Home / تعلیم و صحت / سیرت عشرہ مبشرہ رضی اللہ تعالی ( سبق نمبر (4)

سیرت عشرہ مبشرہ رضی اللہ تعالی ( سبق نمبر (4)

بسم الله الرحمن الرحيم
تحریر
بابرالیاس ( قلمدان)
عنوان
سیرت حضرت علی رضی اللہ تعالی

علی بن ابی طالب کا نام عربی خطاطی میں
ابو الحسن، ابو تراب، حیدر و حیدرہ، اسد الله، المرتضی، باب مدینة العلم
اور عام طور پر عرب میں: سیِّدُنا علی، اور عرب و عجم میں امام علی، ہند و پاک میں مولا علی، اضافی دعا‏ئیہ الفاظ (كرَّم الله وجہہ) اور (علیه السلام) اور (رضی الله عنہ)
ولادت 13 رجب 23 ق ھ بمطابق 17 مارچ 599ء
مکہ مکرمہ تہامہ، شبہ جزيرہ عرب
وفات 21 رمضان 40ھ، بمطابق 27 جنوری ء
كوفہ، عراق، سلطنت خلافت راشدہ
قابل احترام اسلام: اہل سنت و جماعت، تمام شیعہ مکاتب فکر، اباضیہ، دروزیہ
المقام الرئيسي
*حرم علی بن ابی طالب، نجف، عراق (اہل تشیع کے مطابق)
مسجد ازرق،
مزار شریف، افغانستان (مُحتمل)
نسب * والد: ابو طالب بن عبد المطلب
والدہ: فاطمہ بنت اسد
بھائی:
طالب بن ابی طالب
عقیل بن ابی طالب
جعفر بن ابی طالب
ازواج:
فاطمہ الزہراء
ام البنین
خولہ بنت جعفر حنفیہ
امامہ بنت ابی عاص بن ربیع
اسماء بنت عمیس
محیاہ بنت امرئ القیس
لیلى بنت مسعود
ام حبیبہ بنت ربیعہ تغلبیہ
ام سعید بنت عروہ ثقفیہ
بیٹے:
حسن
حسین
محسن
عباس
ہلال
عبد اللہ
جعفر
عثمان
عبید اللہ
ابوبکر
محمد بن حنفیہ
عمر
محمد بن ابی بكر (متبنی)
بیٹیاں…
زینب
ام کلثوم
رقیہ

علی بن ابی طالب (599ء –661ء) رجب کی تیرہ تاریخ کو شہر مکہ میں خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام ابوطالب اور والدہ کا نام فاطمہ بنت اسد ہے۔ آپ کی پیدائش خانہ کعبہ کے اندر 13 رجب بروز جمعہ 30 عام الفیل کو ہوئی۔[1] علی، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا زاد بھائی ہیں بچپن میں پیغمبر کے گھر آئے اور وہیں پرورش پائی۔ پیغمبر کی زیر نگرانی آپ کی تربیت ہوئی ۔ حضرت علی پہلے بچے تھے جنہوں نے اسلام قبول کیا۔ آپ کی عمر اس وقت تقریباً دس یا گیارہ سال تھی۔
محفلین
اصحابہ کرام (رضوان اللہ عنہم ) کو عمومی طور پر اور خلفائے راشدین (رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین) کو خصوصی طور پر ، امت میں جو مقام و مرتبہ حاصل ہے ، اس کے بارے میں صرف اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ …
انبیاء کرام علیہم السلام کے بعدیہ مقدس ترین جماعت تھی جس نے خاتم الانبیاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی تصدیق کی ، آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی دعوت پر لبیک کہا ، اپنی جان و مال سے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا دفاع کی ، راہِ حق میں بے مثال قربانیاں دیں ، نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کے اسوہ ء حسنہ کی بے چوں و چراں پیروی کی اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی رحلت کے بعد اپنے عقیدہ و عمل کے ذریعے اس آخری دین اور اس کی تعلیمات کی حفاظت کی۔

صحیح احادیث میں خلفائے راشدین (رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین) کے جو فضائل بیان ہوئے ہیں ، وہ ہمارے لیے کافی ہیں !
اس لیے کہ جہاں ہم ان کے ذریعے ان (رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین) کے حقیقی مقام و مرتبہ کو جان سکتے ہیں وہیں ان کی عقیدت میں غلو کے فساد سے بھی محفوظ رہ سکتے ہیں۔

خلفائے راشدین (رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین) میں سب سے برتر فضیلت حضرت ابوبکر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کو حاصل ہے ،اس کے بعد حضرت عمر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کو ،پھر حضرت عثمان (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کواور پھر حضرت علی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کو ۔
>> حضرت ابو بکر صدیق (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
” بے شک میرے اوپر لوگوں میں اپنی رفاقت اور مال میں سب سے زیادہ احسان ابو بکر کا ہے …
اور اگر میں اپنے رب کے سوا کسی اور کو دوست بناتا تو ابو بکر کو بناتا ، لیکن ان کے ساتھ اسلامی اخوت و محبت کا تعلق ہے …
مسجد میں ہر دروازہ بند کر دیا جائے سوائے ابو بکر کے دروازے کے۔ ”
( صحیح بخاری ، کتاب المناقب ۔ حدیث : 3654 )
>> حضرت عمر بن الخطاب (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
” تم سے سابقہ قوموں میں صاحبِ الہام یا صحیح گمان رکھنے والے لوگ ہوا کرتے تھے، پس اگر میری امت میں ان میں سے کوئی ہے تو وہ عمر ہیں۔ ”
( صحیح بخاری ، کتاب المناقب ۔ حدیث : 3689 )
” بے شک ، اللہ نے ” حق” کو عمر کی زبان اور دل پر ثابت کر دیا ہے۔ ”
( جامع ترمذی ۔ حدیث : 3682 )
>> حضرت عثمان (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)
حضرت عثمان (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کی ایک فضیلت ایسی تھی جو ان کی شناخت اور پہچان بن گئی تھی۔ وہ فضیلت ” حیا و شرم ” کی صفت تھی۔

حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہما) نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا :
” جب ابوبکر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے کوئی خاص اہتمام نہیں فرمایا۔ پھر جب عمر آئے تو اس وقت بھی آپ نے کوئی اہمیت نہیں دی لیکن جب عثمان آئے تو آپ اٹھ کر بیٹھ گئے اور اپنے کپڑے درست کر لیے تھے … ”
اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا :
” کیا میں ایسے آدمی سے شرم نہ کروں جس سے فرشتے بھی شرماتے ہیں ۔ ”
( صحیح مسلم ۔ حدیث : 6209 )
>> حضرت علی بن ابی طالب (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)
حضرت علی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کے فضائل و مناقب میں جو صحیح احادیث مروی ہیں ، ان کی روشنی میں اگر حضرت علی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کی سیرت مرتب کی جائے تو ایک ضخیم کتاب تیار ہو سکتی ہے۔
حضرت علی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے محبت ایمان کی علامت اور ان سے کسی بھی درجے میں بغض و نفرت ، نفاق کی علامت ہے۔
جو لوگ ایک خاص طبقے کی مخالفت کی آڑ میں حضرت علی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کے مقام و مرتبہ کو گھٹانے کی کوشش کرتے ہیں ، ان کو درج ذیل ارشادِ نبوی کے آئینہ میں اپنا خراب چہرہ دیکھ لینا چاہئے :
حضرت علی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) نے فرمایا : ” …. مجھ سے نبی اُمی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ وعدہ ہے کہ مجھ سے صرف مومن محبت رکھے گا اور صرف منافق مجھ سے بغض رکھے۔ ”
( صحیح مسلم ۔ حدیث : 240 )

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کی عیب جوئی سے منع فرمایا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو سخت ناپسند فرماتے تھے کہ لوگ حضرت علی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) پر تنقید کریں اور ان کی ذات میں کیڑے نکالیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
” … علی میں عیب نہ نکالو ۔ بے شک ، علی مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔ اور میرے بعد وہ ہر مومن کا دوست اور خیرخواہ ہے۔ ”
( ترمذی ، كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ، باب : مناقب علي بن ابي طالب رضى الله عنه ، حدیث : 4077 )
( سنن نسائی ، مسند احمد ، المستدرک الحاکم )

حضرت زید بن ارقم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
” میں جس کا مولیٰ ہوں ، علی اس کا مولیٰ ہے۔ اے اللہ ! تو اس کو دوست بنا جو اس سے محبت کرے اور اس سے دشمنی کر جو اس سے عداوت رکھے ۔ ”
( ترمذی ، كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ، باب : مناقب علي بن ابي طالب رضى الله عنه ، حدیث : 4078 )۔

سیرت حضرت علی رضی اللہ تعالی کے چند درخشاں پہلو
( کے نام سے ایک کالم روز نامہ نواۓ وقت)
تحریر : چوہدری محمد اسلم سلیمی
سابق نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان
مشہور محقق ڈاکٹر حمیداللہ نے ادارہ تحقیقات اسلامی اسلام آباد کے سہ ماہی مجلہ ”فکر و نظر“ بابت ماہ جولائی ۔ستمبر 1985 ءمیں شائع شدہ اپنے مضمون میں تحریر کیاتھا کہ :
”تاریخ اسلام کے کسی شخص کی سوانح عمری لکھنا اتنا دشوار نہیں جتنا حضرت علیؓ کی ۔ کیونکہ اس میں تعلق بدقسمتی سے عقائد سے ہوگیا ہے اور آج ساڑھے تیرہ سو سال بعد بھی دامن سمیٹ کر کوئی ایسی چیز لکھنا آسان نہیں جسے سب قبول کرسکیں ۔“
خودحضرت علیؓ نے بھی پیش گوئی کی تھی کہ میرے بارے میں دو طرح کے گروہ پیدا ہوجائیں گے اور صحیح لوگ ان میں درمیانے درجہ میں ہوں گے۔ ان باتوں کے پیش نظر جادہ اعتدال پر چلتے ہوئے حضرت علیؓکی سیرت کے چند درخشاں پہلو قارئین کی خدمت میں پیش ہیں تاکہ ہم سب ان سے رہنمائی حاصل کریں اور اس علم و حکمت سے فیضیاب ہوجائیں جس کا وافرحصہ حق تعالیٰ نے حضرت علیؓ کو عطا فرمایاتھا۔
نسب وخاندان:
امیرالم¶منین حضرت علی کرم اللہ وجہہ بنی ہاشم کے چشم و چراغ تھے ۔ یہ خاندان حرم کعبہ کی خدمات ، سقایہ زمزم کے انتظامات کی نگرانی اور حجاج کرام کے ساتھ تعاون و امداد کے لحاظ میں مکہ کا ممتاز خاندان تھا ۔ علاوہ ازیں بنی ہاشم کو سب سے بڑا شرف اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے نصیب ہوا وہ نبی آخرالزمان ، سرور عالم کی بعثت ہے جو دوسرے تمام اعزازات بلند تر ہے ۔ حضرت علیؓ کے والد ابو طالب اور والدہ فاطمہ دونوں ہاشمی تھے۔ اس طرح حضرت علی نجیب الطرفین ہاشمی پیدا ہوئے ۔فاطمہ ؓمشرف بہ اسلام ہوئیں اور ہجرت مدینہ کا شرف بھی حاصل کیا ۔ انہوں نے مدینہ منورہ میں وفات پائی ۔ حضورنبی پاکنے خود ان کے کفن دفن کے انتظامات فرمائے تھے اور اپنا قمیص مبارک ان کے کفن میں شامل فرمایا اور قبر کے تیار ہونے پر پہلے خود اس میں داخل ہوئے اور اسے متبرک فرمایا ۔ حضور نبی پاک نے مرحومہ کے حق میں دعائے مغفرت فرمائی اور یہ بھی فرمایا کہ ابوطالب کے بعد میری نگہداشت اور ضروریات پورا کرنے میں ان کی بہت بڑی خدمات ہیں اور میں نے ان کے حق میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی ہے کہ ان پر قبر کے شدائد آسان ہوں ً۔
ولادت اور تربیت :
بعض اقوال کے مطابق حضرت علیؓکی ولادت مکہ شریف میں عام الفیل کے سات سال بعد ہوئی ۔ بعض سیرت نگار لکھتے ہیں کہ نبی اکرم کی ولادت کے تیس سال بعد حضرت علی ؓ پیدا ہوئے ۔ حضورنبی اکرم نے حضرت علیؓ کو اپنی کفالت میں لے لیا تھا ۔ اس طرح حضرت علیؓکو رسول اکرم کی آغوش محبت میں تعلیم و تربیت نصیب ہوئی ۔ اس بنا ءپرحضرت علیؓابتدائی طور پر امورخیر کی طرف راغب اور بت پرستی جیسی جاہلانہ رسوم سے مجتنب رہتے تھے۔
قبول اسلام :
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہونے کے بعد اسلام کی طرف دعوت دینے کا آغاز اپنے اہل خانہ سے فرمایا۔ ام الم¶منین حضرت خدیجة الکبریٰؓ نے سب سے پہلے اس دعوت کو قبول کرلیا اور پہلی مسلمان خاتون ہونے کا شرف حاصل کیا۔ حضورنبی پاک کے حلقہ ءاحباب میں سب سے پہلے حضرت ابوبکر صدیقؓ نے دعوت حق قبول کرلی اور سب سے پہلے مسلمان بالغ مرد ہونے کا شرف حاصل کرلیا۔ اسی طرح نوخیز لڑکوں میں سب سے نبی پاک کے گھر میں تربیت پانے واے حضرت علیؓمشرف بہ اسلام ہوئے اور غلاموں میں سب سے پہلے حضورنبی پاک کے خادم حضرت زید ؓبن حارثہ نے مسلمان ہونے کی سعادت حاصل کی ۔
اعزہ واقرباکی دعوت :
حضور نبی کریم نے اپنے تمام قریبی رشتہ داروں کو اپنے گھر میں جمع کرکے دعوت اسلام پیش کی تومو جود مرد اور خواتین سب خاموش رہے ۔ حضرت علیؓ ان میں سب سے کم عمر تھے ۔ انہوں نے اٹھ کر کہا کہ ”گو میں عمر میں سب سے چھوٹا ہوں اور مجھے آشوب چشم کا عارضہ ہے اور میری ٹانگیں دبلی پتلی ہیں تاہم میں آپ کا ساتھی اور دست و بازو بنوں گا۔ “حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ”بیٹھ جاﺅ ‘ تو میرا بھائی اورمیرا وارث ہے۔“
حضرت علی ؓکی جاں نثاری کا واقعہ :
حضور نبی کریم کی مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کے وقت حضرت علیؓکی عمر تیئیس سال تھی ۔ سرور کائنات نے مشرکین مکہ کے محاصرے اور ان کے برے ارادوں کی اطلاع پا کر حضرت علی مرتضیؓ کو اپنے بستر پر استراحت کرنے کا حکم دیا اور مکہ کے لوگوں کی امانتیں جو حضور نبی پاک کے پاس رکھی گئی تھیں ،ان کے مالکوں کے سپرد کردینے کی ہدایت فرمائی ۔ اس شدید خطرے کی حالت میں حضرت علیؓ حضور نبی کریم کے بستر پر سکون و اطمینان کے ساتھ محو خواب ہو گئے ۔ مشرکین مکہ یہ سمجھتے رہے کہ حضور نبی پاک ہی اپنے بستر پر موجود ہیں ۔ وہ علی الصبح اپنے ناپاک ارادہ کی تکمیل کے لئے اندر آئے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ حضور نبی کریم کی جگہ آپکا ایک جاں نثار اپنے آقا پر قربان ہونے کے لئے موجود ہے ۔ درآں حالیکہ حضور نبی کریم ،حضرت ابوبکر صدیقؓکو ساتھ لے کر رات کے وقت ہی مدینہ منورہ جانے کے لئے نکل چکے تھے ۔ مشرکین اپنی اس غفلت کی بنا پر ایک دوسرے پر برہم ہوتے رہے اور حضرت علیؓکو چھوڑ کر اپنے اصل مقصود کی تلاش میں روانہ ہوگئے ۔
حضرت علیؓ ،بنی اکرم کے مکہ سے تشریف لے جانے کے بعد دو یا تین دن مکہ میں رہے اور حضورنبی پاککی ہدایت کے مطابق لوگوں کی امانتیں ان کے سپرد کرکے اور لین دین کے معاملات سے فراغت حاصل کرکے تیسرے یا چوتھے دن عازم مدینہ منورہ ہوئے ۔
غزوات میںشجاعت کے کارہائے نمایاں :
1۔ ۰۲ھ میں غزوہ بدر میں تین سو تیرہ جاں نثار صحابہؓمیں حضرت علیؓنمایاں تھے ۔ نبی اکرمکے سیاہ رنگ کے دو جھنڈوں میں سے ایک حضرت علیؓکے ہاتھ میں تھا۔ بدر کے میدان میں پہنچتے ہی حضور نبی پاک نے دشمن کی نقل و حرکت کا پتہ چلانے کے لئے حضرت علیؓکو چند منتخب جاں بازوں کے ساتھ بھیجا ۔ انہوں نے نہایت خوبی کے ساتھ یہ خدمت انجام دی اور مجاہدین اسلام نے مشرکین سے پہلے پہنچ کربدر کے اہم مقامات پر قبضہ کرلیا ۔ سترھویں رمضان کو جنگ کی ابتدامیں قاعدہ کے مطابق پہلے تنہا مقابلہ شروع ہوا تو مشرکین مکہ کی طرف سے تین بہادر جنگجو نکلے اور مسلمانوں سے مبارز طلب ہوئے۔ تین انصاری مسلمانوں نے ان کی دعوت پر لبیک کہا اور آگے بڑھے تو مشرکین کے بہادر جنگجوﺅں نے ان کا نام و نسب پوچھا ۔ جب یہ معلوم ہوا کہ وہ یثرب کے نوجوان ہیں تو ان کے ساتھ لڑنے سے مشرکین نے انکار کردیا اور حضور نبی پاککو پکار کر کہا کہ ہمارے مقابلے میں ہمارے ہمسر قبیلہ قریش کے آدمی بھیجو۔ اس پر حضورنبی پاک نے اپنے خاندان کے تین قریبی عزیزوں حضرت حمزہ ؓ،حضرت علیؓاور حضرت عبیدہ ؓ بن حارث کو میدان میں بھیجا ۔ حضرت علیؓنے اپنے حریف ولید کو ایک ہی وار میں تہہ تیغ کردیا ۔ اس کے بعد جھپٹ کر حضرت عبیدہ ؓ کی مدد کی اور ان کے حریف کو بھی قتل کردیا ۔ اس کے بعد عام جنگ شروع ہوئی تو حضرت علیؓنے اپنی شجاعت کے جوہر دکھائے اور بہت سے کفار کو جہنم واصل کیا ۔
2۔ ۰۳ھ میں غزوہ احد میں حضرت علیؓنے حضرت مصعب بن عمیرؓکی شہادت کے بعد آگے بڑھ کر علم سنبھالااور بے جگری کے ساتھ داد شجاعت دی۔ اس غزوہ میں حضور نبی کریم زخمی ہوگئے تھے ۔ حضرت علیؓچند صحابہ کرامؓکے ساتھ حضور نبی پاککو پہاڑ پر لے گئے اور اپنی ڈھال میں پانی بھر کر حضور نبی کریم کے زخموں پر گرایا تاکہ خون بند ہوجائے ۔
3۔۰۴ھ میں غزوہ بنی نضیر میں بھی علم حضرت علیؓکے ہاتھ میں تھا اور وہ پیش پیش تھے۔بنو نضیر کو ان کی بدعہدی کے باعث جلاوطن کر دیا گیا تھا۔
4 ۔۰۵ھ میں غزوہ خندق میں کبھی کبھار کفار مکہ کے گھڑ سوار خندق میں گھس کر حملہ کرتے تھے۔ایک دفعہ گھڑ سواروں نے حملہ کیا تو حضرت علیؓ نے چند جاں بازوں کے ساتھ آگے بڑھ کر انہیں روکا اور گھڑ سواروں کے سردار عمرو کو قتل کر دیا ۔ اس کے قتل ہونے کے بعد باقی سواربھاگ کھڑے ہوئے۔
5 ۔غزوہ خندق کے بعد بنو قریظہ کی سرکوبی کی مہم میں بھی علم نبوی حضرت علی ؓ کے ہاتھ میں تھا اور انہوں نے بنو قریظہ کے قلعہ پر قبضہ کر لیا۔
6 ۔۰۶ھ میں بنو سعد کی سرکوبی کے لیے حضور نبی پاک نے حضرت علیؓ کو ایک سو مجاہدین کی جمعیت کے ساتھ مامور فرمایا۔انہوں نے حملہ کرکے بنو سعد کو منتشر کر دیا اور یہود خیبر کی اعانت کرنے سے انہیں روک دیا۔ بنو سعد کے پانچ سو اونٹ اور دو ہزار بکریاں مال غنیمت میں لے آئے۔
7 ۔۰۷ھ میں فتح خیبر کا شرف بھی حضرت علی ؓ کو حاصل ہوا۔ اس معرکہ میں بھی حضور نبی کریم نے اپنا علم حضرت علی ؓ کو دیا تھا اور علم دینے سے ایک دن پہلے فرمایا تھا کہ ”کل ایک ایسے بہاد ر کو علم دوں گا جو خدا اور رسول کا محبوب ہے اور خیبر کی فتح اسی کے ہاتھ میں مقدرہے۔ اس معرکہ میں حضرت علی ؓ نے خیبر کے یہودیوں کے سردار مرحب کو ایک ہی وار میں ڈھیر کر دیا تھا اور حیرت انگیز شجاعت کے ساتھ خیبر کے مضبوط قلعہ کو فتح کر لیا۔
8 ۔ ۰۸ھ میں فتح مکہ کے موقع پر حضور نبی کریم نے حضرت علی ؓ کو حکم دیا کہ وہ حضرت سعد بن عبادہ ؓ سے علم لے کر مکہ معظمہ میں داخل ہو جائیں ۔ چنانچہ وہ مکہ میں داخل ہو گئے اور مکہ معظمہ بغیر کسی خونریزی کے فتح ہو گیا۔ کعبہ کو بتوں سے پاک کرتے ہوئے حضور نبی کریم نے حضرت علی ؓ کو اپنے کندھے پر چڑھا کر سب سے بڑے بت کو گرانے کا حکم دیا ۔ انہوںنے سلاخ سے اکھاڑ کر اس بت کو پاش پاش کر ڈالااور خانہ کعبہ کی تطہیر کا کام مکمل ہوگیا۔
9 ۔فتح مکہ کے بعد غزوہ حنین کے عظیم الشان معرکہ میں بارہ ہزار مجاہدین اسلام میں سے جو حضرات ثابت قدم رہے تھے ان میں سے ایک حضرت علی ؓ بھی تھے۔ آپ نے غیر معمولی شجاعت سے لڑائی کو شکست سے فتح میں تبدیل کر دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ بالآخراللہ تعالی کی نصرت شامل حال ہو گئی اور دشمن کو شکست ہو گئی۔
10 ۔۰۹ھ میں تبوک کی مہم کے موقع پر حضور نبی پاک نے حضرت علی ؓ کو اہل بیت کی حفاظت کے لیے مدینہ منورہ میں رہنے کا حکم دیا تو شیر خدا کوجہاد سے محرومی کا غم لاحق ہو گیا۔ حضور نبی پاک نے ان کا غم دور کرنے کے لیے ارشاد فرمایا : ً علی ؓ ! کیا تم اسے پسند کرو گے کہ میرے نزدیک تمہارا وہ رتبہ ہو جو ہارون علیہ السلام کا موسی علیہ السلام کے نزدیک تھاً۔
11 ۔غزوہ تبوک سے واپسی کے بعد اسی سال حضور نبی پاک نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو امیر حج بنا کر روانہ فرمایا تھا۔ اس کے بعد آنحضور پر مدینہ منورہ میں سورة توبہ نازل ہوئی تو حضور نبی پاک نے حضرت علی ؓ کو حکم دیا کہ وہ حج کے اجتماع عام میں جا کر اس سورة کو سنائیںاور یہ اعلان کر دیں کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج کے لیے نہیں آ سکتا اور کوئی شخص کعبہ کا طواف برہنہ ہو کر نہ کرے۔
12 ۔رمضان ۱۰ھ میں حضور نبی پاک نے حضرت علی ؓ کو یمن جا کر تبلیغ اسلام کا حکم دیا۔ اس موقع پر حضور نبی کریم نے حضرت علی ؓ کے حق میںیہ دعا فرمائی کہ ً اے خدا اس کی زبان کو راست گو بنا اور اس کے دل کو ہدایت کے نور سے منور کر دے ً۔ اس دعا کے بعد حضور نبی کریم نے حضرت علی ؓ کو اپنا سیاہ علم دے کر یمن کی طرف روانہ فرمایا۔ یمن میں حضرت علی ؓ کی تعلیم و تلقین سے یمن کا اہم قبیلہ ہمدان مسلمان ہو گیا۔حضورنبی کریم کے حجة الوداع میں حضرت علیؓنے یمن سے آکر شرکت کی تھی۔
علم و فضل کے کمالات :
حضرت علیؓکو بچپن ہی سے حضورنبی کریمسے تعلیم و تربیت کا جو موقع ملا تھا اس کا سلسلہ ہمیشہ قائم رہا۔اکثر سفر میں بھی آنحضورکی رفاقت کا شرف حاصل ہوتا رہتا تھا۔اس لئے سفر سے متعلق شرعی احکام سے واقفیت حاصل ہوجاتی تھی۔ حضرت عائشہ صدیقہؓسے موزوں پر مسح کے متعلق سوال کیاگیا تو انہو ں نے حضرت علیؓسے پوچھنے کے لئے کہا اور اس کی وجہ سے یہ بیان کی کہ وہ حضورنبی کریمکے ساتھ سفر کرتے تھے۔
شاہ ولی اللہ ؒنے اپنی کتاب ”ازالة الخفائ“میں حضور نبی کریمکے ساتھ حضرت علیؓکے تقرب اور تربیت کو ان کے فضائل کی اصلی بنیاد قرار دیا ہے۔ شاہ ولی اللہ نے لکھا ہے:۔
”آپ (حضرت علیؓ)کے تقرب و اختصاص کی بناءپر خودرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپؓ کو قرآن مجید کی تعلیم دیتے تھے ۔ بعض موقعوں پر قرآن مجید کی آیتوں کی تفسیر بھی فرماتے تھے ۔ چند مخصوص احادیث بھی قلمبند کرلی تھیں ۔ غرض حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ابتداہی سے علم وفضل کے گہوارہ میں تربیت پائی تھی ۔ اس لئے صحابہ کرام ؓمیں آپ (حضرت علیؓ)غیر معمولی تجربہ اور فضل و کمال کے مالک ہوئے۔“
حضرت علیؓنے بچپن ہی میں لکھنے پڑھنے کی تعلیم حاصل کرلی تھی ۔ چنانچہ اسلام لانے کے وقت اگرچہ آپؓکی عمر بہت کم تھی ، تاہم آپ لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔اسی لئے ابتداءہی سے بعض دوسرے صحابہ ؓکی طرح حضرت علیؓبھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تحریر ی امور انجام دیتے تھے۔ چنانچہ کاتبان وحی میں حضرت علیؓکا نام بھی شامل ہے ۔ نبی اکرم کی طرف سے بعض مکاتیب و فرامین حضرت علیؓکے دست مبارک سے لکھے ہوئے تھے۔ حدیبیہ کا صلح نامہ بھی حضرت علیؓ نے لکھا تھا ۔ صلح نامہ کے شروع میں انہوں نے لکھا کہ یہ صلح نامہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مکہ کے قریش کے درمیان طے پایا ہے ۔ اس پر قریش مکہ کے نمائندے نے اعتراض کیا کہ ہم تو محمدکو اللہ کا رسول نہیں مانتے تو حضور نبی کریمنے حضرت علیؓسے فرمایا کہ آپ رسول اللہ کے الفاظ کاٹ دیں ۔ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ ان الفاظ کو میں تو اپنے ہاتھ سے نہیں مٹاسکتا(کیونکہ یہ حقیقت پر مبنی ہیں)اس پر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود اپنے دست مبارک سے ان الفاظ کو کاٹ دیا ۔
تفسیر اور علوم القرآن:
اسلام کے علوم و معارف کا اصل سرچشمہ قرآن پاک ہے۔ حضر ت علیؓاس سرچشمہ سے پوری طرح سیراب ہوئے تھے۔ انہوں نے حضورنبی پاککی زندگی میں نہ صرف پورا قرآن زبانی یاد کرلیاتھا بلکہ اس کی ایک ایک آیت کے معنی اور شان نزول سے بھی واقف تھے۔ حضرت علیؓکا شمار مفسرین قرآن کے اعلیٰ طبقہ میں ہوتا ہے اور صحابہ کرامؓمیں حضرت ابن عباسؓکے سوا اس کمال میں حضرت علیؓکا کوئی شریک نہیں ۔علم ناسخ و منسوخ میں بھی آپؓ کو کمال حاصل تھا۔
قرآن پاک سے اجتہاد اور مسائل کے استنباط میں آپؓکو یدطولیٰ حاصل تھا۔ چنانچہ تحکیم کے مسئلہ میں خوارج نے اعتراض کیا کہ فیصلہ کا حق خدا کے سوا کسی کو حاصل نہیں تو حضرت علیؓ نے فرمایا کہ” اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کے درمیان اختلاف کی صورت میں دونوں کے خاندانوں میں سے حکم بنانے کی اجازت دی ہے تو امت محمدیہ میں اختلاف ہوجانے پر حکم بنانا کس طرح ناجائز ہوسکتا ہے؟ کیا امت محمدیہ کی حیثیت ایک مرد اور ایک عورت سے بھی خدا کی نگاہ میں کم ہے ؟“
قرآن پر عمل کا شوق:
قرآن کے علم کے ساتھ حضرت علیؓ قرآن پر عمل میں بھی دوسروں پر سبقت لے جانے والے تھے۔ سورہ المجادلہ کی آیت نمبر۱۲میں اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم سے تخلیہ میں بات کرنے سے پہلے صدقہ دینے کا حکم دیا تو حضرت علیؓنے فوراً اس آیت پر عمل کیا ۔ مولانا مودودیؒنے تفہیم القرآن جلد پنجم میں اس آیت کی تشریح میں ابن جریر کی یہ روایت نقل کی ہے کہ ”حضرت علی ؓفرماتے ہیں کہ قرآن کی یہ ایک ایسی آیت ہے جس پر میرے سوا کسی نے عمل نہیں کیا۔ اس حکم کے آتے ہی میں نے صدقہ پیش کیا اورایک مسئلہ آپسے پوچھ لیا ۔“یہ حکم صرف ایک دن یا دوسری روایت کے مطا بق دس دن تک باقی رہا ۔ آیت نمبر۱۳میں یہ حکم منسوخ ہوگیا ۔اور صدقہ دینا ضروری نہ رہا۔
علم حدیث :
حضرت علیؓنے بچپن سے لے کر حضور نبی کریم کی وفات تک پورے تیس سال حضور نبی پاککی خدمت اور رفاقت میں بسر کئے تھے او ر سفر و حضر میں حضور کے ساتھ رہے ۔نبی پاککی وفات کے بعد تقریباً تیس سال تک حضرت علیؓ مسند ارشاد پر فائز رہے ۔ پہلے تین خلفائے راشدینؓ کے عہد میں دعوت و ارشاد اور قضاءکی خدمت حضرت علیؓکے سپرد رہی اور اپنے زمانہ ءخلافت میں بھی حضرت علیؓکا فیض جاری رہا ۔ حضرت علیؓ کی روایت حدیث کی تعداد 586ہے ۔ حضرت علی ؓنے حضور نبی کریم کے علاوہ اپنے رفقائے محترم اور ہم عصروں میں حضرت ابوبکرصدیقؓ،حضر ت عمر فاروقؓ،حضرت مقداد بن الاسودؓاوراپنی زوجہ محترمہ حضرت فاطمہ ؓسے بھی روائتیں کی ہیں ۔
حضرت علیؓسے آپ کی اولاد حضرت امام حسن ؓ،امام حسینؓ ، محمد بن حنفیہؓ کے علاوہ بہت سے صحابہ کرام ؓمثلاً حضرت عبداللہ بن مسعودؓ،حضرت ابوہریرہؓ، ابوسعیدخدریؓ،زید بن ارقمؓ،صہیبؓ رومی ، ابن عباسؓ،ابن عمرؓاور دوسرے بہت سے صحابہ کرام کے علاوہ بہت سے تابعین عظام نے حدیث کے علم کا فیض پایا ہے۔
فقہ و اجتہاد:
حضرت علیؓکو فقہ و اجتہاد میں بھی کامل دستگاہ حاصل تھی۔ بڑے بڑے صحابہ کرامؓ ،یہاں تک کہ حضرت عمرؓاور حضرت عائشہ صدیقہ ؓکو بھی حضرت علیؓکے فضل و کمال کا ممنون ہونا پڑتاتھا۔ فقہ و اجتہاد کے لئے کتاب و سنت کے علم کے ساتھ سرعت فہم ، دقیقہ سنجی اور غیر معمولی ذہانت کی بڑی ضرورت ہوتی ہے۔ حضرت علیؓکو یہ سب کمالات اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کئے گئے تھے ۔ مشکل سے مشکل اور پیچیدہ مسائل کی تہہ تک آپؓ کی نکتہ رس نگاہ آسانی سے پہنچ جاتی تھی ۔
منصب قضاءاورعدالتی فیصلے:
قرآن وسنت او رفقہ واجتہاد میں گہری بصیرت کی بناءپر حضرت علیؓمنصب قضاءکے لئے بہت زیادہ موزوں تھے۔ حضرت عمرؓفرمایا کرتے تھے کہ ”ہم میں سے مقدمات کے فیصلے کے لئے سب سے موزوں حضرت علیؓ ہیں۔“حضرت عبداللہ بن مسعودؓنے فرمایا :”ہم (صحابہ ؓ)کہا کرتے تھے کہ مدینہ والوں میں سب سے زیادہ صحیح فیصلہ کرنے والے حضرت علیؓ ہیں۔
حضورنبی کریم نے یمن کے قاضی کے طورپر حضرت علیؓکو مقرر فرمایا تھا ۔ ان کے حق میں دعا بھی کی اور قضاءکے بنیادی اصول کی تعلیم بھی دی ۔ حضورنبی کریمنے انہیں فرمایاتھا:
”علی!جب تم دوآدمیوں کا جھگڑا چکانے لگو تو صرف ایک آدمی کا بیان سن کر فیصلہ نہ کرو۔ اس وقت تک اپنے فیصلے کو روکو جب تک دوسرے کا بیان بھی نہ سن لو۔“
خلیفہ دوم حضرت عمرفاروقؓنے بھی حضرت علیؓکو مدینہ کا قاضی مقرر فرمایاتھا۔ حضرت علیؓ نے ماہر ، عادل اور قابل قاضی کے طور پر اپنے فرائض ادا کئے تھے۔خلافت راشدہ کے زمانہ میں حضرت علیؓخلیفہ اول ابوبکرصدیقؓاور خلیفہ دوم حضرت عمرؓاور خلیفہ سوم حضرت عثمان ؓکے مشیر رہے تھے ۔ حضرت علیؓکو مجلس شوریٰ میں شامل رکھا گیاتھا۔ حضرت عمرؓکو جب کوئی مشکل معاملہ پیش آجاتا تو حضرت علیؓسے مشورہ کرتے تھے ۔ ”انہوں نے فرمایا تھااگر علیؓنہ ہوتے تو عمرؓہلاک ہوجاتا۔“
حضرت علیؓکے عدالتی فیصلے اسلامی قانون کے بہترین نظائر کی حیثیت رکھتے تھے ۔ اس لئے اہل علم نے ان کوتحریری صورت میں مدون کرلیا تھا۔
تقریر و خطابت:
تقریر و خطابت میں حضرت علیؓکو خدا داد ملکہ حاصل تھا۔ آپؓکی تقریریں نہایت خطیبانہ ، مدلل اور بہت م¶ثر ہوتی تھیں ۔ حضرت علیؓکے خطبات کو ”نہج البلاغة “کے نام سے چار جلدوں میں جمع کردیا گیا ہے ۔ ان خطبات نے دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کو فصیح و بلیغ مقرر بنادیا ہے ۔ حضرت علیؓکی طرف بہت سے اشعار بھی منسوب ہیں ۔ معرکہ خیبر میں آپؓکا رجزیہ شعر بہت مشہور ہے ۔
حضرت علیؓکے بعض اقوال اور فرمودات علم و حکمت کے قیمتی موتی ہیں ۔ ان سے قیامت تک رہنمائی حاصل کی جاتی رہے گی ۔ چند ایک بطور نمونہ پیش ہیں :
اللہ کی معرفت کے بارے میں انہوں نے فرمایا :”میںنے خدا کو ارادوں کے ٹوٹنے اور عقدوں کے حل ہونے سے پہچانا۔“نیز فرمایا:”تنہائیوں میں گناہ کرنے سے ڈرو کیونکہ جو گواہ ہے ،وہی حاکم ہے ۔“
حضورنبی کریم کے بارے میں حضرت علیؓنے فرمایا :”میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس (اللہ ) کے بندے اور رسول ہیں، جنہیں خدا نے اس وقت بھیجا جب ہدایت کے نشان پرانے ہوچکے تھے اور دین کے راستے مٹ چکے تھے۔ انہوں نے کھلم کھلا حق کی دعوت دی ، دنیا کو نصیحت کی ، ہدایت کی طرف رہبری کی اور سیدھے راستے پر چلنے کا حکم دیا ۔“
ایمان کے بارے میں فرمایا :”ایمان کے چارستون ہیں ۔ صبر ، یقین ، عدل اور جہاد ۔“
حضرت علیؓکے فضائل اور کمالات اور ان کی سیرت کے درخشاں پہلو تو بے شمار ہیں ۔ طوالت کے خوف سے ان سب کا احاطہ نہیں کیاجاسکتا۔ آخر میں عرض ہے کہ حضرت علیؓاور ان کے عالی نسب خاندان سے عقیدت کے اظہار کے لئے میرے ایک پوتے کا نام علی رکھا گیا ہے اور دوسرے پوتے کا نام حسن ہے۔ میری ایک نواسی کا نام فاطمہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان کو ان بزرگ ہستیوں کے نقش قدم پر چلائے ۔اللہ تعالیٰ مجھے اور تمام مسلمانوں کو حضرت علیؓ کی سیرت سے رہنمائی حاصل کرکے اپنی زندگیوں کو سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے !آمین۔

اللہ آپ کو اور مجھے ایمان کی حلاوت نصیب فرمائے اورحقیقی خوشیاں عطا فرمائے اور ہمیں اِن پاک نفوس کی اتباع کی توفیق نصیب فرمائے اور اللہ پاک سے دعا ھے ہر کمی معاف فرما کر ﺫریعہ نجات بناۓ..آمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے