Home / کالم / سا نحہ ساہیوال پہ اٹھنے وا لے سوا لا ت – ڈاکٹر ابراہیم مغل
sahiwal news

سا نحہ ساہیوال پہ اٹھنے وا لے سوا لا ت – ڈاکٹر ابراہیم مغل

2014 میں جب پو لیس نے ما ڈ ل ٹا ؤ ن لا ہو ر میں معصو م شہر یو ں کے خو ن سے ہو لی کھیلی تو آ ج کے وز یرِا عظم عمرا ن خا ن نے مطا لبہ کیا تھا کہ پنجا ب کے وز یرِ اعلیٰ ، اور وز یرِقا نو ن کو فی الفور ا ستعفیٰ دے دینا چا ہیے۔ اور سا تھ ہی آ ئی پنجا ب کو ان کے عہد ے سے فا رغ کر دینا چا ہیے۔ آ ج یہ وہی عمرا ن خا ن ہیں جن کی نا ک کے نیچے سا ہیوا ل وا قعہ کے مقتو لین کو شہر یو ں کے جا ن و ما ل کی حفا ظت کر نے وا لے اداروں کی جا نب سے د ہشتگر د قرار دے کے ان کے قتل کو جا ئز قرا ر دیا جا رہا ہے۔ جب کہ ہر در جے کے شہر ی بے چینی کے عا لم میں سا دہ تر ین سوا ل یہ پو چھ رہے ہیں کہ ذ یشا ن نا می مقتو ل اگر د ہشت گرد تھا تو اسے قتل کی مو قع پر کا روا ئی کی بجا ئے گر فتا ر کیو ں نہیں کیا گیا؟تفصیل اس دلخر ا ش وا قعہ کی کچھ یو ں ہے کہ ساہیوال کے قریب سی ٹی ڈی پولیس (کاؤنٹر ٹیررسٹ ڈیپارٹمنٹ) کی ایک کار پر فائرنگ سے لاہور کے رہائشی میاں بیوی اور ان کی بیٹی سمیت چار افراد جاں بحق ہوگئے۔ گاڑی میں موجود ایک بچہ زخمی ہوا جبکہ 2 معصوم بچے بچ گئے۔ اس سانحہ کے بارے میں پولیس کا جو موقف سامنے آیا ہے اس کے مطابق جاں بحق ہونے والے افراد کا تعلق دہشت گرد تنظیم سے تھا اور یہ سانحہ فیصل آباد واقعہ کا تسلسل تھا۔ اطلاعات کے مطابق اس مشکوک مقابلے میں سی ٹی ڈی اہلکاروں کو پولیس نے حراست میں لے کر مقدمہ درج کرلیا ہے۔ حکو مت کی جا نب سے جا ری کیئے گئے بیا ن کے مطا بق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی زیر صدارت اتوار کے روز ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں اس سانحے کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔تو صا حبو یہ ہو وہ تفصیل سا ہیوا ل کے سا نحہ کی جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پولیس کا جو موقف سامنے آیا ہے وہ بھی تضادات سے بھرپور ہے۔ ساہیوال میں ہونے والے اس سانحے نے پولیس کی کارکردگی اور مقابلے میں ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں کئی سوالات پیدا کردیئے ہیں۔ مختلف حلقوں کی جانب سے یہ کہا جارہا ہے کہ اگر پولیس لاہور سے مطلوبہ افراد کا پیچھا کر رہی تھی تو پھر ساہیوال کے علاقہ میں جاکر یہ واقعہ کیوں رونما ہوا؟ دہشت گردوں کے بارے میں کوئی اطلاع تھی تو ساہیوال پولیس اس سے بے خبر کیوں تھی؟ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب اور مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پنجاب حکومت اس کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کرائے تاکہ اصل محرکات کا پتہ چل سکے۔ پنجاب میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر سخت تشویش ہے۔ پولیس نظام کو بہتر بنانے پر توجہ دی جائے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے بھی ساہیوال میں ایک خاندان کے پولیس کے ہاتھوں قتل کی مذمت کرتے ہوئے اس کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ خبروں کے مطابق آئی جی پولیس پنجاب امجد جاوید سلیمی نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے آر پی او ساہیوال اور سی ٹی ڈی پنجاب سے انکوائری رپورٹ طلب کی تھی جس پر سی ٹی ڈی پنجاب نے اس سانحے کی ابتدائی رپورٹ آئی جی پنجاب کو پیش کردی۔ سی ٹی ڈی کی اس رپورٹ میں ہلاک شدگان کو کالعدم تنظیم داعش کے دہشت گرد قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہفتہ کو ساہیوال میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا جس میں کالعدم تنظیم داعش سے منسلک چار دہشت گرد ہلاک ہوگئے اور ان کے قبضے سے خود کش جیکٹیں، ہینڈ گرنیڈز اور دیگر اسلحہ اپنے قبضے میں لیا گیا۔ آئی جی پنجاب کو بتایا گیا کہ دہشت گرد پولیس کی چیکنگ سے بچنے کے لیے اپنی فیملیز کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ ہفتے کی دوپہر بارہ بجے کے قریب ساہیوال ٹول پلازہ کے قریب سی ٹی ڈی ٹیم نے کار اور موٹر سائیکل پر سوار دہشت گردوں کو روکا تو انہوں نے فائرنگ شروع کردی جس پر سی ٹی ڈی ٹیم نے اپنے تحفظ کے لیے جوابی کارروائی کی۔ سی ٹی ڈی کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جاں بحق ہونے والے اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔ ان کے تین ساتھی موقع سے فرار ہونے میں کامیاب رہے۔ جن میں دہشت گرد شاہد جبار، عبدالرحمن اور ایک نامعلوم شخص شامل ہیں، جن کا تعاقب کیا جارہا ہے۔ سی ٹی ڈی ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ دہشت گرد امریکن شہری وارن وائن سٹائن اور سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی حیدر گیلانی کے اغوا میں ملوث تھے۔ یہ ساری کہانی روایتی پولیس کی کہانی لگتی ہے۔ میڈیا میں جو کچھ سامنے آرہا ہے اس سے یہی لگتا ہے کہ کار سوار نہتے تھے اور انہوں نے کسی قسم کی کوئی مزاحمت نہیں کی اور ان کے ساتھ بھی کوئی نہیں تھا۔ وزیر اعظم عمران خان نے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے رابطہ کیا اور ان سے واقعہ کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ حقائق تک پہنچنے کے لیے واقعہ کی مکمل اور شفاف تحقیقات کرائی جائے۔ کیا ملک بھر میں ہونے والی دہشت گردی کے پیش نظر پولیس اور دیگر سیکورٹی ادارے فعال کردار ادا کررہے ہیں؟ یہ تسلیم کر لیتے ہیں کہ اب تک ہونے والی مختلف کارروائیوں اور آپریشن کے دوران متعدد دہشت گرد گرفتار اور ہلاک ہوچکے ہیں۔ مگر ساہیوال میں ہونے والے اس افسوسناک سانحے نے پولیس اور انٹیلی جنس اداروں کی کارروائی اور کارکردگی کے بارے میں بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے۔ اگر بالفرض پولیس کی اطلاع کے مطابق کار میں کوئی دہشت گرد بھی موجود تھا تو اسے گرفتار کرنے کے مختلف آپشنز موجود تھے۔ پولیس اور دیگر اہلکار گاڑی کا مسلسل تعاقب کرتے اور مطلوبہ افراد کی حرکات و سکنات پر گہری نظر رکھتے اور اس جگہ پہنچتے جو اُن کی منزل تھا۔ اگر ان کی کوئی حرکت مشکوک معلوم ہوتی تو انہیں اس جگہ سے زندہ بھی گرفتار کیا جاسکتا تھا۔ اگر مقابلہ بھی ہوتا تو کم از کم معصوم بچی اور اس کی ماں بچ جاتی۔ دوسری صورت یہ بھی تھی کہ اگر ساہیوال میں گاڑی کو روکا گیا تھا تو مطلوبہ افراد کو زندہ گرفتار کیا جاتا، ان سے تفتیش کی جاتی اور عدالت میں پیش کرکے قانون کے مطابق ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جاتی۔ کیونکہ سوشل میڈیا پر جو ویڈیوز وائرل ہورہی ہیں ان میں مقتولین نہتے نظر آتے ہیں۔ لہٰذا کسی قسم کے انکاؤنٹر کی گنجائش نہیں بنتی۔ اس واقعے کی تحقیقات کے بعد ہی اصل صورت حال سامنے آئے گی لیکن اگر امریکہ یا یورپ میں پولیس اور انٹیلی جنس اداروں کو دہشت گردوں کی کوئی اطلاع ملتی ہے تو وہاں کے قانون کے مطابق ان کا تعاقب کیا جاتا اور ان کی تمام حرکات و سکنات کا جائزہ لیا جاتا اور ٹھوس شواہد ملنے کے بعد انہیں گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی پولیس اور دیگر انٹیلی جنس اداروں کی اسی جدید انداز میں تربیت کرنے کی ضرورت ہے، ورنہ اس طرح کے سانحات رونما ہوتے رہیں گے۔ سانحہ ساہیوال کی شفاف تحقیقات ضروری ہیں۔ حقائق عوام کے سامنے آنے چاہئیں۔ وگر نہ جے آ ئی ٹی کی رپو ر ٹ کو جلد منظرِ عا م پہ لا نے کی بجا ئے طو ل دے کر قا لین کے نیچے چھپا نے کی کو شش کی گئی تو عوا م کا اعتما د قا نو ن نا فذ کر نے ادا رو ں پہ سے اٹھ جا ئے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے