Home / کالم / “نہ جینے دیتے ہیں نہ مرنے” انصار عباسی

“نہ جینے دیتے ہیں نہ مرنے” انصار عباسی

تحریر
انصار عباسی

پردے سے متعلق گزشتہ ہفتہ سے جاری بحث کے دوران کسی نے بہت خوبصورت پیغام سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا… ’’حجاب ترک کرنے کے لیے ہزار دلائل کی ضرورت ہے اور اسے پہننے کے لیے صرف ایک دلیل کہ یہ اللہ کا حکم ہے‘‘۔

افسوس اُن لوگوں پر ہوتا ہے جو مسلمان ہوتے ہوئے اور جانتے بوجھتے پردہ اور دوسرے اسلامی احکامات کا مذاق اڑاتے ہیں ورنہ بہت سی خواتین ہیں جو پردہ نہیں کرتیں اور مانتی ہیں کہ یہ اسلام کا حکم ہے۔
اللہ سب کو ہدایت دے! لیکن اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اسلامی شعائر اور دینی احکامات کے نفاذ اور اُن کے حق میں بات کرنے والوں کا مذاق اڑا کر یا اسلام سے متعلق منفی پروپیگنڈا کر کے وہ اس دین کا کچھ نقصان کر لے گا تو تحقیق کر لیں کہ ایسی ہر کوشش نہ صرف ناکام ہوئی بلکہ اس کے نتیجے میں اسلام مزید پھیلا۔
نائن الیون کے بعد تمام تر منفی پروپیگنڈا کرنے اور مسلمانوں کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑنے والے امریکہ اور یورپ میں آج اسلام سب سے تیزی سے پھیلنے والا مذہب ہے۔
آج امریکہ اور یورپ میں مسلمان خواتین جس بڑی تعداد میں حجاب اور پردے میں نظر آتی ہیں، اُس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔
جنرل پرویز مشرف کے زمانے سے روشن خیالی کا جو سلسلہ پاکستان میں چلا اور جو ٹی وی چینلز کے ذریعے بے شرمی اور بے حیائی پھیلانے کی کوشش کی گئی اُس کے ردعمل میں پاکستان میں بھی پردہ اور اسکارف میں اضافہ ہوا اور بڑی تعداد میں نوجوانوں نے قرآن پاک کو سمجھ کر پڑھنا شروع کیا، مساجد میں نمازیوں کی تعداد بھی پہلے سے بڑھ گئی۔
گزشتہ ہفتے خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے صوبہ بھر کے اسکول، کالجز کی بچیوں کے لیے پردے کے حکم کے نفاذ کے حق میں نوٹیفکیشن‘ جاری کیے جانے کے فوری بعد لبرل طبقہ سے تعلق رکھنے والے ایک گروہ اور میڈیا کے ایک سیکشن کے دبائو پر، واپس لے لیا گیا جس پر یہ طبقہ بہت خوش جبکہ عمومی طور پر پاکستانی اور مذہبی حلقے ناراض تھے۔
لیکن دوسرے ہی دن پلس کنسلٹنٹ کی طرف سے ایک سروے کے نتائج میڈیا کو جاری کیے گئے جن کے مطابق گزشتہ دس سالوں میں پاکستان کے شہری علاقوں میں پڑھنے والی شہری طالبات میں سر پر اسکارف اور حجاب لینے کا رجحان ماضی کے برعکس بہت بڑھ گیا ہے جبکہ سر کو نہ ڈھانپنے والی خواتین طالبات کی تعداد میں تیزی سے کمی آئی ہے۔ سروے کے مطابق خواہ حکومت ایسے اقدام کی حمایت کرے یا نہ کرے، میڈیا چاہے جتنی (پردہ مخالف) مہم چلا لے اور ٹویٹر ٹرینڈز سے قطع نظر شہروں میں رہنے والی طالبات میں سر ڈھانپنے کے رجحان میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔
سروے کے مطابق سولہ سال سے اٹھارہ سال کی ان شہری طالبات میں چالیس فیصد دوپٹہ اور چادر کو ترجیح دیتی ہیں جبکہ حجاب کا رجحان‘ جو 2008ء میں 9فیصد تھا، خاطر خواہ اضافہ کے بعد 2018ء میں 25فیصد ہوگیا۔ دوسری جانب کاندھوں پر دوپٹہ رکھنے کا رجحان جو 2008ء میں 34فیصد تھا، کم ہو کر 2018ء میں صرف 8فیصد رہ گیا۔
ان شہری خواتین میں مکمل چہرہ چھپانے اور نقاب کے رجحان میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ اس سروے کے مطابق پاکستان کے شہری علاقوں سے تعلق رکھنے والے ان طالبات میں وہ خواتین جو سر پر دوپٹہ نہیں رکھتیں، صرف 2فیصد ہیں۔ یہ سروے ملک کے بارہ بڑے شہروں میں کیا گیا جس میں انٹرمیڈیٹ، گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ طالبات شامل تھیں۔
گویا ثابت ہوا کہ اسلام کو جتنا دبایا جائے گا، وہ ان شاء اللہ اُتنا ہی ابھرے اور پھیلے گا۔
پردہ پر بحث کے دوران چھوٹے بچوں کے ساتھ زیادتی اور اُن کے قتل کے واقعات کا حوالہ دے کر لبرلز کا ایک طبقہ طنزاً یہ سوال اٹھاتا رہا کہ اب کیا بچوں کو بھی پردہ کرایا جائے گا۔
یہ سوالات بھی اٹھائے گئے کہ طالبات کو پردہ کرانے کے بجائے اُن افراد کو سزا کیوں نہیں دی جاتی جو بچیوں اور خواتین کو تنگ کرتے ہیں یا اُنہیں ہراساں کرتے ہیں۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ جب پردے کا کہا جاتا ہے تو اُس کی مخالفت میں طرح طرح کی توجیہات پیش کی جاتی ہیں۔
ورنہ جب یہ کہا جاتا ہے کہ بچوں، بچیوں کے ساتھ زیادتی کرنے اور اُنہیں قتل کرنے والوں کو سرعام پھانسی دے کر نشانِ عبرت بنایا جائے تو یہی لبرل طبقہ اُٹھ کھڑا ہوتا ہے کہ ایسا کرنا تو انسانی حقوق کے خلاف ہے۔
انسانی حقوق اور حقوق نسواں کے نام پر جو خرابیاں پیدا کی جا رہی ہیں، اُنہیں روکنا چاہئے ورنہ یہ لبرل طبقہ نہ جینے دے گا نہ مرنے۔
ایک خبر کے مطابق راولپنڈی میں ایک مدرسہ کے معلم نے ایک طالب علم سے زیادتی کی اور پکڑا گیا۔
قصور شہر ایک بار پھر بچوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کے واقعات کے سبب توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ایسے جانور، درندے کسی رحم کے قابل نہیں، اس لیے ایسے درندوں کو چوکوں، چوراہوں پر دو دو، تین تین دن تک لٹکایا جائے تو پھر دیکھیں ایسے واقعات میں کیسے کمی آتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ سڑک پر، گلی میں، اسکول، کالجز کے باہر، کسی جگہ پر کوئی مرد اگر خواتین کو تنگ کرتا ہے یا اُن سے چھیر خانی کرتا ہے تو اس پر اُسے قید کی سزا دی جائے اور اگر کوئی دوبارہ اس جرم میں پکڑا جاتا ہے اور ثابت ہو جائے تو اُس کو سر عام سزا دی جائے۔اُس کا منہ کالا کیا جائے۔امید ہے کہ انسانی حقوق والے بُرا نہیں منائیں گے۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے