Home / تعلیم و صحت / سیرت عشرہ مبشرہ رضی اللہ تعالی (سبق نمبر 6)

سیرت عشرہ مبشرہ رضی اللہ تعالی (سبق نمبر 6)

بسم الله الرحمن الرحیم
تحریر
بابرالیاس
عنوان
سیرت مبارکہ حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ تعالی

عشرہ مبشرہ
تاریخ پیدائش 595 .
مکہ
تاریخ وفات 656.
قابل احترام ہیں اہل اسلام کے لیے اور مؤثر شخصیات میں سے ہیں .
حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے
طلحہ مکمل نام طلحہ بن عبید اللہ ابومحمد کنیت،فیاض اورخیرلقب،والد کا نام عبیداللہ اوروالدہ کا نام صعبہ ؓ تھا، اسلام قبول کرنے والے پہلے آٹھ افراد میں سے ایک اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے صحابی تھے۔ آپ عشرہ مبشرہ میں بھی شامل ہیں جنہیں زندگی میں ہی جنت کی بشارت دے دی گئی۔ غزوہ احد اور جنگ جمل میں انکا خاص کردار رہا۔ [1][2] پورا سلسلہ نسب یہ ہے،طلحہ بن عبیداللہ بن عثمان بن عمروبن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لوی ابن غالب القرشی التیمی،چونکہ مرہ بن کعب آنحضرت ﷺ کے اجداد میں سے ہیں اس لیے حضرت طلحہ ؓ کا نسب چھٹی ساتویں پشت میں حضرت سرورکائنات ﷺ سے مل جاتا ہے۔

اسلام
ایک دفعہ جب کہ غالباً سترہ یا اٹھارہ برس کی عمر تھی تجارتی اغراض سے بصرہ تشریف لے گئے وہاں ایک راہب نے حضرت سرورِکائنات ﷺ کے مبعوث ہونے کی بشارت دی، لیکن یوم ولادت سے اس وقت تک جس قسم کی آب وہوا میں پرورش پائی تھی اورگرد وپیش جس قسم کے مذہبی چرچے تھے اس کا اثر صرف ایک راہب کی پیشن گوئی سے زائل نہیں ہوسکتا تھا، بلکہ ابھی مزید تعلیم و تلقین کی ضرورت تھی،مکہ واپس آئے تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی صحبت اوران کے مخلصانہ وعظ وپندنے تمام شکوک رفع کردئیے،چنانچہ ایک روز صدیق اکبر ؓ کی وساطت سے دربار رسالتﷺ میں حاضر ہوئے اورخلعت ایمان سے مشرف ہوکر واپس آئے اس طرح حضرت طلحہ ؓ ان آٹھ آدمیوں میں سے ہیں جو ابتدائے اسلام میں نجم صداقت کی پرتوضیاء سے ہدایت یاب ہوئے اورآخر کار خود بھی آسمان اسلام کے روشن ستارے بن کر چمکے۔ [3] اسلام لانے کے بعد حضرت طلحہ ؓ بھی عام مسلمانوں کی طرح کفار کے ظلم و ستم سے محفوظ نہ رہے،عثمان بن عبید اللہ نے جو نہایت سخت مزاج اورحضرت طلحہ ؓ کا حقیقی بھائی تھا، ان کو اورحضرت ابوبکر صدیق ؓ کو ایک ہی رسی میں باندھ کر مارا کہ اس تشدد سے اپنے نئے مذہب کو ترک کردیں،لیکن توحید کا نشہ ایسا نہ تھا جو چڑھ کر اتر جاتا۔[4]

مواخات
مکہ میں آنحضرت ﷺ نے حضرت زبیر بن عوام سے ان کا بھائی چارہ کرادیا۔

ہجرت
حضرت طلحہ ؓ نے مکہ میں نہایت خاموش زندگی بسر کی اوراپنے تجارتی مشاغل میں مصروف رہے، چنانچہ جس وقت رسول اللہ ﷺ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے ساتھ مدینہ تشریف لے جارہے تھے،اس وقت وہ اپنے تجارتی قافلہ کے ساتھ شام سے واپس آرہے تھے،راہ میں ملاقات ہوئی،انہوں نے ان دونوں کی خدمت میں کچھ شامی کپڑے پیش کئے اور عرض کیا کہ اہل مدینہ نہایت بے چینی اوراضطراب کے ساتھ انتظار کررہے ہیں،غرض آنحضرت ﷺ نہایت عجلت کے ساتھ مدینہ کی طرف بڑھے اورحضرت طلحہ ؓ نےمکہ پہنچ کر اپنے تجارتی کاروبار سے فراغت حاصل کی اورحضرت ابوبکر ؓ کے اہل وعیال کو لے کر مدینہ پہنچے، حضرت اسعد بن زرارہ ؓ نے ان کو اپنا مہمان بنایا اورآنحضرت ﷺ نے حضرت ابی بن کعب انصاری ؓ سے ان کا بھائی چارہ کرادیا۔[5]

غزوات میں شرکت
جنگ بدرکے موقع پر حضرت طلحہ ؓ کسی خاص مہم پر مامور ہوکر ملک شام تشریف لے گئے تھے، واپس آئے تو دربارِ رسالت میں حاضر ہوکر غزوۂ بدر کے مالِ غنیمت میں سے اپنے حصےِ کی درخواست کی سرورِ کائنات ﷺ نے مالِ غنیمت میں حصہ دیا اورفرمایا کہ تم جہاد کے ثواب سے بھی محروم نہیں رہوگے۔

غزوۂ احد
غزوۂ احد میں فدویت جان نثاری اورشجاعت کے جو بے مثل جوہردکھائے یقناً تمام اقوامِ عالم کی تاریخ اس کی نظیر پیش کرنے سے عاجز ہے،تمام بدن زخموں سے چھلنی ہوگیا تھا،حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ان کے جسم پر ستر سے زیادہ زخم شمار کیے تھے۔[6] درباررسالتﷺ سے اسی جان بازی کے صلہ میں “خیر” کا لقب مرحمت ہوا، صحابہ ؓ کو واقعہ احد میں ان کی اس غیر معمولی شجاعت اورجانبازی کا دل سے اعتراف تھا، حضرت ابوبکر صدیق ؓ غزوۂ احد کا تذکرہ کرتے تو فرماتے کہ یہ طلحہ ؓ کا مخصوص دن تھا، حضرت عمرؓ ان کو صاحبِِ احد فرمایا کرتےتھےخود حضرت طلحہ ؓ کو بھی اس پر فخر کارنامہ پر بڑا ناز تھا اورہمیشہ لطف وانبساط کے ساتھ اس کی داستان سنایا کرتے تھے۔[7]

متفرق غزوات
غزوۂ احد کے بعد فتح مکہ تک جس قدر غزوات ہوئے، حضرت طلحہ ؓ سب میں نمایاں طور پر شریک رہے،بیعتِ رضوان کے وقت بھی موجود تھے اورشرف بیعت سے مشرف ہوئے۔ فتح مکہ کے بعد غزوۂ حنین آیا، اس معرکہ میں بھی غزوۂ احد کی طرح پہلے مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ گئے،لیکن چند بہادر اورثابت قدم مجاہدین کے استقلال وثبات نے پھر اس کو سنبھال لیا، اوراس طرح جم کر لڑے کہ غنیم کی فتح شکست سے بدل گئی اوربیشمار سامان اورمال غنیمت چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا، حضرت طلحہ ؓ اس جنگ میں بھی ثابت قدم اصحاب ؓ کی صف میں تھے۔ 9ھ میں آنحضرت ﷺ کو خبر ملی کہ قیصر روم بڑے سازوسامان کے ساتھ عرب پر حملہ آور ہونا چاہتا ہے اس لیے آپ ﷺ نے صحابہ کرام ؓ کو تیاری کا حکم دیا اور جنگی اسباب و سامان کے لیے مال وزر صدقہ کرنے کی ترغیب دی، حضرت طلحہ ؓ نے اس موقع پر ایک بیش قراررقم پیش کی اوربارگاہ رسالت ﷺ سے فیاض کا لقب حاصل کیا۔[7] شہادت حضرت طلحہ ؓ نے باسٹھ یا چونسٹھ برس کی عمر میں ذی قار شہادت حاصل کی، اورغالباً اسی میدان جنگ کے کسی گوشہ میں مدفون ہوئے ؛لیکن یہ زمین نشیب میں تھی اس لیے اکثر غرقِ آب رہتی تھی، ایک شخص نے مسلسل تین دفعہ حضرت طلحہ ؓ کو خواب میں دیکھا کہ وہ اپنی لاش کو اس قبر سے منتقل کرنے کی ہدایت فرما رہے ہیں، حضرت عبداللہ بن عباس نے خواب کا حال سنا تو حضرت ابوبکر صحابی ؓ کا مکان دس ہزار درہم میں خرید کر ان کی لاش کواس میں منتقل کردیا، دیکھنے والوں کا بیان ہے کہ اتنے دنوں کے بعد بھی یہ جسم خاکی اسی طرح مصئون ومحفوظ تھا،یہاں تک کہ آنکھوں میں جو کافور لگایا گیا تھا وہ بھی بعینہ موجود تھا، [8]

اخلاق وعادات
حضرت طلحہ ؓ اقلیم سخاوت کے بادشاہ تھے،فقراء ومساکین کے لیے ان کا دروازہ کھلا رہتا تھا، قیس ابن ابی حازم کا بیان ہے کہ میں نے طلحہ ؓ سے زیادہ کسی کو بے طلب کی بخشش میں پیش پیش نہ دیکھا۔[9] حضرت طلحہ ؓ بنو تمیم کے تمام محتاج و تنگدست خاندانوں کی کفالت کرتے تھے، لڑکیوں اوربیوہ عورتوں کی شادی کردیتے تھے،جولوگ مقروض تھے ان کا قرض ادا کردیتے تھے؛ چنانچہ صبیحہ تیمی پر تیس ہزار درہم قرض تھا، وہ سب انہوں نے اپنے پاس سے ادا کردیا ،ام المومنین حضرت عائشہ ؓ سے بھی خاص عقیدت تھی اورہرسال دس ہزار درہم پیش خدمت کرتے تھے۔ [10] مہمان نوازی حضرت طلحہ ؓ کا خاص شیوہ تھا، ایک دفعہ بنی عذرہ کے تین آدمی مدینہ آکر مشرف بہ اسلام ہوئے، آنحضرت ﷺ نے فرمایا کون ان کی کفالت کا ذمہ لیتا ہے؟حضرت طلحہ ؓ نے کھڑے ہوکر عرض کیا”میں یارسول اللہ!”اوروہ تینوں نو مسلم مہمانوں کو خوشی خوشی گھر لے آئے ان میں سے دو نے یکے بعد دیگرے مختلف غزوات میں شہادت حاصل کی اور تیسرے نے بھی ایک مدت کے بعد حضرت طلحہ ؓ کے مکان میں وفات پائی ان کو اپنے مہمانوں سے جو انس پیدا ہوگیا تھا اس کا اثریہ تھا کہ ہر وقت ان کی یاد تازہ رہتی تھی اوررات کے وقت خواب میں بھی ان ہی کا جلوہ نظرآتا تھا، ایک روز خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے تینوں مہمانوں کے ساتھ جنت کے دروازہ پر کھڑے ہیں،لیکن جو سب سے پیچھے مراتھا وہ سب سے آگے ہے،اورجو سب سے پہلے شہید ہوا تھا وہ سب سے پیچھے ہے،حضرت طلحہ ؓ کو اس تقدم وتاخر پر سخت تعجب ہوا، صبح کے وقت سرور کائنات ﷺ سے خواب کا واقعہ بیان کیا تو ارشاد ہوا،اس میں تعجب کی کیابات ہے، جو زیادہ دنوں تک زندہ رہا اس کو عبادت ونیکو کاری کا زیادہ موقع ملا، اس لیے وہ جنت کے داخلہ میں اپنے ساتھیوں سے پیش تھا۔[11]

حسن معاشرت
حضرت طلحہ ؓ اپنے حسن معاشرت کے باعث بیوی بچوں میں نہایت محبوب تھے،وہ اپنے کنبہ میں جس لطف ومحبت کے ساتھ زندگی بسرکرتے تھے اس کا اندازا صرف اس سے ہوسکتا ہے کہ عتبہ بن ربیعہ کی لڑکی ام ابان سے اگرچہ بہت سے معزز اشخاص نے شادی کی درخواست کی،لیکن انہوں نے حضرت طلحہ ؓ کو سب پر ترجیح دی، لوگوں نے وجہ پوچھی تو کہا میں ان کے اوصاف حمیدہ سے واقف ہوں،وہ گھر آتے ہیں تو ہنستے ہوئے ،باہر جاتے ہیں تو مسکراتے ہوئے ،کچھ مانگو تو بخل نہیں کرتے اورخاموش رہو تو مانگنے کا انتظار نہیں کرتے، اگر کوئی کام کردو شکر گزار ہوتے ہیں اورخطا ہوجائے تو معاف کردیتے ہیں۔ [12]

اولاد وازواج
حضرت طلحہ ؓ نے مختلف اوقات میں متعدد شادیاں کی تھیں بیویوں کے نام یہ ہیں حمنہ بنت جحش،ام کلثوم بنت ابوبکر الصدیق ؓ، سعدی بنت عوف ،ام ابان بنت عتبہ بن ربیعہ ، خولہ بنت القعقاع، ان میں سے ہر ایک کے بطن سے متعدد اولاد ہوئی تھی، لڑکوں کے نام یہ ہیں۔ محمد، عمران، عیسیٰ، یحییٰ، اسمعیل، اسحاق، زکریا، یعقوب،موسی، یوسف، ان کے علاوہ چارصاحبزادیاں بھی تھیں، ان کے نام یہ ہیں۔ ام اسحاق، عائشہ،صعبہ، مریم۔

حدیث میں ذکر

ان 10 صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا ذکر حضرت عبدالرحمن بن عوف رضي اللہ تعالٰی عنہ کی روایت کردہ حدیث میں ہے کہ:

عبدالرحمن بن عوف رضي اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہيں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں ، عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں ، عثمان رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہيں ، علی رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، طلحہ رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں ، زبیر رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں ، عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں ، سعد رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہيں ، سعید رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں ، ابوعبیدہ رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں سنن ترمذی حدیث نمبر ( 3682 ) ۔

حوالہ جات

↑ ابن سعد قسم اول :3/53
↑ اسد الغابہ:3/59
↑ طبقات ابن سعد قسم اول جزوثالث صفحہ 154
↑ فتح الباری:7/66
^ 7.0 7.1 بخاری کتاب المغازی غزوۂ احد
↑ اسد الغابہ:3/161
↑ فتح الباری : 7/66
↑ طبقات ابن سعد:158
↑ مسند ابن حنبل :1/163
↑ کنز العمال:6/413

حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ
( تاریخ اسلام کی روشنی میں)

نام ، نسب و خاندان

….طلحہ رضہ اللہ عنہ نام، ابو محمّد کنیت، فیاض اور خیر لقب، والد کا نام عبیداللہ اور والدہ کا نام صحبہ تھا، پورا نسب یہ ہے، طلحہ بن عبدللہ بن عثمان بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لوی ابن غالب القرشی التیمی، چونکہ مرہ بن کعب آنحضرت ﷺ کے اجداد میں سے ہیں اس لئے حضرت طلحہ کا نسب چھٹی ساتویں پشت میں حضرت سرور کائنات ﷺ سے مل جاتا ہے.
حضرت طلحہ رضہ کے والد عبیداللہ نے آنحضرت ﷺ کے بعثت سے پہلے یا کم سے کم حضرت طلحہ رضہ کے اسلام قبول کرنے سے قبل وفات پائی، البتہ ان کی والدہ حضرت صحبہ رضہ نے نہایت طویل زندگی پائی، مسلمان ہوئیں، اور امیر المومنین حضرت عثمان رضہ کے محصور ہونے کے وقت تک زندہ تھیں، چناچھ امام بخاری کی تاریخ الصغیر میں ایک روایت ہے کے جب صحبہ کو امیر المومنین کے محصور ہونے کی خبر ملی تو وہ گھر سے نکل کر آئیں اور اپنے صاحبزادہ حضرت طلحہ رضہ سے خواہش کی کے وہ اپنے اثر سے مفسدین کو دور کردیں، اس وقت خود حضرت طلحہ رضہ کی عمر سا برس سے زیادہ تھی، اس لئے اگر تاریخ الصغیر کی روایت صحیح ہے تو حضرت صحبہ نے اسی برس سے زیادہ عمر پائی.
حضرت طلحہ رضہ ہجرت نبوی ﷺ سے چوبیس پچیس برس قبل پیدا ہوئے، ابتدائی حالت نامعلوم ہیں، لیکن اس قدر یقینی ہے کہ ان کو بچپن ہی سے تجارتی مشاغل میں مصروف ہونا پڑا، اور عنفوان شباب ہی میں دور دراز ممالک کے سفر کہ اتفاق ہوا۔

اولاد و ازواج.

. حضرت طلحہ نے مختلف اوقات میں متعدد شادیاں کی تھیں. بیویوں کے نام یہ ہیں. حمنہ بنت حجش، ام کلثوم بنت ابو بکر صدیق، سعدی بنت عوف، ام ابان بنت عتبہ بن ربیعہ، خولہ بنت القعقاع، ان میں سے ہر ایک کے بطن سے متعدد اولاد ہوئی تھی، لڑکوں کے نام یہ ہیں.
محمّد، عمران، عیسیٰ ،اسماعیل، اسحاق، زکریا ، یعقوب، موسیٰ ، یوسف ان کے علاوہ چار صاحبزادیاں بھی تھیں، ان کے نام یہ ہیں ، ام اسحاق ، عائشہ، صعبہ، مریم

اسلام

. ایک دفع جب کہ غالباً سترہ یا اٹھارہ برس کی عمر تھی، تجارتی اغراض سےبصرہ تشریف لے گئے، وہاں ایک راہب نے حضرت سرور کائنات ﷺ کے مبعوث ہونے کی بشارت دی، لیکن یوم ولادت سے اس وقت تک جس قسم کی آب و ہوا میں پرورش پائی تھی اور گرد و پیش جس قسم کے مذہبی چرچے تھے، اس کا اثر صرف ایک راہب کی پیشن گوئی سے زائل نہیں ہوسکتا تھا، بلکہ ابھی مزید تعلیم و تلقین کی ضرورت تھی، مکہ واپس آئے تو خلیفہ رسول اللہ حضرت ابو بکر صدیق رضہ کی صحبت اور ان کے مخلصانہ وعظ و پند نے تمام شکوک رفع کردئے، چناچہ ایک روز حضرت ابو بکر صدیق اکبر رضہ کی وساطت سے دربار رسالت ﷺ میں حاضر ہوئے اور خلعت ایمان سے مشرف ہوکر واپس آئے اس طرح حضرت طلحہ رضہ ان آٹھ آدمیوں میں سے ہیں جو ابتداۓ اسلام میں نجم صداقت کی پرتوضیاء سے ہدایت یاب ہوئے اور آخر کار خود بھی آسمان اسلام کے روشن ستارے بن کار چمکے.

اسلام لانے کے بعد حضرت طلحہ رضہ بھی عام مسلمانوں کی طرح کفار کے ظلم و ستم سے محفوظ نہ رہے، عثمان بن عبیداللہ نے جو نہایت سخت مزاج اور حضرت طلحہ رضہ کا حقیقی بھائی تھا، ان کو اور حضرت ابو بکر صدیق رضہ کو ایک ہی رسی میں باندھ کر مارا کہ اس تشدد سے اپنے نئے مذہب کو ترک کردیں، لیکن توحید کا نشہ ایسا نہ تھا جو چڑھ کر اترجاتا

مواخات

مکہ میں آنحضرت ﷺ نے حضرت زبیر بن عوام رضہ سے ان کا بھائی چارہ کرادیا.

ہجرت

حضرت طلحہ رضہ نے مکہ میں نہایت خاموش زندگی بسر کی اور اپنے تجارتی مشاغل میں مصروف رہے، چناچہ جس وق رسول اللہ ﷺ حضرت ابو بکر صدیق رضہ کے ساتھ مدینہ تشریف لے جارہے تھے، اس وقت وہ اپنے تجارتی قافلے کے ساتھ شام سے واپس آرہے تھے، راہ میں ملاقات ہوئی، انہوں نے ان دونوں کی خدمت میں کچھ شامی کپڑے پیش کئے اور عرض کی کے اہل مدینہ نہایت بےچینی اور اضطراب کے ساتھ انتظار کر رہے ہیں، غرض کے آنحضرت ﷺ نہایت عجلت کے ساتھ مدینہ کی طرف بڑھے اور حضرت طلحہ رضہ نے مکہ پہنچ کر اپنے تجارتی کاروبار سے فراغت حاصل کی اور ابو بکر رضہ کے اہل و عیال کو لیکر مدینہ پہنچے حضرت اسعد بن زرارہ رضہ نے ان کو اپنا مہمان بنایا اور آنحضرت ﷺ نے حضرت ابی بن کعب انصاری رضہ سے ان کا بھائی چارہ کرادیا.

غزوات اور دیگر حالات

ہجرت مدینہ کے دوسرے سال سے غزوات کا سلسلہ شروع ہوا، اور کفر و اسلام کی پہلی آویزش جنگ بدر کی صورت میں ظاہر ہوئی، لیکن حضرت طلحہ رضہ کسی خاص مہم پر مامور ہوکر ملک شام شریف لے گئے تھے، اس لئے اس میں شریک نہ ہوسکے، وہاں سے واپس آئے تو دربار رسالت ﷺ میں حاضر ہوکر غزوہ بدر کے مال غنیمت میں سے اپنے حصے کی درخواست کی،سرور کائنات ﷺ نے مال غنیمت میں حصہ دیا اور فرمایا کہ تم جہاد کے ثواب سے بھی محروم نہیں رہوگے.
بعض اہل سیرکا بیان ہے کے حضرت طلحہ رضہ اپنے تجارتی اغراض سے شام گئے تھے، لیکن یہ صحیح نہیں ہے، کیونکہ اس صورت میں مال غنیمت میں حصہ طلب کرنے کی کوئی وجہ نہ تھی، نیز ایک دوسری روایت یہ ہے کے آنحضرت ﷺ نے ان کو اور سعید بن زید رضہ کو شام کی طرف قریش کے قافلے کی تحقیق حال کی خدمت پر مامور کرکے بھیجا تھا، اس روایت سے بھی ہمارے خیال کی تائید ہوتی ہے، بہرحال اگرچہ حضرت طلحہ رضہ غزوہ بدر میں شریک نہ تھے تاہم وہ اپنی اہم کارگزاریوں کے باعث اس کے اجروثواب سے بھی محروم نہیں رہے..

غزوہ احد

٣ہ میں غزوہ احد پیش آیا،اس جنگ میں پہلے مسلمانوں کی فاتح ہوئی اور کفار بھاگ کھڑے ہوئے،لیکن مسلمان جیسے ہی اپنی اپنی جگہ سے ہٹ کر لوٹ گھسوٹ میں مصروف ہوئے،کفار نے پلٹ کر حملہ کردیا،اس ناگہانی حملے نے مسلمانوں کو ایسا بدحواس کیا کہ ان کو سرورکائنات ﷺ کی حفاظت کا بھی خیال نہ رہا اور جو بھی جس طرف تھا اسی طرف بھاگ کھڑا ہوا میدان جنگ میں صرف دس بارہ آدمی ثابت قدم رہ گئے تھے، لیکن وہ سب بھی شمع ہدایت سے دور تھے اور اس وقت صرف حضرت طلحہ رضہ پروانہ وار فدویت و جان نثاری کے حیرت انگیز مناظر دکھا رہے تھے، کفار کا ہر طرف سے نرغہ تھا، تیروں کی بارش ہورہی تھی،خون آشام تلواریں چمک چمک کر آنکھوں کو خیرہ کرہیں تھیں اور صدہا کفارصرف ایک مقدس ہستی کو فنا کردینے کیلئے ہر طرف سے یورش کر رہے تھے،اس نازک وقت میں جمال نبوت کا شیدائی ہالہ بن کر خورشید نبوت کو آگے پیچھے داہنے بائیں ہر طرف سے بچا رہا تھا،تیروں کی بوچھاڑ کو ہتھیلی پر روکتا،تلوار اور نیزہ کے سامنے اپنے سینے کو سپر بناتا، پھر اسی حال میں کفر کا نرغہ زیادہ ہوجاتا تو شیر کی طرح تڑپ کر حملہ کرتا اور دشمن کو پیچھے ہٹادیتا،ایک دفع کسی نابکار نے ذات قدسی پر تلوار کا وار کیا،خادم جاں نثار یعنی طلحہ جانباز نے اپنے ہاتھ پر روک لیا اور انگلیاں شہید ہوئیں تو آہ کے بجاۓ زبان سے نکلا حسن ” یعنی خوب ہوا، سرور کائنات ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم اس لفظ کی بجاۓ بسم اللہ کہتے تو ملائکہ آسمانی تمہیں ابھی اٹھا لے جاتے، یہاں تک کے دوسرے صحابہ بھی مدد کے لئے آ پہنچے،مشرکین کا ہلہ کسی قدر کم ہوا تو سرور کائنات ﷺ کو اپنی پشت پر سوار کرکے پہاڑی پر لے آئے اور مزید حملوں سے محفوظ کردیا.
حضرت طلحہ نے غزوہ احد میں فدویت، جان نثاری اور شجاعت کے جو بے مثل جوہر دکھاے یقیناً تمام اقوام علم کی تاریخ اس کی نظیر پیش کرنے سے عاجز ہے، تمام بدن زخموں سے چھلنی ہوگیا تھا، حضرت ابو بکر صدیق رضہ نے ان کے جسم پی ستر سے زیادہ زخم شمار کئے تھے دربار رسالت ﷺ سے اسی جانبازی کے صلے میں “خیر” کا لقب مرحمت ہوا، صحابہ کو انکی اس غیر معمولی شجاعت اور جانبازی کا دل سے اعتراف تھا، حضرت ابو بکر صدیق رضہ غزوہ احد کا تذکرہ کرتے تو فرماتے کے یہ طلحہ کا مکسوس دن تھا، حضرت عمررضہ ان کو صاحب احد فرمایا کرتے تھے،خود حضرت طلحہ رضہ کو بھی اس فخر کارنامہ پر بڑا ناز تھا اور ہمیشہ لطف و انبساط کے ساتھ اس کی داستان سنایا کرتے تھے

متفرق غزوات

غزوہ احد کے بعد فاتح مکّہ تک جس قدر غزوات ہوئے حضرت طلحہ رضہ سب میں نمایاں طور پر شریک رہے، بیعت رضوان کے وقت بھی موجود تھے اور شرف بیعت سے مشرف ہوئے فتح مکہ کے بعد غزوہ حنین پیش آیا، اس معرکہ میں بھی غزوہ احد کی طرح پہلے مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ گئے، لیکن چند بہادر اور ثابت قدم مجاہدین کے استقلال و ثبات نے پھر اس کو سنبھال لیا اور اس طرح جم کر لڑے کہ غنیم کی فتح شکست سے بدل گئی اور بیشمار سامان اور مال غنیمت چھوڑ کر بھگ کھڑا ہوا، حضرت طلحہ اس جنگ میں بھی ثابت قدم اصحاب کی صف میں تھے.
٩ ہ میں آنحضرتﷺ کو خبر ملی کہ قیصر روم بڑے سازو سامان کے ساتھ عرب پر حملہ آور ہونا چاہتا ہےاس لئے آپ ﷺ نے صحابہ کرام کو تیاری کا حکم دیا اور جنگی اسباب و سامان کے لئے مال و زر صدقہ کرنے کی ترغیب دی، حضرت طلحہ نے اس موقح پر ایک بیش قرار رقم پیش کی اور بارگاہ رسالت ﷺ سے فیاض کا لقب حاصل کیا.
سرور کائنات ﷺ ایک طرفہ حملہ قیصرکے مدافعانہ اہتمام میں مصروف تھے.دوسری طرف منافقین جو ہمیشہ درپےتخریب رہتے تھے اس موقح پر بھی اپنے شرات سے باز نہ آئے اور مدینہ سے کچھ فاصلےپر سویلم یہودی کے مکان میں مجتمع ہوکر ان تدابیر پر غور کرتے تھے جن سے مسلمانوں میں بددلی پیدا ہو اور اس مہم میں شرکت سے انحراف کریں، آنحضرت ﷺ نے حضرت طلحہ کو اس خانہ برانداز جماعت کی تنبیہ پر مامور فرمایا. انہوں نے چند آدمیوں کو ساتھ لیکر نہایت مستعدی کے ساتھ سویلم یہودی کے مکان کا محاصرہ کرلیا اور اس میں آگ لگادی،ضحاک بن خلیفہ نے مکان کی پشت سے کود کر حملہ کیا اور اس حالت میں اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی اور اس کے ساتھی اس کو مسلمانوں کے پنجہ اقتدار سے بچا کر لے بھاگے.
غرض تیس ہزار مجاہدین نہایت چاہ و جلال کے ساتھ رومیوں کے مقابلے کے لئے روانہ ہوئے، تبوک پہنچ کر معلوم ہوا کہ خبر غلط تھی اس لئے وہاں چودہ دن قیام کرکے سب واپس آئے پھر ؁۱۰ھ میں رسول اللہ ﷺ نے آخری حج کیا، حضرت طلحہ ہمرکاب تھے. حج سے واپس انے کے بعد ١٢ ربیع الاول؁۱٢ ھ؁۱۱ھ دو شنبہ کے دن آفتاب رسالت دنیا سے غروب ہوا حضرت طلحہ کو اس سانحہ کبریٰ سے جو صدمہ ہوا اس کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کے جس وقت سقیفہ بنی ساعدہ میں سیادتو خلافت کا فیصلہ ہورہا تھا، اس وقت یہ کسی گوشہ تنہائی میں مصروف گر تھے.

عہد صدیقی

سقیفہ بنی ساعدہ کی مجلس نے حضرت ابو بکر صدیق کی خلافت پر اتفاق کیا، حضرت طلحہ نے بھی کچھ دنوں کے بعد بیعت کی اور مہمات امور میں رائے اور مشورے کے لحاظ سے جانشین رسولﷺ کے ہمیشہ دست و باز ثابت ہوئے، سوا دو برس کی خلافت کے بعد جب خلیفہ اول مرض الموت کے بستر پر تھے اور انہوں نے منصب کے لئے فاروق اعظم کو نامزد کیا تو حضرت طلحہ نے نہایت آزادی کے ساتھ حضرت ابو بکر سے جاکر کہا کے آپ کے موجود ہوتے ہوئے عمر کا ہم لوگوں کے ساتھ کیا برتاؤ تھا؟ اب وہ خود خلیفہ ہوں گے تو اللہ جانے کیا کریں گے . آپ اب اللہ کے ہاں جاتے ہیں، یہ سوچ لیجئے کہ اللہ کو کیا جواب دیجئےگا؟ حضرت ابو بکر نے کہا میں خدا سے کہوں گا کہ میں نے تیرے بندوں پر اس شخص کو امیر کیا جو ان میں سب سے زیادہ اچھا تھا

عہد فاروقی

.حضرت عمر کے متعلق حضرت طلحہ کی جو رائے تھی وہ کسی بغض و عداوت سے ملوث نہ تھی بلکہ اکثر صحابہ کی یہ رائے تھی کہ انکا تشدد ناقابل تحمل ہوگا، لیکن حضرت عمر نے اپنے طرز عمل سے ثابت کردیا کہ وہ اس منصب عظیم کے لئے سب سے موزوں ہیں تو دفعتاً حضرت طلحہ کا خیال بھی بدل گیا اور مجلس شوریٰ کے ایک رکن کی حیثیت سے انہوں نے ہمیشہ حضرت فاروق اعظم کی اعانت کی، اختلافی مسائل میں ساتھ دیا. اور اہم امور میں نہایت مخلصانہ مشورے دے. ایک دفع عہد فاروقی میں یہ سوال پیدا ہوا کہ ممالک مفتوحہ مجاہدین میں باہم تقسیم کردئیے جائیں اور ایک بڑی جماعت اس کی مؤید ہوگی. صرف حضرت عمر اور چند دوسرے صحابہ کو اس سے اختلاف تھا، تین دن تک بحث ہوتی رہی، حضرت طلحہ نے نہایت بلند آہنگی کے ساتھ اس مسئلے میں حضرت عمر کی تائید کی، یہاں تک کہ ان ہی کی رائے پر آخری فیصلہ ہوا، اس طرح معرکہ نہاوند کے موقع پر ایرانی ٹڈی دل نے فاروق اعظم کو مشوش کردیا اور انہوں نے صحابہ سے اس کے متعلق مشورہ چاہا تو تو حضرت طلحہ نے کھڑے ہوکر کہا آپ ہم سے زیادہ بہتر جانتے ہیں البتہ ہم لوگ تعمیل حکم کے لئے تیار ہیں.
امیر المومنین فاروق اعظم نے ؁۲۳ھ میں دس برس کی خلافت کے بعد سفر آخرت کی تیاری کی اور عہد خلافت کے لئے چھ آدمیوں کا نام پیش کیا. ان میں حضرت طلحہ بھی تھے، لیکن انہوں نے نہایت فراخ حوصلگی کے ساتھ حضرت عثمان کو اپنے اوپر ترجیح دی اور ان کا نام اس منصب کے لئے پیش کیا، چناچہ حضرت عبد الرحمان بن عوف کی کوشش اور حضرت طلحہ کی تائید سے وہی خلیفہ منتخب ہوئے.

عہدعثمانی

حضرت عثمان نے بارہ سال تک خلافت کی لیکن آخری چھ سالہ عہد خلافت میں تمام ملک ام طور پر شورش و بےچینی کا آماجگاہ ہوگیا تھا اور ہر طرف ریشہ دوانی و فتنہ پردازی کا بازار گرم تھا، حضرت طلحہ نے دربار خلافت کو مشورہ دیا کہ اسباب شورش کی تفتیش و تحقیق کے لئے تمام ملک میں وفود روانہ کئے جاییں، چناچہ یہ رائے پسند کی گئی اور ؁۳۵ھ میں محمد بن مسلمہ، اسامہ بن زید، عمار بن یاسر اور عبدللہ بن عمر مختلف حصص ملک میں روانہ کئے گئے، ان لوگوں نے واپس اکر اپنی تحقیقات کا جو نتیجہ پیش کیا اس پر عمل بھی نہ ہونے پایا تھا کہ مفسدین نے بارگاہ خلافت کا محاصرہ کرلیا، گو حضرت طلحہ نے اس موقع پر حضرت عثمان کی کوئی خاص اعانت نہیں کی، تاہم وہ اکثر خود ایک غیر جانبدار شخص کی حیثیت سے دریافت حال کے لئے محاصرین کی جماعت میں تشریف لے گئے چناچہ وہ ایک دفعہ وہاں موجود تھے کہ حضرت عثمان نے اپنے بالا خانہ پر کھڑے ہوکر کبارصحابہ میں ایک ایک کا نام لیکر پکارا اسی ضمن میں حضرت طلحہ کا نام بھی آیا، انہوں نے جواب دیا ” ہاں ! میں حاضر ہوں ” حضرت عثمان نے اپنے احسانات اور فضائل و مناقب بیان کرکے ان سے تصدیق چاہی تو انہوں نے مفسدین کے سامنے نہایت بلند آہنگی کے ساتھ اس کی تصدیق کی.

آخر میں محاصرہ زیادہ خطرناک ہوگیا تو حضرت علی اور حضرت زبیر کی طرح حضرت طلحہ نے بھی اپنے صاحبزادہ محمد کو حضرت عثمان کی حفاظت کے لئے متعین کردیا، چناچہ جب مفسدین نے یورش کی تو محمد بن طلحہ نے نہایت تندہی اور جانفشانی سے انکا مقابلہ کیا. محافظین نے باوجود قلت تعداد کے اس سیلاب کو روکے رکھا، لیکن چند نابکار دوسری طرف سے اندر گھس آئے اور صبر اور حلم کے آفتاب کو ہمیشہ کے لئے خونیں شفق کے پردہ میں نہاں کردیا، حضرت طلحہ کو جب معلوم ہوا تو افسوس کے ساتھ فرمایا “اللہ عثمان پر رحم کرے” لوگوں نے کہا مفسدین اب اپنے فعل پر نادم ہیں، فرمایا اللہ انھیں ہلاک کرے اس کے بعد یہ آیت پڑھی.

فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ تَوْصِيَةً وَّلَاۤ اِلٰٓى اَهْلِهِمْ يَرْجِعُوْنَ (یٰسین ٣٦ – ٥٠)

(اس وقت) وہ نہ کوئی وصیت کر سکیں گے اور نہ ہی اپنے گھر والوں کی طرف واپس جا سکیں گے۔(50)

حضرت علی کے ہاتھ پر بادل نخواستہ بیعت کی حضرت عثمان کی شہادت کے بعد مصریوں نے حضرت علی کو عنان خلافت سنبھالنے پر مجبور کیا، اور مسجد نبوی میں لوگوں کو بیعت عام کے لئے جمع کیا، حضرت طلحہ گو برابر کے دعویدار تھے تاہم اس شورش و ہنگامہ کے وقت زبان نہ ہلاسکے اور بادل نخواستہ بیعت کرلی.

خلیفہ وقت کے مقابلہ میں خروج اور اس کی وجہ .

خلیفہ وقت کا قتل کوئی معمولی حادثہ نہ تھا، اس سے تمام علاقے میں شورش اور بدنظمی پھیل گئی، اور مفسدین کی مطلق العنانی نے خود مدینہ کو پرفتن بنادیا، حضرت طلحہ کامل چار ماہ تک خاموشی کے ساتھ اس فتنہ و فساد کودیکھتے رہے. کیوں کہ سیدنا علی رضہ مفسدین کی شورشوں سے حالات کو غیر محفوظ تصور کرتے تھے اس لئے انہوں حالات ٹھیک ہونے تک قصاص کو موخر کردیا اسی طرح حضرت طلحہ خود علم اصلاح بلند کرنے کے لئے حضرت زبیر کو ساتھ لیکر مدینہ سے مکّہ چلے آئے، حضرت عائشہ حج کے خیال سے مکّہ آئی تھیں اور مدینہ کی شورشوں کا حال سن کر اس وقت تک یہیں مقیم تھیں، اس لئے ان دونوں نے سب سے پہلے ام المومنین کی خدمت میں حاضر ہوکر مدینہ کی کیفیت بیان کی اور علم اصلاح بلند کرنے پر آمادہ کیا، تھوڑی دیر کی بحث و مباحثہ کے بعد حضرت عائشہ راضی ہوگیئں اور حضرت طلحہ کی رائے کے مطابق بصرہ جانے کی تیاری ہوئی، کیونکہ وہاں ان کے طرفداروں کی ایک بڑی جماعت موجود تھی، اور نہایت آسانی کے ساتھ اس مہم کی شرکت پر آمادہ ہوسکتی تھی.
بصرہ پر قبضہ.

غرض و داعیان اصلاح کی ایک ہزار جماعت مکّہ سے بصرہ کی طرف روانہ ہوئی، بنو امیہ بھی جو مدینہ سے بھاگ کر مکّہ میں پناہ گزین تھےجوش انتقام میں ساتھ ہوگئے، بصرہ کے قریب پہنچے تو عثمان بن حنیف والی بصرہ نے مزاحمت کی، پہلے کچھ دنوں تک ان سے مصالحت کی سلسلہ جنبانی ہوتی رہی لیکن جب وہ راہ پر نہ آئے تو بزور شہر پر قابض ہوگئے اور حضرت طلحہ کے حامیوں نے جوش و خروش کے ساتھ اہل دعوت کو لبیک کہا
حضرت علی کی فوج سے مقابلے کے لئے بڑھنا.

حضرت علی کو مدعیان اصلاح کے خروج کا حال معلوم ہوچکا تھا، اس لئے مدینہ سے روانہ ہوکر ذی قار پہنچے اور یہاں سے تقریباً کوفہ کے نو ہزار جنگ آزما نوجوان ساتھ لے کر بصرہ کی طرف بڑھے،پھر صلح کے حضرت علی رضہ نے قعقاع بن عمرو کو بھیجا جنہوں نے حضرت طلحہ و زبیر سے بات چیت کی اور بتایا کہ امیر المومنین نے قطعن قصاص کو ترک نہین کیا وہ بس حالات کو قابو میں کرنے کا انتظار کرہیں ہیں جیسے ہی ان کی خلافت مستحکم ہوگی وہ پہلا کام یہی کرین گے اور آپ بھی ان کی خلافت کو مستحکم کرنے اور شورش پسند لوگوں سے ان کی جان چھڑانے کے لئے ان کا ساتھ دیں اسی طرح سب فریق صلح پر رازی ہوئے اس میں حضرت علی رضہ کی طرف سے اس بات کا زکر کیا گیا کہ جیسے ہی باغیوں پر خلافت کا کنٹرول ہوجائے گا قصاص عثمان لیا جائے گا جس پر حضرت طلحہ و زبیر صلح کے لئے راضی ہوگئے ۔ اور امیر المومنین نے اعلان کردیا کہ عثمان رضہ کے باغی کل ان کے ساتھ نہیں جائیں گے یہ سن کر سبائیوں کو اپنی موت سامنے نظر آرہی تھے اس لئے انہوں نے رات کے ٹائم سازش سے دونوں لشکرون کے خیموں میں آگ لگا دی جس سے ہر فریق نے سمجہا کہ دوسرے نے دوکہا دیا ہے اور پھر حضرت علی ، طلحہ ، زبیر کے نا چاہتے ہوئے بھی یہ جنگ 36 ہجری میں ہو کہ رہی جس میں حضرت علی ، طلحہ لوگوں کو روکتے رہے اور حضرت زبیر جنگ سے علیہدہ ہوگئے۔
شہادت

..جنگ شروع ہونے سے پہلے صلح کی سلسلہ جنبانی ہوئی، اور حضرت علی نے حضرت زبیر کو رسول خدا کی ایک پیشن گوئی یاد دلائی کہ اسی وقت ان کا دل اس خانہ جنگی سے پھر گیا، حضرت طلحہ لوگوں کو روکتے رہے اسی ثنا میں ایک نامعلوم تیر کہیں سے آکہ ان کی پیر میں لگا جس سے ان کا بہت سا خون ضایع ہوا اور اسی سے وہ شہید ہوئے ۔..

تجہیزو تکفین

اختلافات روایات حضرت طلحہ نے باسٹھ یا چونسٹھ برس کی عمر میں شہادت حاصل کی، اور غالباً اسی میدان جنگ کے کسی گوشہ میں مدفون ہوئے لیکن یہ زمین نشیب میں تھی اس لئے اکثر غرق آب رہتی تھی ، ایک شخص نے مسلسل تین دفعہ حضرت طلحہ کو خواب میں دیکھا کہ وہ اپنی لاش کو اس قبر سے منتقل کرنے کی ہدایت فرما رہے ہیں حضرت عبدللہ بن عبّاس نے خواب کا حال سنا تو حضرت ابو بکرہ صحابی کا مکان دس ہزار درہم میں خرید کر ان کی لاش کو اس میں منتقل کردیا، دیکھنے والوں کا بیان ہے کہ اتنے دنوں کے بعد بھی یہ جسم خاکی اسی طرح مصئون و محفوظ تھا، یہاں تک کہ آنکھوں میں جو کافور لگایا گیا تھا وہ بھی بعینہ موجود تھا.

اخلاق و عادات..

حضرت طلحہ کا اخلاقی پایہ نہایت ارفح و اعلی تھا. خشیت الہی اور رسول الله ﷺ کی محبت سے ان کا پیمانہ لبریز تھا. معرکہ احد اور دوسرے غزوات میں جس جوش و فدا کاری کے ساتھ پیش پیش رہے وہ اسی جذبے کے اثر تھا، اس راہ میں ان کو جان کے ساتھ مال کی قربانی سے بھی دریغ نہ تھا.
چناچہ انہوں نے نظر مانی تھی کے غزوات کے مصارف کے لئے اپنا مال راہ خدا میں دیا کریں گے، اس نظر کو انہوں نے اس پابندی کہ ساتھ پوری کرنی کی کوشش کی کہ خاص قرآن پاک میں ان کی مدح میں یہ آیت نازل ہوئی.
مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّنْتَظِرُ ۖ وَمَا بَدَّلُوْا تَبْدِيْلًا (احزاب ٣٣: ٢٣ )
” یعنی کچھ آدمی ایسے ہیں جنہوں نے الله سے جو کچھ عہد کیا اس کو سچا کر دکھایا، چناچھ بعض ان میں سے وہ ہیں جنہوں نے اپنی نذر پوری کی”..
حضرت طلحہ اقلیم سخاوت کے بادشاہ تھے، فقرہ و مساکین کے لئے ان کا دروازہ کھلا رہتا تھا. حضرت قیس ابن ابی حازم کا بیان ہے کہ میں نے طلحہ سے زیادہ کسی کو بے طلب کی بخشش میں پیش پیش نہ دیکھا.
غزوہ زی القرد میں آنحضرت ﷺ مجاہدین کے ساتھ پانی کے ایک چشمے پر گزرے جس کا نام بلیان مالح تھا. حضرت طلحہ نے اس کو خرید کر وقف کردیا. اسی طرح غزوہ زی العسرہ میں تمام مجاہدین کی دعوت کی. غزوہ تبوک کے موقح پر جب کہ عموماََ تمام مسلمان افلاس و ناداری کی مصیبت اور فلاکت میں مبتلا تھے، انھوں نے مصارف جنگ کے لئے ایک گرا نقد رقم پیش کی اور دربار رسالت ﷺ سے فیاض کا خطاب حاصل کیا.
ایک دفعہ حضرت عثمان کے ہاتھ اپنی جائداد سات لاکھ درہم میں فروخت کی اور سب راہ خدا میں صرف کردیا. آپ کی بیوی سعدی بنت عوف کا بیان ہے کہ ایک دفعہ میں نے انھیں غمگین دیکھا، پوچھا ” اپ اس قدر اداس کیوں ہیں مجھ سے کوئی خطا تو سرزرد نہیں ہوئی؟ بولے ” نہیں! تم بہت اچھی بیوی ہو تمہاری کوئی بات نہیں ہے، اصل قصہ یہ ہے کے میرے پاس ایک بہت بڑی رقم جمع ہوگی ہے. اس وقت اسکی فکر میں تھا کے کیا کروں؟ میں نے کہا ” اس کو تقسیم کردیجئے” یہ سن کر اسی وقت لونڈی کو بلایا اور چار لاکھ کی رقم اپنی قوم میں تقسیم کرادی.
حضرت طلحہ بنو تیم کے تمام محتاج و تنگدست خاندانوں کی کفالت کرتے تھے. لڑکیوں اور بیوہ عورتوں کی شادی کردیتے تھے. جو لوگ مقروض تھے ان کا قرض ادا کردیتے تھے چناچھ صبیحہ تیمی پر تیس ہزار درہم قرض تھا، وہ سب انھوں نے اپنے پاس سے ادا کردیا ام المومنین حضرت عائشہ سے بھی خاص عقیدت تھی اور ہر سال دس ہزار درہم پیش خدمات کرتے تھے.
مہمان نوازی حضرت طلحہ کا خاص شیوہ تھا. ایک دفعہ بنی عذرہ کے تین آدمی مدینہ آکر مشرف بہ اسلام ہوئے، آنحضرت ﷺ نے فرمایا کون انکی کفالت کا ذمہ لیتا ہے ؟ حضرت طلحہ نے کھڑے ہوکر عرض کی” میں یا رسول الله ﷺ ” اور وہ تینوں نو مسلم مہمانوں کو خوشی خوشی گھر لے آئے. ان میں سے دو نے یکے بعد دیگرے مختلف غزوات میں شہادت حاصل کی اور تیسرے نے بھی ایک مدت کے بعد حضرت طلحہ کے مکان میں وفات پائی ان کو اپنے مہمانوں سے جو انس پیدا ہوگیا تھا اس کا اثر یہ تھا کہ ہر وقت انکی یاد تازہ رہتی تھی اور رات کے وقت خواب میں بھی ان ہی کا جلوہ نظر آتا تھا، ایک روز خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے تینوں مہمانوں کے ساتھ جنّت کے دروازے پر کھڑے ہیں. لیکن جو سب سے پیچھے مرا تھا وہ سب سے آگے ہے، اور جو سب سے پہلے شہید ہوا تھا وہ سب سے پیچھے ہے، حضرت طلحہ کو اس تقدم و تاخر پر سخت تعجب ہوا، صبح کے وقت سرور کائنات ﷺ سے خواب کا واقعہ بیان کیا تو ارشاد ہوا، اس میں تعجب کی کیا بات ہے، جو زیادہ دنوں تک زندہ رہا اس کو عبادت و نیکو کاری کا زیادہ موقع ملا، اس لئے وہ جنّت کے داخلے میں اپنے ساتھیوں سے پیش تھا.
احبات کی مسرت و شادمانی ان کے لئے بھی سامان انبساط بن جاتی تھی. حضرت کعب بن مالک غزوہ تبوک میں شریک نہ ہونے کے باعث معتوب بارگاہ تھے، ایک مدت کے بعد رسول الله ﷺ نے ان کی خطا معاف فرمادی اور وہ خوشی خوشی دربار رسالت ﷺ میں حاضر ہوئے تو حضرت طلحہ نے دوڑ کر ان سے مصافحۃ کیا اور مبارک باد دی، حضرت کعب فرمایا کرتے تھے کہ میں طلحہ کے اس اخلاق کو کبھی نہیں بھولوں گا، کیونکہ مہاجرین میں سے کسی نے ایسی گرمجوشی کا اظہار نہیں کیا تھا.
حضرت طلحہ کو دوستوں کی خدمت گزاری سے بھی دریغ نہ تھا، ایک دفع ایک اعرابی مہمان ہوا اور ان نے درخواست کی کہ بازار میں میرا اونٹ فروخت کرادیجئے، حضرت طلحہ نے فرمایا ” گو رسول الله ﷺ نے منح فرمایا کہ کوئی شہری دیہاتی کا معاملہ نہ چکائے تاہم میں تمہارے ساتھ چلونگا اور اسکے ساتھ جاکر مناسب قیمت پر اس کا اونٹ فروخت کرادیا، اعرابی نے اس کے بعد خواہش ظاہر کی کہ دربار رسالت ﷺ سے زکوۃ کی وصولی کا ایک مفصل ہدایت نامہ دلوادیجئے تاکہ عمال کو اسی کے مطابق دیا کروں حضرت طلحہ نے اپنے مخصوص تقرب کے باعث اس کی یہ خواہش پوری کردی.

رسول الله ﷺ کے اسوہ حسنہ کو طرزعمل بنانا ہر مسلمان کی سب سے بڑی سعادت ہے، حضرت طلحہ نے اس سعادت کے حصول کو اپنے فرائض میں شامل کرلیا تھا. یہی وجہ ہے کہ وہ رسول الله ﷺ کی مختلف صحبتوں میں جو کچھ دیکھتے یا سنتے اس کو ہمیشہ یاد رکھتے اور اگر اتفاق سے کبھی کوئی بات بھول جاتے تو سخت مغموم و رنجیدہ نظر آتے. ایک دفعہ حضرت عمر نے ان کو مغموم دیکھ کر پوچھا ” تمہارا حال کیسا ہے؟ کسی سے کوئی جھگڑا تو نہیں ہوا؟ کہنے لگے نہیں! میں نے رسول الله ﷺ کو فرماتے سنا تھا کہ ” اگر کوئی بندہ موت کے وقت ایک کلمہ زبان سے ادا کرے تو نزع کی مصیبت دور ہوجاے گی اور اس کا چہرہ چمکنے لگےگا ” مجھے اس وقت وہ کلمہ یاد تھا لیکن اب یاد نہیں آتا. حضرت عمر نے کہا کیا تم اس کلمہ سے بھی زیادہ باعظمت و پر اثر کلمہ جانتے ہو جس کا رسول الله نے حکم دیا تھا یعنی لا الہ الا الله حضرت طلحہ سن کر اچھل پڑے فرمایا ” ہاں الله کی قسم یہی کلمہ ہے.
حسن معاشرت.

.. حضرت طلحہ اپنے حسن معاشرت کے باعث بیوی بچوں میں نہایت محبوب تھے. وہ اپنے کنبے میں جس لطف و محبت کے ساتھ زندگی بسر کرتے تھے اس کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ عتبہ بن ربیعہ کی لڑکی ام ابان سے اگرچہ بہت سے معزز اشخاص نے شادی کی درخواست کی، لیکن انہوں نے حضرت طلحہ کو سب پر ترجیح دی، لوگوں نے وجہ پوچھی تو کہا میں انکے اوصاف حمیدہ سے واقف ہوں وہ گھر آتے ہیں تو ہنستے ہوئے باہر جاتے ہیں تو مسکراتے ہوئے کچھ مانگو تو بخل نہیں کرتے اور خاموش رہو تو تو مانگنے کا انتظار نہیں کرتے اگر کوئی کام کردو شکر گزار ہوتے ہیں اور خطا ہوجاے تو معاف کردیتے ہیں.
ذریعہ معاش۔

۔۔۔حضرت طلحہ کے معاش کا اصل ذریعہ تجارت تھا، چناچہ نیز اسلام کے طلوع ہونے کی بشارت بھی اسی تجارتی سفر میں ملی تھی. جب مدینہ پہنچے تو زراعت کا شغل بھی شروع کیا، اور رفتہ رفتہ اس کو نہایت وسیع پیمانے پر پھیلا دیا، خیبر کی جاگیر کے علاوہ عراق عرب میں متعدد علاقے حاصل کئے، ان میں قناۃ اور سراۃ نہایت مشھور ہیں. ان دونوں مقامات میں کاشتکاری کا نہایت وسیع اہتمام تھا صرف قناۃ کے کھیتوں پر بیس اونٹ سیرابی کا کام کرتے تھے، ان علاقوں کی پیداوار کا صرف اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ حضرت طلحہ کی روزانہ آمدنی کا اوسط ایک ہزار دینار تھا.

.
غذا و لباس

طرز معاش نہایت سادہ تھا، کپڑے اکثر رنگین پہنتے تھے، ایک دفع حضرت عمر نے حالت احرام میں رنگین لباس زیب جسم دیکھا بولے “طلحہ یہ کیا ہے؟ عرض کی امیر المومنین یہ گیروارنگ ہے ” فرمایا، ” آپ لوگ آئمہ دین ہیں، عوام آپکا اتباع کرتے ہیں کوئی جاہل دیکھ لےگا تو وہ بھی رنگین کپڑے استعمال کریگا اور دلیل پیش کریگا کے میں نے طلحہ کو حالت احرام میں پہنے ہوئے دیکھا تھا.
حضرت طلحہ کے ہاتھ میں ایک سونے کی انگھوٹھی تھی جس میں نفیس سرخ یاقوت کا نگ جڑا ہوا تھا، لیکن بعد کو یاقوت نکال کر معمولی پتھر سے مرصع کرایا تھا. دسترخوان بھی وسیح تھا لیکن پرتکلف نہ تھا.

حلیہ .

حلیہ یہ تھا ، قد میانہ بلکہ ایک حد تک پست، چہرے کا رنگ سرخ و سفید، بدن خوب گھٹا ہوا، سینہ چوڑا، پاؤں نہایت پر گوشت اور ہاتھ کی انگلیاں غزوہ احد میں شل ہوگی تھیں.

اللہ آپ کو اور مجھے ایمان کی حلاوت نصیب فرمائے اورحقیقی خوشیاں عطا فرمائے اور ہمیں اِن پاک نفوس کی اتباع کی توفیق نصیب فرمائے اور اللہ پاک سے دعا ھے ہر کمی معاف فرما کر ﺫریعہ نجات بناۓ..آمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے