللہ تعالیٰ نے اُسے قبول فرمایا اور اُس کا نکاح جنت کی ایک حور سے فرمادیا اور میں عثمان کی خوشیوں میں شریک ہونے جارہا ہوں ‘‘۔
(اِزالۃ الخفا،جلد2،ص:224)
لباس
تجارت میں کامیابی کی باعث خاصی وسعت تھی، چناں چہ عمدہ لباس پہنتے اور سو سو دینار کی یمنی چادریں اوڑھتے تھے، لیکن لباس پہننے میں سنت نبوی کا خیال رہتا۔ سلمہ بن اکوع فرماتے ہیں کہ «عثمان بن عفان آدھی پنڈلی تک لنگی باندھا کرتے اور فرماتے کہ میرے محبوب کی لنگی ایسی ہوا کرتی تھی۔»[16] بائیں ہاتھ میں انگوٹھی بھی پہنتے تھے۔

غذا
اسی فراخی کے باعث غذا بھی عمدہ اور پرتکلف ہوا کرتی تھی۔ عثمان غنی پہلے مسلم خلیفہ تھے جو چھنا ہوا آٹا استعمال کرتے تھے۔

گفتگو
فطرتاً کم سخن تھے لیکن جب کسی موضوع پر اظہار خیال کرتے تو گفتگو سیر حاصل اور بلیغ ہوتی۔

اسلام
رسول اللہ ﷺ کے تمام اصحاب پیکرِ صدق ووفا ،ہدایت کا سرچشمہ اور ظلمتوں کے اندھیرے میں روشنی کا وہ عظیم مینارہیں ،جن سے جہان ہدایت پاتاہے ،وہ قیامت تک آنے والی نسلِ انسانی کے لئے پیکرِ رُشدوہدایت ہیں ۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے صحابہ میرے ستارے ہیں ،جس کی پیروی کروگے ،ہدایت پاجاؤگے ۔حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالیٰ نے عظیم صفات سے مُتصف فرماکر صحابہ میں ممتاز فرمایا ،جو اُن ہی کا حصہ ہے ۔ حیاکا ایساپیکر تھے کہ فرشتے بھی آپ سے حیا کرتے تھے ۔آپ عشرۂ مُبشرہ میں سے ہیں جن کو رسول اللہ ﷺ نے دنیا میں جنت کی بشارت دی ۔حضرت حسان بن عطیہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ اے عثمانؓ !اللہ تعالیٰ نے تمہارے اگلے اور پچھلے کام بخش دیئے اور وہ کام جو تم نے پوشیدہ کیے اورجو ظاہر کیے اوروہ جو قیامت تک ہونے والے ہیں ‘‘۔
ایامِ جاہلیت میں بھی آپ کا خاندان غیر معمولی وجاہت وحشمت کا حامل تھا۔اُمیہ بن عبدشمس کی طرف نسبت کے سبب آپ کا خاندان بنو اُمیہ کہلاتا ہے ، بنوہاشم کے بعد شرف وسیادت میں کوئی خاندان یا قبیلہ بنو اُمیہ کا ہم پلہ نہ تھا ۔حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا سلسلۂ نسب پانچویں پُشت میں عبدِ مناف پر رسول اللہ ﷺ سے جاملتاہے ۔حضرت عثمان کی نانی رسول اللہ ﷺ کی سگی پھوپھی تھیں ،اس رشتے سے آپ رسول اللہ اﷺْ کے قریبی رشتے دار تھے ۔
آپ کی ولادت عام الفیل سے چھٹے سال ہوئی ۔رسول اللہ ﷺ کے اعلانِ نبوت کے بعد آپ چوتھے شخص ہیں ،جس نے اسلام قبول کیا
عثمان بن عفان نے چالیس سال کی عمر میں ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی دعوت پر اسلام قبول کیا۔ آپ پہلے اسلام قبول کرنے والے لوگوں میں شامل ہیں۔ آپ ایک خدا ترس اور غنی انسان تھے۔ آپ فیاض دلی سے دولت اللہ کی راہ میں خرچ کرتے۔ اسی بنا پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ کو غنی کا خطاب دیا۔

ذوالنورين

ذوالنورين کا مطلب ہے دو نور والا۔ آپ کو اس لئے ذوالنورين کہاجاتاہے کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کي دو صاحبزادیاں یکےبا دیگرے آپ کے نکاح میں آئیں،کسی بھی نبی کا امتی یہ اعزاز نہ ھاصل کر سکا۔آپ کا شمار عشرہ مبشرہ میں کیاجاتا ہے یعنی وہ دس صحابہ کرام جن کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی حیات مبارکہ ہی میں جنت کی بشارت دی تھی۔ متعدد بار جنتی ہونے کی بشارت بزبان نبوت آپ کو نصیب ہوئی۔ جب اپنی دولت دین پر نچھاوع کرنے کی حد کردی تو آمنہ کے در یتیم مدنی کریمؐ نے یہاں تک فرمادیا:

” عثمان آج کے بعد کوئی عمل کرے یا نہ کرے عثمان جنتی ہے۔ “
ہجرت

آپ نے اسلام کی راہ میں دو ہجرتیں کیں، ایک حبشہ کی جانب اور دوسری مدینہ منورہ کی طرف۔

خلافت

چاندی کا درہم جس پرحضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں بسم اللہ لکھا گیا۔اس کا وزن تقریبا 3 گرام ہے۔اس کوحضرت عمر رضی اللہ عنہ نے 5۔3 گرام سے کم کرکے3 گرام کیا تھا۔
حضورﷺ نے ایک مرتبہ حضرت عثمان سے فرمایا:

” ائے عثمان اللہ تجھے خلافت کی قمیص پہنائے گا لوگ اتارنا چاہیں گے تو مت اتارنا یہاں تک کہ مجھ سے آملو۔ “
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات سے پہلے ایک کمیٹی تشکیل دی جس میں چھ صحابی شامل تھے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ، حضرت علی ، حضرت طلحہ ،حضرت زبیر ، حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت عبدالرحمان بن عوف رضوان اللہ علیہم اجمعین اس کمیٹی میں شامل تھے۔ اس کمیٹی نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو خلیفہ نامزد کیا۔ آپ نے بارہ سال خلافت کی زمہ داریاں سرانجام دیں۔ آپ کے دور خلافت میں ایران اور شمالی افریقہ کا کافی علاقہ اسلامی سلطنت میں شامل ہوا۔

جامع قرآن

حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کو جامع القرآن کہا جاتا ہے۔= [19] ابن ابی داود نے بسند صحیح حضرت سوید بن غفلہ سے روائت کی انہوں نے فرمایا حضرت علی کا فرمان ہے کہ حضرت عثمان کے بارے میں خیر ہی کہو ؛ کیونکہ انہوں نے مصاحف کے بارے میں جو کچھ بھی کیا صرف اپنی رائے سے نہیں بلکہ ہماری ایک جماعت کے مشورہ سے کیا گیا [20] ان ہی سے روایت ہے میں خلیفہ ہوتا تو مصحف کے بارے میں وہی کرتا جو حضرت عثمان نے کیا.قبائل عرب میں عربی زبان میں کافی اختلافات تھے مثلا جس کلمہ ء مضارع کا عین ماضی مکسور ہو اس کی علامات مضارع ا ۔ ت۔ ۔ن کو غیر اہل حجاز کسرہ دیتے تھے اسی طرح علامات مضارع کو ی کو جب کہ اس کے بعد کوئی دوسری یا ہو اس لئے وہ تعلم م پیش کے ساتھ کو تعلم ت زیر اور م زبر کے ساتھ بولتے [21] اسی طرح نبی ھذیل حتی کو عتی اہل مدینہ کے یہاں تابوت کا تلفظ تابوہ تھا بنی قیس کاف تانیث کے بعد ش بولتے ضربک کی بجاءے ضربکش کہتے اس طریقہ تلفظ کو کشکشہ قیس سے تعبیر کیا جاتا بنی تمیم ان ناصبہ کو عن کہتے، اسی طرح ان کے نزدیک لیس کے مشابہ ماولا مطلقا وامل نہیں ، ماہذا بشرا ان کے لغت پر ماہذا بشر ہو گا اسی طرح کے اور بہت سے اختلاف تھے
شہادت
اسلام کے دشمنوں خاص کر مسلمان نما منافقوں کو خلافت راشدہ اک نظر نہ بھاتی تھی. يہ منافق رسول اللہ سے بھی دنیاوی بادشاہوں کی طرح یہ توقع رکھتے تھے کہ وہ بھی اپنا کوئی ولی عہد مقرر کریں گے. ان منافقوں کی ناپاک خواہش پر اس وقت کاری ضرب لگی جب امت نے حضرت ابوبکر کو اسلام کا پہلا متفقہ خلیفہ بنا لیا. حضرت ابو بکر کی خلافت راشدہ کے بعد ان منافقوں کے سینے پر اس وقت سانپ لوٹ گیا جب امت نے کامل اتفاق سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ اسلام چن لیا.حضرت عمر کے بعد ٱپ کا سریر آراۓ خلافت ہونا بھی ان مسلمان نما منافقوں کے لۓ صدمہ جانکناہ سے کم نہ تھا۔ انھوں نے آپ کی نرم دلی کا ناجائز فائدہ اٹھایا اور آپ کو شہید کرنے کی ناپاک سازش کی اور ايسے وقت ميں کاشانہ خلافت کا محاصرہ کيا جب اکثر صحابہ کرام حج کے ليے مکہ گۓ ھوۓ تھے.آپ نے اپنی جان کی خاطر کسی مسلمان کو مزاحمت کرنے کی اجازت نہ دی. . حضرت علی رضی اللہ تعالی اس صورتحال سے سخت پریشان تھے انہوں نے اپنے دونوں صاحبزادوں حضرب حسن اور حضرت حسین کے ہمراہ کئی صحابہ زادوں جن میں حضرت طلحہ کے صاحبزادوں سمیت حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت عبداللہ بن زبیر بھی شامل تھے ان سب کو کاشانہ خلافت کی حفاظت پر مامور کیا۔

۔محاصرہ کے دوران حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ آپ کے حامیوں کی عظیم جماعت یہاں موجود ہے ،ان باغیوں کو نکال باہر کیجیے ۔دوسری صورت یہ ہے کہ پچھلی جانب سے مکہ چلے جائیں ،مکہ حرم ہے ،وہاں یہ آپ پر حملہ کرنے کی جرأت نہیں کرسکیں گے ۔
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے پہلی صورت کا جواب یہ دیاکہ اگر میں باہر نکل کر ان سے جنگ کروں تو میں اس اُمّت کا وہ پہلا خلیفہ نہیں بننا چاہتا جو اپنی حکومت کی بقا کے لئے مسلمانوں کا خون بہائے ،دوسری صورت کا جواب دیاکہ مجھے ان لوگوں سے یہ توقع نہیں ہے کہ یہ حرم مکہ کی حرمت کا کوئی لحاظ رکھیں گے اور میں نہیں چاہتاکہ میری وجہ سے اس مُقدّس شہر کی حرمتیں پامال ہوں اور میں دارالہجرت اور دیارِ رسولﷺ کو چھوڑ کر کہیں بھی نہیں جانا چاہتا۔(مسند امام احمد بن حنبل )
حضرت زید بن ثابتؓ اور حضرت ابو ہریرہ ؓنے آکر جنگ کی اجازت چاہی کہ انصار دروازے پر منتظر کھڑے ہیں ،آپ نے اُنہیں منع فرمادیا ۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کرنے والے دوہزار سے بھی کم افراد تھے اورحضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مکان کے اندر اور باہر ان کے جانثار اس سے کہیں زیادہ تعداد میں تھے ،آخری وقت تک یہ سب آپ سے اجازت طلب کرتے رہے کہ ہم باغیوں کا مقابلہ کریں گے اور اُن کا محاصرہ توڑیں گے ،لیکن آپ نے اُنہیں اس کی اجازت نہ دی ،آپ کا ایک ہی جواب تھا : ’’میں اپنی ذات یا اپنی خلافت کی خاطر مسلمانوں کی تلواریں باہم ٹکراتے نہیں دیکھ سکتا ‘‘۔جمعۃ المبارک اٹھارہ ذوالحجہ 35؁ھ کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے خواب میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھاکہ رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابو بکر وعمر رضی اللہ عنہما تشریف فرما ہیں اور رسول اللہ ﷺْ فرمارہے ہیں : عثمان جلدی کرو ،ہم تمہارے افطار کے منتظر ہیں ۔
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عثمان آج جمعہ میرے ساتھ پڑھنا ۔(طبقات ابن سعد)بیدار ہوکر آپ نے لباس تبدیل کیا اور قرآن مجید کی تلاوت میں مشغول ہوگئے ،تھوڑی دیر بعد باغیوں نے حملہ کیا اور آپ کو تلاوتِ قرآن فرماتے ہوئے شہید کردیا ،اس وقت آپ قرآن مجیدسورۂ بقرہ کی آیت: 137 ترجمہ؛ (تمہارے لئے اللہ کافی ہے اور اللہ تعالیٰ خوب سننے اور جاننے والا ہے) کی تلاوت فرما رہے تھے ۔حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت اور عظمت پر لاکھوں سلام ،کہ آپ نے اپنی ذات اور خلافت کے دفاع کے لئے مدینے کی سرزمین اور مسلمان کی حرمت کو پامال نہ ہونے دیا ۔جانثار آپ پر قربان ہونے کی اجازت طلب کرتے رہے لیکن آپ نے اجازت نہ دی ۔
شہید کا خون جس جگہ گرتاہے ،وہ جگہ اُس کی شہادت کی گواہی دیتی ہے۔ کسی کا خون کربلاکی سرزمین پر گرا ،کسی کا اُحد کی گھاٹیوں میں ،کسی کی شہادت گاہ میدانِ بدر ۔یہ مقامات اُن شہدا ء کی شہادت کی گواہی دیں گے لیکن اے عثمان غنی تمہار ے خون کی عظمتوں کو سلام جو قرآن کے اوراق پر گرا اور قیامت کے دن قرآن کریم کے اوراق آپ کی شہادت کی گواہی دیں گے ۔روزِ محشر ہر شخص اُس حال میں اٹھایاجائے گا جیساکہ اپنی موت کے وقت وہ دنیاسے گیا ،کوئی اَحرام باندھے ہوئے اٹھے گا ،کوئی سجدہ کرتے ہوئے ،آپ کی عظمتوں کو سلام کہ روزِ محشر آپ قرآن پڑھتے ہوئے اٹھیں گے ۔
سیدناعثمان ذوالنورینؓ کی حیات مبارکہ کے چند گوشے
سفید مائل زردی رنگت کے سفید ریش بزرگ اپنے مکان کے دریچہ پر کھڑے ہوئے تھے۔ بزرگ کے پر نور چہرے پر چیچک کے نشانات تھے۔ زلفیں کا ندھوں تک آئی ہوئی تھیں۔وہ اپنے گھر کا محاصرہ کیے ہوئے باغیوں سے انتہائی مشفقانہ انداز میں فرما رہے تھے:
’’میری دس خصال میرا رب ہی جانتا ہے مگر تم لوگ آج ان کا لحاظ نہیں کر رہے
٭میں اسلام لانے میں چوتھا ہوں
٭رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحب زادی میرے نکاح میں دی
٭جب پہلی صاحب زادی فوت ہوئی تو دوسری میرے نکاح میں دے دی
٭میں نے پوری زندگی کبھی گانا نہیں سنا
٭میں نے کبھی برائی کی خواہش نہیں کی
٭جس ہاتھ سے حضور ﷺکی بیعت کی اس ہاتھ کو آج تک نجاست سے دور رکھا
٭میں نے جب سے اسلام قبول کیا کوئی جمعہ ایسا نہیں گزرا کہ میں نے کوئی غلام آزاد نہ کیا ہو اگر کسی جمعہ کو میرے پاس غلام نہیں تھا تو میں نے اس کی قضاء کی
٭زمانۂ جاہلیت اور حالت اسلام میں کبھی زنا نہیں کیا
٭میں نے کبھی چوری نہیں کی
٭میں نے نبی ﷺکے زمانہ میں ہی پورا قرآن حفظ کر لیا تھا
اے لوگو! مجھے قتل نہ کرو اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہو تو مجھ سے توبہ کرا لو۔ واللہ! اگر تم نے مجھے قتل کر دیا تو پھر کبھی بھی تم اکٹھے نماز پڑھ سکو گے اور نہ دشمن سے جہاد کر سکو گے۔ اور تم لوگوں میں اختلاف پیدا ہو جائے گا‘‘۔
یہ بزرگ تیسرے خلیفۂ راشد، سیدناعثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ تھے۔ آپؓ خاندان بنو امیہ سے تھے۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کاتب وحی بھی تھے اور ناشر قرآن بھی۔ آپ رضی اللہ عنہ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے چوتھے فرد تھے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دوہرے داماد بھی مگر افسوس
تاہم اور چالیس روز تک محبوس رہے. چالیس روز بعد باغی آپ کے گھر میں داخل ہو گئے اور آپ کو شھيد کرديا.اس دلخراش سانحہ مين آپ کی زوجہ محترمہ حضرت نائلہ رضی اللہ عنا کی انگشت مبارک بھی شھيد ھو گئیں. آپ کی شہادت کے بعد حضرت علی نے خلافت راشدہ کے چوتھے خلیفہ کی حیثیت سے خلافت سنبھالی۔

ابن عساکرزید بن ثابت سے روایت کرتے ہیں کہ محمد رسول عربی نے فرمایا ایک دن عثمان میرے پاس سے گزرے اور اس وقت ایک فرشتہ میرے قریب تھا جس نے کہا یہ شخص (عثمان) شہید ہو گا.

یہ عظیم سازش جو عبد اللہ بن سبا سمیت متعدد منافقین کی سعی کا نتیجہ تھی درحقیقت صرف حضرت عثمان کے خلاف نہ تھی بلکہ اسلام اور تمام مسلمانوں کے خلاف تھی اور آپ کی شہادت کے بعد وہ دن ہے اور آج کا دن کہ مسلمان تفرقہ اور انتشار میں ایسے گرفتار ہوئے کہ نکل نہ سکے۔یہ وہ بات تھی جس کی خبر حضرت عثمان نے ان الفاظ میں دی تھی کہ بخدا اگر تم نے مجھے قتل کر دیا تو پھر تا قیامت نہ ایک ساتھ نماز پڑھو گئے نہ ایک ساتھ جہاد کرو گے۔
آپ کی شہادت پر مدینہ میں ایک عام کہرام مچ گیا ۔حضرت سعید بن زید نے ارشاد فرمایا لوگو واجب ہے کہ اس بد اعمالی پر کوہ احد پھٹے اور تم پر گرے ،حضرت انس نے فرمایا حضرت عثمان جب تک زندہ تھے اللہ کی تلوار نیام میں تھی ، اس شہادت کے بعد یہ تلوار نیام سے نکلے گی اور قیامت تک کھلی رہے گی، حضرت ابن عباس نے ارشاد فرمایا اگر حضرت عثمان کے خون کا مطالبہ بھی نہ کیا جاتا تو لوگوں پر آسمان سے پتھر برستے، حضرت علی کو جیسے ہی شہادت عثمان کی خبر ملی آپ نے فرمایا اے اللہ میں تیرے حضور خون عثمان سے بریت کا اظہار کرتا ہوں اور ابن کثیر نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ حضرت علی حضرت عثمان کے پاس جا کر ان پر گر پڑے اور رونے لگےحتیٰ کے لوگوں نے خیال کیا کہ آپ بھی ان سے جاملیں گئے۔
امام اعمش اور حافظ ابن عساکر نے صاحب اسرار رسول حضرت حذیفہ بن یمان سے روایت کیا ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ سب سے پہلا فتنہ حضرت عثمان کا قتل ہے اور سب سے آخری فتنہ خروج دجال ہے اور اس ذات کی قسم جس کہ قبضے میں میری جان ہے کہ وہ شخص جس کے دل میں ایک دانے کے برابر بھی حضرت عثمان کے قتل کی حب ہے ، اگر اس نے دجال کو پالیا تو وہ اس کی پیروی کیے بغیر نہیں مرے گا اور اگر اس نے اسے نہ پایا تو وہ اپنی قبر میں اس پر ایمان لائے گا۔
علامہ ذہبی نے حضرت عثمان کے کمالات وخدمات کاذکران الفاظ میں کیاہے ‘ابوعمرعثمان ،ذوالنورین تھے ۔ان سے فرشتوں کو حیا آتی تھی۔ انھوں نے ساری امت کواختلافات میں بڑجانے کے بعدایک قرآن پرجمع کردیا۔وہ بالکل سچے ،کھرے ،عابدشب زندہ داراورصائم النہارتھے اوراللہ کے راستے میں بے دریغ خرچ کرنے والے تھے،اوران لوگوں میں سے تھے جن کو آنحضرت صلیہ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنت کی بشارت دی ہے۔’

اللہ پاک کمی معاف فرماۓ اور ﺫریعہ نجات بناۓ..آمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے