Home / تعلیم و صحت / سیرت مبارکہ ازواج مطہرات) درس نمبر ..(7)

سیرت مبارکہ ازواج مطہرات) درس نمبر ..(7)

بسم الله الرحمن الرحيم
تحریر, ترتیب, انتخاب
بابرالیاس… قلمدان ڈاٹ نیٹ ,ساہیوال نیوز
( تاریخ اسلام کی روشنی میں)
موضوع …مؤمنین کی والدہ(امہات المؤمنین)
عنوان…
سیرت مبارکہ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالی عنہا
پیدائش 590ء
وفات 641 (53 سال عمر در قمری سال)
مدینہ منورہ، سعودی عرب
وجۂ شہرت زوجۃ پیغامبرِ اسلام محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، ام المؤمنین
شریک حیات
پہلا شوہر (جو 622ء میں فوت ہوگئے)
زید بن حارثہ (طلاق شد)
محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم
والدین
زینب بنت جحش بن رمأب بن یعمر بن صبرۃ بن مرۃ بن کثیر بن غنم بن دودان بن اسد بن خزیمہ۔
ماں کا نام امیمہ بنت عبدالمطلب تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی تھیں۔ اس لحاظ سے حضرت زینب رضی اللہ عنہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی زاد بہن تھیں

ام المؤمنین
حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا (عربی: زينب بنت جحش‎، پیدائش: 593ء) حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج میں سے ایک تھیں۔

ابتدائی زندگی

نام زینب اور کنیت ام الحکم تھی۔ والد کا نام جحش بن رباب اور والدہ کا نام امیمہ تھا جو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پھوپھی تھیں۔ اس طرح حضرت زینب رضی اللہ عنہا حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پھوپھی زاد تھیں۔ پہلے ان کا نام برہ تھا جسے حضور ﷺ نے تبدیل فرمایا۔ (آنحضرت کی دیگر دو ازواج مطہرہ جویریہ بنت حارث اور میمونہ بنت حارث کا نام بھی برہ تھا جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بدل دیا تھا۔)
حضرت زینب بنت ام سلمہ (رض) سے روایت ہے کہ میرا نام برہ تھا رسول اللہ ﷺ نے میرانام زینب رکھ دیا۔ آپ ﷺ کے پاس (نکاح میں ) زینب بنت جحش (رض) آئیں ان کا نام بھی برہ تھا تو آپ ﷺ نے اس کا نام بھی زینب رکھ دیا۔[1]

ازدواجی زندگی

حضرت زینب کا پہلا نکاح حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے منہ بولے بیٹے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے ہوا جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے آزاد کردہ غلام اورمتبنیٰ (گود لیے ہوئےلے پالک، بیٹے)تھے۔ دونوں کے تعلقات خوشگوار نہ رہ سکے تو حضرت زید نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ان کو طلاق دینے کی اجازت مانگی لیکن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو نباہ کرنے کا مشورہ دیا۔ لیکن جب تعلقات اور زیادہ ناخوشگوار ہونے لگے تو حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے انہیں طلاق دے دی۔

جب زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے آپ کو طلاق دے دی چونکہ عرب میں اس وقت تک متبنیٰ کو اصلی اولاد تصور کیا جاتا تھا اس لئے آپ تامل فرماتے رہےلیکن چونکہ یہ جاہلیت کی رسم تھی اس کا مٹانا مقصود تھاتو اللہ تعالیٰ نے درجِ ذیل آیت قرآنی نازل فرما کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے نکاح کرنے کا حکم دیا۔

وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخْشَاهُ ۖ فَلَمَّا قَضَىٰ زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا لِكَيْ لَا يَكُونَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ حَرَجٌ فِي أَزْوَاجِ أَدْعِيَائِهِمْ إِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا ۚ وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ مَفْعُولًا
اور جب تو نے اس شخص سے کہا جس پر الله نے احسان کیا اور تو نے احسان کیا اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھ الله سے ڈر اور تو اپنے دل میں ایک چیز چھپاتا تھا جسے الله ظاہر کرنے والا تھا اور تو لوگوں سے ڈرتا تھا حالانکہ الله زیادہ حق رکھتا ہے کہ تو اس سے ڈرے پھر جب زید اس سے حاجت پوری کر چکا تو ہم نے تجھ سے اس کا نکاح کر دیا تاکہ مسلمانوں پر ان کے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے بارے میں کوئی گناہ نہ ہو جب کہ وہ ان سے حاجت پوری کر لیں اور الله کا حکم ہوکر رہنے والا ہے۔

— قرآن: سورۃ الاحزاب:37
اس آیت کے نزول کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے نکاح کر لیا۔ آپ کے دعوت ولیمہ میں حجاب کی آیات نازل ہوئیں[2]

آپ کی دو بیوہ بھابھیاں بھی ازواج مطہرہ تھیں۔ (ام حبیبہ جو عبید اللہ بن جحش کی بیوہ تھیں اور زینب بنت خزیمہ جو عبد اللہ بن جحش کی بیوہ تھیں۔)

حضرت زینب رضی اللہ عنہا ان خوش قسمت لوگوں میں سے تھیں جنہوں نے سابقون الاولون بننے کا شرف حاصل کیا۔ سن ۱۳ ہجری بعد بعثت میں اپنے اہل خاندان کے ہمراہ ہجرت کرکے مدینہ تشریف لے گئیں۔
حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام اور منہ بولے بیٹے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کو بیحد محبوب رکھتے تھے۔ اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے کر دیا۔ علامہ ابن سعد رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ حضرت زینب کو بعض وجوہات کیا بناء پر یہ رشتہ پسند نہ تھا اسلئے انہوں نے نکاح سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: ’’ یا رسول اللہ! میں زید کو اپنے لئے پسند نہیں کرتی۔‘‘ لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس نکاح میں بہتری سمجھتے تھے اسلئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی منشا کے مطابق حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کا عقد حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے ہو گیا۔ لیکن دونوں میں نباہ نہیں ہو سکا۔ تقریباً ایک برس بعد حضرت زید نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شکایت کی’’ کہ یا رسول اللہ! زینب مجھ سے زبان درازی کرتی ہے میں اسکو طلاق دینا چاہتا ہوں۔‘‘
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سمجھایا کہ طلاق اللہ کے نزدیک پسندیدہ فعل نہیں ہے۔ چنانچہ سورۃ احزاب کی اس آیت میں اسی طرف اشارہ ہے:

وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ (الاحزاب:۳۷)

ترجمہ: اور جبکہ تم اس شخص سے جس پر اللہ نے اور تم نے احسان کیا، یہ کہتے تھے کہ اپنی بیوی کو نکاح میں رکھو اور اللہ سے ڈرو۔

بہرحال حضرت زید رضی اللہ عنہ کا حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے نباہ نہ ہو سکا،اور حضرت زید نے بالاخر حضرت زینب کو طلاق دے دی۔ جب حضرت زینب رضی اللہ عنہا ایّام عدّت پورے کر چکیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ان سے نکاح کرنا چاہا لیکن عرب میں اس وقت تک رسوم جاہلیّت کا اثر باقی تھا اور لوگ منہ بولے بیٹے کو حقیقی بیٹے کے برابر سمجھتے تھے۔ چونکہ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ بولے بیٹے تھے اور لوگوں میں زید بن محمد کے نام سے مشہور تھے اسلئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو عام لوگوں ( اور بالخصوص منافقوں) کے اعتراض کے خیال سے اس نکاح میں تامّل ہوا۔ اللہ تعالیٰ کو چونکہ جالیت کی رسوم کو مٹانا مقصود تھا اس لئے یہ آیت نازل ہوئی۔

وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخْشَاهُ (سورۃ الاحزاب: ۳۷)
ترجمہ: تم اپنے دل میں وہ بات چھپاتے ہو جس کو اللہ ظاہر کر دینے والا ہے اور لوگوں سے ڈرتے ہو حالانکہ اللہ اس کا زیادہ حقدار ہے کہ تم اس سے ڈرو۔

اسکے بعد اللہ تعالیٰ نے واضح الفاظ میں معترضین کا متنبّہ کیا۔

مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا (سورۃ الاحزاب:۴۰)
ترجمہ: لوگو! محمّد تمہارے مردوں میں سے کسی کے بھی باپ نہیں ہیں مگر وہ اللہ کے رسول اور خاتم النّبیّین ہیں۔
پھرحکم ہوا۔

ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ( الاحزاب:۵)
ترجمہ: لوگوں کو انکے (حقیقی) باپ کے نام سے پکارو۔

اب کوئی امر مانع نہ تھا چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خدمت حضرت زید رضی اللہ عنہ کع و ہی تفویض کی کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح کا پیغام لے کر حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے پاس جائیں۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے گھر گئے اور کہا: ’’ زینب! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم سے نکاح کے خواہشمند ہیں۔‘‘
حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے کہا: ’’ میں اللہ کے حضور استخارہ کرتی ہوں۔‘‘
یہ کہہ کر مصلّے پر کھڑی ہو گئیں، ادھر اللہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی بھیجی:۔

فَلَمَّا قَضَى زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا ( الاحزاب:۳۷)
ترجمہ: پھر جب زید اس سے اپنی حاجت پوری کر چکا تو ہم نے وہ (مطلّقہ خاتون) تیرے نکاح میں دے دی۔

گویا اللہ تعالیٰ نے خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے کر دیا۔ اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زینب کے مکان پر تشریف لے گئے اور بلا استیذان اندر چلے گئے۔ صبح کو دعوت ولیمہ ہوئی جس میں روٹی اور سالن کا انتظام کیا گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو لوگوں کو بلانے کے لئے بھیجا، تین سو آدمی دعوت میں شریک ہوئے۔ دس دس کی ٹکڑیوں میں آتے اور کھانا کھا کر چلے جاتے۔ اتفاق ایسا ہوا کہ چند لوگ کھانا کھا کر باتوں میں مشغول ہو گئے اور اٹھنے کا خیال ہی نہ رہا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ازراہ مروّت انہیں اٹھنے کیلئے نہ فرماتے اور بار بار اندر آتے اور باہر جاتے۔ اسی مکان میں حضرت زینب رضی اللہ عنہا بھی دیوار کی طرف منہ کئے بیٹھی تھیں۔ جب بہت دیر ہو گئی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف ہوئی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت حجاب نازل کی:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلاَّ أَن يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانتَشِرُوا وَلا مُسْتَأْنِسِينَ لِحَدِيثٍ إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ فَيَسْتَحْيِي مِنكُمْ وَاللَّهُ لا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِن وَرَاء حِجَابٍ (سورۃ الاحزاب: ۵۳)
ترجمہ: اے ایمان والو! جب تک تمہیں اجازت نہ دی جائے تم نبی کے گھروں میں نہ جایا کروکھانے کیلئے ایسے وقت میں کہ اس کے پکنے کا انتظار کرتے رہو بلکہ جب بلایا جائے جاؤ اور کھانے کے بعد نکل کھڑے ہو، وہیں باتوں میں مشغول نہ ہو جایا کرو۔نبی کو تمہاری اس بات سے تکلیف ہوتی ہے تو وہ لحاظ کر جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ( بیان) حق میں کسی کا لحاظ نہیں کرتا، جب تم نبی کی بیویوں سے کوئی چیز طلب کرو تو پردے کی اوٹ سے طلب کرو۔

اس آیت کے نزول کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مکان کے دروازے پر پردہ لٹکا دیا اور لوگوں کو گھر کے اندر داخل ہونے کی ممانعت ہو گئی۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا نکاح کئی خصوصیات کا مظہر تھا۔
(۱) جاہلیت کی رسم کے متنبّیٰ حقیقی بیٹے کا درجہ رکھتا ہے، مٹ گئی۔
(۲) لوگوں کو حکم ہوا کہ کسی کو حقیقی باپ کے علاوہ دوسرے (منہ بولے باپ) سے منسوب نہ کرو۔
(۳) اللہ تعالیٰ نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا نکاح وحی کے ذریعے کیا۔
(۴) نہایت شاندار ولیمہ کیا گیا جس میں بکری کا گوشت اور روٹی حضرت امّ سلیم رضی اللہ عنہا کا بھیجا ہوا مالیدہ شامل تھا۔ بکثرت لوگوں نے سیر ہو کر کھایا۔
(۵) اس موقع پر آیت حجاب نازل ہوئی اور پردے کا رواج ہوا۔
یہی خصوصیات تھیں جن کی بنا پر حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہمسری کا دعویٰ تھا۔
حضرت زینب رضی اللہ عنہا نہایت دیندار، پرہیزگار، حق گو اور مخیّر تھیں۔ ان کی عبادت و زہد کا خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اعتراف تھا۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ’’الاصابہ‘‘ میں لکھا ہے کہ ایک دفعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین کی ایک جماعت میں مال غنیمت تقسیم فرما رہے تھے، حضرت زینب رضی اللہ عنہا بھی اس موقع پر موجود تھیں۔انہوں نے کوئی ایسی بات کہی جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو ناگوار گزری۔ انہوں نے ذرا تلخ لہجے میں حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو دخل دینے سے منع کیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ عمر ان سے کچھ نہ کہو یہ اوّاہ (یعنی بڑی عبادت گزار اور اللہ سے ڈرنے والی ہیں)۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ان کے متعق فرمایا ہے:
’’ میں نے دین کے معاملے میں زینب سے بہتر کوئی عورت نہیں دیکھی۔‘‘
واقعہ افک میں حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی حقیقی بہن حمنہ رضی اللہ عنہا بنت جحش بھی غلط فہمی کا شکار ہو گئی تھیں، لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق استفسار کیا تو انہوں نے صاف صاف کہہ دیا: ’’ میں عائشہ میں بھلائی کے سوا کچھ نہیں پاتی۔‘‘
ابن سعد کا بیان ہے کہ ایک دفعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہّرات کو مخاطب کر کے فرمایا:
تم میں سے مجھے وہ جلد ملے گی جس کا ہاتھ سب سے لمبا ہوگا۔‘‘
لمبے ہاتھ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد فیّاضی تھی۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہا بیحد فٰیّاض اور مخیّر تھیں۔ چنانچہ اس پیشگوئی کا مصداق ثابت ہوئیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج میں سب سے پہلے انہوں نے ہی وفات پائی۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہا خود اپنے دست بازو سے روزی کماتی تھیں وہ فن دباغت جانتی تھیں، اس سے جو آمدنی ہوتی تھی اللہ کی راہ میں صدقہ کر دیتی تھیں۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد خلافت میں تمام امّہات المؤمنین کا خطیر وظیفہ مقرر کر دیا تھا۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہا یہ وظیفہ ملتے ہی حاجت مندوں میں تقسیم کر دیا کرتی تھیں۔ ایک دفعہ سالانہ وظیفہ ملا تو اسکو اپنے رشتہ داروں اور یتیموں میں تقسیم کرکے دعا کی:
’’ اے اللہ! آئندہ یہ مال مجھ کو نہ ملے کیونکہ یہ فتنہ ہے۔‘‘
حضرت عمر کو یہ معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا: ’’ زینب بڑی مخیّر ہیں۔‘‘
پھر مزید ایک ہزار درہم حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجے، انہوں نے وہ بھی فوراً خیرات کر دیئے۔
حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے ۵۳ سال کی عمر میں سنہ ۲۰ ہجری میں وفات پائی۔ ان کے انتقال سے مدینہ کے فقراء اور مساکین میں حشر برپا ہو گیا، کیونکہ وہ ان کی مربّی و دستگیر تھیں۔ وفات کے وقت سوائے ایک مکان کے کوئی ترکہ نہ چھوڑا، سب کچھ اپنی زندگی میں راہ خدا میں لٹا چکی تھیں۔ وفات سے کچھ دیر پہلے وصیت کی کہ مجھے تابوت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اٹھایا جائے چنانچہ انکی وصیت پوری کی گئی۔ وفات کے دن شدید گرمی تھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قبر کی جگہ خیمہ لگوادیا۔ نماز جنازہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے پڑھائی، حضرت محمد بن عبداللہ بن جحش، اسامہ بن زید ، عبداللہ بن ابی احمد اور محمد بن طلحہ رضی اللہ عنہم نے قبر میں اتارا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کی وفات کے موقع پر فرمایا:

ذَھَبَتْ حَمِیْدَۃُُ فَقِیْدَۃُُ مُفَزِّعَۃُ الیَتَامیٰ وَالاَرْمَلَۃِ’’

وہ نیک بخت بے مثل خاتون چلی گئیں اور یتیموں اور رانڈوں کو بے چین کر گئیں۔‘‘ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے گیارہ احادیث مروی ہیں جن کے راویوں میں حضرت امّ حبیبہ اور زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا وغیرہ شامل ہیں..
حرم نبوت میں آنا
۔عرب میں ایک جاہلیت کی رسم تھی کہ جسے متبنی(منہ بولی بیٹا)بنایاجاتاتھااسے حقیقی بیٹا ہی تصور کیا جاتاتھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے متبنی کی مطلقہ حضرت زینب رض کے ساتھ نکاح کرکے اس جاہلانہ رسم کا قلعہ قمع کیا اور حضرت زینب رضی اللہ عنیہا کی اس میں حوصلہ افزائی بھی فرمائی
حلیہ
حضرت زینب رضی اللہ عنہا کوتاہ قامت لیکن خوبصورت اور موزوں اندام تھیں
(زرقانی ج ۳ص۲۸۳)
فضل وکمال
روایتیں کم کرتی تھیں کتب حدیث میں ان سے صرف گیارہ روایتیں منقول ہیں راویوں میں حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا،زینب بنت ابی سلمہ رض ،محمد بن عبداللہ بن جحش رض (برادرزادہ)کلثوم بنت طلق داخل ہیں
اخلاق
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیںحضرت زینب نیک خو،روزہ دار،ونماز گذارتھیں(زرقانی بحوالہ ابن اسد)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے کوئی عورتزینب رضی اللہ عنہا سےزیادہ دیندار،پرہیزگار،زیادہ راست گفتاع،زیادہ فیاض،مخیر اور خداکیرضاجوئی میں زیادہ سرگرم نہیں دیکھی
فقط مزاج میں زراتیزی تھی جس پر ان کو بہت جلد ندامت بھی ہوتی تھی
(مسلم ج۲ ص ۳۳۵)
حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا زہدوتقوی اور تورع میں یہ حال تھا کہ جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائی گائی اور اس تہمت میں خود حضرت زینب رض کی بھن حمنہ شریک تھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی اخلاقی حالت دریافت کی تو انھوں نے صاف لفظوں میں کہہ دیاماعلمت الاخیرا مجھ کو حضرت عائشہ رض کی بھلائی کے سوا کسی چیز کا علم نہیں
حضرت عائشہ رض کو ان ان کے اس صدق وقرارحق کا اوعتراف کرنا پڑا
عبادت میں نہایت خشوع وخضوع کے ساتھ مصروف رہتی تھیں ایک مرتبہ مہاجرین پر کچھ مال تقسیم کررہے تھے حضرت زینب رضی اللہ عنہا اس معاملے میں کچھ بول اٹھیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ڈانٹا ۔آپ نے فرمایا ان سے درگذرکرو یہ اواہ ہیں ( یعنی خشوع خضوع اورتواضع واتقوی والی ہیں)
(اصابہ ج ۸ص ۹۳)
حلیہ

حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا کوتاہ قامت لیکن خوبصورت اور موزوں اندام تھیں۔[10] [] فضل و کمال

روائتیں کم کرتی تھیں، کتب حدیث میں ان سے صرف گیارہ روائتیں منقول ہیں، راویوں میں حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا، زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ، محمد بن عبداللہ بن حجش(برادرزادہ) کلثوم بنت طلق اور مذکور(غلام) داخل ہیں۔
] اخلاق

حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں۔
“یعنی حضرت زینب( رضی اللہ تعالی عنہا) نیک خو، روزہ دار و نماز گزار تھیں۔”[11] حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں۔
“میں نے کوئی عورت زینب( رضی اللہ تعالی عنہا) سے زیادہ دیندار، زیادہ پرہیزگار، زیادہ راست گفتار، زیادہ فیاض، مخیر اور خدا کی رضا جوئی میں زیادہ سرگرم نہیں دیکھی فقط مزاج میں ذرا تیزی تھی جس پر انکو بہت جلد ندامت بھی ہوتی تھی۔”[12] حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا کا زہدوتورع میں یہ حال تھا۔ کہ جب حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا پر اتہام لگایا گیا اور اس اتہام میں خود حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا کی بہن حمنہ شریک تھیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی اخلاقی حالت دریافت کی تو انہوں نے صاف لفظوں میں کہدیا۔
“مجھکو عائشہ( رضی اللہ تعالی عنہا) کی بھلائی کے سوا کسی چیز کا علم نہیں۔”
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کو انکے اس صدق و قرار حق کا اعتراف کرنا پڑا۔
عبادت میں نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ مصروف رہتی تھیں، ایک مرتبہ آپ مہاجرین پر کچھ مال تقسیم کر رہے تھے، حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا اس معاملہ میں کچھ بول پڑیں، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ڈانٹا، آپ نے فرمایا ان سے درگزر کرو یہ اَواہ ہیں[13](یعنی خاشع و متضرع ہیں۔)
نہایت قانع و فیاض طبع تھیں، خود اپنے دست و بازو سے معاش پیدا کرتی تھیں اور اسکو خدا کی راہ میں لٹا دیتی تھیں، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے کہ جب حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا کا انتقال ہوا، تو مدینہ کے فقراء کو مساکین میں سخت کھلبلی پیدا ہو گئی اور وہ گھبرا گئے[14] ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے انکا سالانہ نفقہ بھیجا، انہوں نے اس پر ایک کپڑا ڈال دیا اور بزرہ بنت رافع کو حکم دیا کہ میرے خاندانی رشتہ داروں اور یتیموں کو تقسیم کدو۔ بزرہ نے کہا آخر ہمارا بھی کچھ حق ہے؟ انہوں نے کہا کپڑے کے نیچے جو کچھ ہو وہ تمھارا ہے، دیکھا تو پچاسی درہم نکلے جب تمام مال تقسیم ہو چکا تو دعا کی کہ خدایا اسی سال کے بعد عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے عطیہ کے فائدہ نہ اٹھاؤ، دعا قبول ہوئی اور اسی سال انتقال ہو گیا۔[15]

وفات

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن سے فرمایا تھا۔
“تم میں مجھ سے جلد وہ ملیں گی جسکا ہاتھ لمبا ہوگا۔”
یہ استعارةً فیاضی کی طرف اشارہ تھا، لیکن ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن اسکو حقیقت سمجھیں چنانچہ باہم اپنے ہاتھوں کو ناپا کرتی تھیں۔ حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا اپنی فیاضی کی بنا پر اس پیشن گوئی کا مصداق ثابت ہوئیں، ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن میں سب سے پہلے انتقال کیا،کفن کا سامان خود تیار کر لیا تھا۔ اور وصیت کی تھی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ بھی کفن دیں تو ان میں سے ایک کو صدقہ کر دینا، چنانچہ یہ وصیت پوری کی گئی حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی، اسکے بعد ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن سے سے دریافت کیا کہ کون قبر میں داخل ہو گا، انہوں نے کہا وہ شخص جو انکے گھر میں داخل ہوا کرتا تھا، چنانچہ اسامہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہ، محمد بن عبداللہ بن جحش، عبداللہ بن ابی احمد بن جحش نے انکو قبر میں اتارا اور بقیع میں سپردخاک کیا،[8] حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا نے سن بیس ہجری میں انتقال کیا اور 53 برس کی عمر پائی، واقدی نے لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جس وقت نکاح ہوا اس وقت 35 سال کی تھیں لیکن یہ عام روایت کے خلاف ہے، عام روایت کے مطابق انکا سن 38 سال کا تھا۔
حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا نے مال متروکہ میں صرف ایک مکان یادگار چھوڑا تھا، جسکو ولید بن عبدالمالک نے اپنے زمانۂ حکومت میں پچاس ہزار درہم پر خرید کیا اور مسجد نبوی میں شامل کر دیا گیا،[9] حدیثیں:
حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے 11 حدیثیں حضو رعلیہ الصلوٰۃ والسلام سے روایت کی ہیں، جن میں سے دو حدیثیں بخاری ومسلم دونوں کتابوں میں مذکور ہیں، باقی نو دیگر کتب احادیث میں لکھی ہوئی ہیں-

حوالہ جات

↑ (اسدالغابہ ج5ص463)
↑ (اسد الغابہ ج5ص463)
↑ (صحیح ترمذی ص531)
↑ (فتح الباری ج8ص403 تفسیر سورة احزاب)
↑ (ترمذی ص561، اسد الغابہ ج5ص464)
↑ (صحیح مسلم باب فضل عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا)
↑ (صحیح مسلم فضل عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا)
↑ (صحیح بخاری ج1ص191، مسلم ص341ج2، اسد الغابہ ص465ج5)
↑ (طبری ص2449ج13)
↑ (زرقانی ص283)
↑ (زرقانی بحوالہ ابن سعد)
↑ (مسلم ج2ص335(فضل عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا))
↑ (اصابہ ج8ص93)
↑ (اصابہ113ج8بحوالہ ابن سعد)
↑ (ابن سعد ج8ص78)

↑ صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 1111
↑ سیر الصحابہ، سعید انصاری ،جلد6، صفحہ 71،دارالاشاعت کراچی
↑ سیر الصحابہ، سعید انصاری ،جلد6، صفحہ 73،دارالاشاعت کراچی

اللہ آپ کو اور مجھے ایمان کی حلاوت نصیب فرمائے اورحقیقی خوشیاں عطا فرمائے اور ہمیں اِن پاک نفوس کی اتباع کی توفیق نصیب فرمائے اور اللہ پاک سے دعا ھے ہر کمی معاف فرما کر ﺫریعہ نجات بناۓ..آمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے