Home / تعلیم و صحت / سیرت مبارکہ (ازواج مطہرات) درس نمبر ..(9)

سیرت مبارکہ (ازواج مطہرات) درس نمبر ..(9)

بسم الله الرحمن الرحيم
تحریر, انتخاب, ترتیب
بابرالیاس,,,, قلمدان ڈاٹ نیٹ
( تاریخ اسلام کی روشنی میں)
موضوع …مؤمنین کی والدہ(امہات المؤمنین)
عنوان…
سیرت مبارکہ حضرت
ریحانہ بنت زید رضی اللہ تعا لی عنہا
( ان کے بارے میں مختلیف تحریر ملتی ہیں میں نے ان سب کو تین حصوں میں آپکی نظر کر دیا ھے )
حصہ اول
ریحانہ بنت زید (عربی: ريحانة بنت زيد بن عمرو‎) بنو قریظہ قبیلہ کی ایک یہودی خاتون تھیں۔ بعض روایات کے مطابق آپ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارہویں زوجہ مطہرہ تھیں لیکن اس کے بارے میں اختلاف ہے، بعض حضرات نے ان کو حرم (کنیز) قرار دیا ہے، لیکن بعض دوسری روایتوں میں ہے کہ ریحانہ جو ایک یہودی خاندان کی خاتون تھیں جنگی اسیر ہو کر آئی تھیں چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو آزاد کیا اور 6ھ ( 627ء ) میں ان سے نکاح کر لیا۔

انتقال

آپ جوانی کی حالت میں رحلت فرما گئی۔ آپ سن 9ھ ( 630ء ) میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حیات مبارکہ میں ہی انتقال کر گئی۔ آپ کو جنت البقیع میں دفن کر دیا گیا۔ [1]

حوالہ جات

↑ al-Halabi، Nur al-Din. Sirat-i-Halbiyyah. Uttar Pradesh: Idarah Qasmiyyah Deoband. vol 2, part 12, pg. 90. Translated by Muhammad Aslam Qasmi.
حصہ دوم
ام المومنین حضرت ریحانہ بنت شمعون رضی اللہ عنہا
سیدہ ریحانہ رضی اللہ عنہا یہود کے خاندان بنونضیر سے ہیں۔ بعض مؤرخین نے آپ کا تعلق بنوقریظہ سے بتایا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہا کے والد شمعون بن زید تھے جن کو شرف صحابیت حاصل ہے۔ حضرت ریحانہ کا نکاح پہلے بنو قریظہ کے ’حکم‘ نامی شخص سے ہوا۔ غزوۂ بنوقریظہ کے بعد جن یہودیوں کو قتل کیا گیا ان میں حکم بھی شامل تھا اور ریحانہ کو جنگی قیدی کے طور پر مسلمانوں نے گرفتار کر لیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں حضرت ام المنذر بنت قیس رضی اللہ عنہا کے گھر ٹھہرایا۔ ان کے قبول اسلام کے بعد وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عقد میں آئیں۔ نکاح کے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عمرِمبارک 59 سال تھی، جبکہ سیدہ ریحانہ کی عمر کا تعین کتب ِ سیر و تاریخ میں نہیں ملتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجۃ الوداع سے فارغ ہو کر واپس مدینہ منورہ تشریف لائے تو حضرت ریحانہ کا انتقال ہوا اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود نماز جنازہ پڑھائی اور حضرت ریحانہ رضی اللہ عنہا جنت البقیع میں دفن ہوئیں۔
حضرت خدیجۃ الکبری اور حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہما کے بعد یہ تیسری رفیقۂ حیات ہیں، جن کا انتقال حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ہوا۔

حصہ سوم

نام ریحانہ ہے ، یہود کے خاندان بنو نضیر سے تھیں بعض نے بنو قریظہ کہا ہے۔
سلسلۂ نسب یہ ہے: ریحانہ بنت شمعون بن زید بن خنافہ
بعض روایتوں میں ا س طرح ہے: ریحانہ بنت زید بن عمر بن خنافہ بن شمعون بن زید۔ لیکن پہلا سلسلہ نسب اہل سیر کے نزدیک معتبر ہے۔
حضرت ریحانہ رضی اللہ عنہا کے والد کو شرف صحابیت حاصل ہے۔ حضرت ریحانہ کا نکاح پہلے بنو قریظہ کے ایک شخص “حکم” سے ہوا۔ غزوۂ بنو قریظہ کے بعد جن یہودیوں کو قتل کیا گیا ٍٍٍٍٍٍٍٍ”حکم ” بھی ان میں شامل تھا۔ ریحانہ ان عورتوں میں تھیں جنہیں اس موقع پر مسلمانوں نے گرفتار کیا۔
ابن سعد رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حضرت ام المنذر بنت قیس رضی اللہ عنہا کے گھر ٹھہرایا۔ ان کے قبول اسلام کے بارے میں دو روایتیں ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم چاہو تو اسلام قبول کرلو اور چاہو تو اپنے مذہب پر قائم رہو۔ انہوں نے اپنے مذہب کو ترجیح دی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اگر اسلام قبول کرلو تو اپنے پاس رکھوں گا، لیکن وہ یہودیت پر قائم رہیں۔ حضو رصلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے رویہ سے بہت رنج ہوا۔ آپ نے ریحانہ کو اپنے حال پر چھوڑ دیا، ایک دفعہ آپ صحابہ کرام کی جماعت کے درمیان رونق افروز تھے۔ ثعلبہ رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہوکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت ریحانہ رضی اللہ عنہا کے قبول اسلام کی خوشخبری سنائی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے۔ دوسری روایت کے مطابق حضرت ریحانہ رضی اللہ عنہا نے کہا میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار کرتی ہوں، قبول اسلام کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی ملک میں رکھا۔ بعض روایتوں کے مطابق انہیں آزاد کرنے کے بعد ان سے نکاح فرماکر ازواج مطہرات میں شامل کرلیا۔ بہر صورت وہ باپردہ رہتی تھیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کی ہر فرمائش پوری کرتے تھے۔
حضرت ریحانہ رضی اللہ عنہا نے 5 سال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رفیقۂ حیات کی حیثیت سے گزارے۔ محرم 6 ھ میں بارہ اوقیہ اور ایک نش سونا مہر میں دیا کرتے تھے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بھی اتنا ہی مہر ادا فرماکر حضرت ریحانہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمالیا۔ اور جس طرح دوسری ازواج مطہرات کی باری مقرر تھی، اسی طرح حضرت ریحانہ رضی اللہ عنہا کی بھی باری مقرر تھی، اس طرح ام المومنین کے زمرے میں شامل ہوگئیں۔
وصال مبارک: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع سے فارغ ہوکر واپس مدینہ تشریف لائے تو حضرت ریحانہ کا انتقال ہوا اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود نماز جنازہ پڑھائی اور حضرت ریحانہ رضی اللہ عنہا جنت البقیع میں دفن ہوئیں۔
حضرت خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنہا اور حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا کے بعد یہ تیسری رفیقۂ حیات ہیں، جن کا انتقال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہوا۔

اللہ آپ کو اور مجھے ایمان کی حلاوت نصیب فرمائے اورحقیقی خوشیاں عطا فرمائے اور ہمیں اِن پاک نفوس کی اتباع کی توفیق نصیب فرمائے اور اللہ پاک سے دعا ھے ہر کمی معاف فرما کر ﺫریعہ نجات بناۓ. آمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے