Home / کالم / ملالہ، مریم نواز اور بلاول بھٹو کا ٹرائیکا
SAHIWAL NEWS

ملالہ، مریم نواز اور بلاول بھٹو کا ٹرائیکا

ڈاکٹر ابراہیم مغل
2018ء کے انتخابات کی تیاری سے پہلے جب کوئی دانشور یا زیرک سیاستدان کرکٹر عمران خان کے وزیر اعظم پاکستان بن جانے کی پیشگوئی کرتا تو عوام الناس تو کیا بلکہ بھلے چنگے پڑھے لکھے ان کی اس پیشگوئی پر کان نہ دھرا کرتے۔ پھر چشم فلک نے 2018ء کے انتخابات کا تماشا ہوتا دیکھا جس میں عمران خان اور ان کی سیاسی جماعت نے آسانی سے الیکشن جیتا اور نتیجے میں عنانِ حکومت سنبھالی۔ آج حالت یہ ہوچکی ہے کہ آپ کسی ریڑھی والے کے پاس سبزی یا پھل وغیرہ خریدنے کے لیے کھڑے ہوجائیں تو آپ کو اوسط درجے کے شہری تو کیا نچلے طبقے کے عوام تک یہ فقرہ دہراتے نظر آئیں گے کہ عمران خان وزیر اعظم بنا نہیں بلکہ اسے بنایا گیا ہے۔ یہاں تک کہ ا ب تو کوئی ثبوت تک نہیں مانگتا بلکہ نظر آنے والے حالات بذات خود اس کا ثبوت ہیں۔ انہی الجھے ہوئے حالات میں عوام الناس کو اپنے پیٹ کی جنگ لڑنے میں مصروف ہیں تو وہی ملک سے مخلص دانشور اور زیرک سیاستدان خبردار کر رہے ہیں کہ ملالہ یوسف زائی کو اس ملک کی سربراہ بنانے کی تیاریاں شد و مد سے جاری ہیں۔ آئندہ کے دنوں میں انتخابات کو حقیقت کا رنگ دینے کے لیے ملالہ کے مقابلے یں اتارے جانے والے امیدوار بھی ان کی مرضی کے ہوں گے ۔ پاکستان کی دو بڑی سیاسی پارٹیوں سے یہ مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری ہوں گے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ مریم نواز اور بلاول بھٹو کو احتساب کے اس دباؤ کا سامنا نہیں جس کا ان کے بڑوں کو ہے۔ بین الاقوامی طاقتوں کے خطرناک مطالبوں کو مریم نواز اور بلاول بھٹو تو پورا نہ کرسکیں گے، یوں ملالہ یوسف زئی کا سربراہ بن جانا حقیقت کے زیادہ قریب نظر آتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ کچھ قارئین کو یہ سب بعید از قیاس نظر آئے۔ اس صورت میں ہیں 18جولائی 1993ء کی اس حبس زدہ شام میں لوٹنا پڑے گا جب نادیدیہ قوتوں نے اس ملک پر بطور حکمران معین قریشی کے نام کا اعلان کردیا۔ سب عوام اقتدار کی جنگ میں دو بڑی جمہوری قوتوں یعنی میاں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کو ایک دوسرے سے برسرپیکار دیکھ رہے تھے۔ میاں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو خواہ کیسے بھی تھے، مگر سو فیصد عوام کے چنے ہوئے نمائندے تھے۔ بڑے بڑے پڑھے لکھے تک نہیں جا نتے کہ یہ معین قریشی کون ہے؟ کس چڑیا کا نام ہے؟ مگر 18 جولائی 1993ء کی اس اداس شام کو جب حبس اپنے عروج پر تھا یہ یقین کرلینا پڑا کہ معین قریشی نامی کسی شخص کو اس ملک کا وزیر اعظم بنادیا گیا اور پھر اس ملک پہ طاری کی گئی ڈرامہ بازی یہیں پہ ختم نہیں ہوئی بلکہ موسم گرما ہی کی ایک اور اداس اور حبس زدہ 28 اگست 2004ء کی شام کو اس ملک پہ شوکت عزیز کو اس ملک پہ بطور وزیر اعظم مسلط کردیا گیا۔ اس سے پہلے ملک کے بطور وزیر خزانہ شوکت عزیز کا نام تو سننے میں آتا تھا مگر ا ن کے وزیر اعظم بننے کا کوئی شائبہ تک سننے کو نہیں ملا کرتا تھا۔ تو وہ جو انگریزی میں کہتے ہیں “Out of Blue” تو 28 اگست 2004 کی شام کو آؤٹ آف بلیو شوکت عزیز کا نام بطور وزیر اعظم پاکستان سامنے آگیا۔ اس ملک کی بدقسمتی دیکھئے کہ جب 2007ء میں جنرل مشرف حکومت کی تنزلی ہوئی تو شوکت عزیز بھی منظر سے یوں غائب ہوئے کہ جیسے وہ کبھی منظر پہ تھے ہی نہیں۔ یہ انہی نادیدہ قوتوں کی ان کے حال پہ مہربانی ہے کہ جنرل مشرف کو تو پھر احتساب میں لیے جانے کی باتیں ہوتی ہیں، مگر شوکت عزیز کا نام کہیں نہیں آتا۔
تو حضور یہ ہیں ان نادیدہ قوتوں کے اس ملک پہ اتارے گئے معجزے جن کے تحت معین قریشی اور شوکت عزیز جیسے گمنام لوگ اس ملک پہ حکومت کرنے کے مزے لوٹتے رہے۔ ان نادیدہ قوتوں کی کارروائیاں زمانہ حال ہی میں جاری نہیں ر ہتیں بلکہ یہ نشان زدہ ملک کے مستقبل پہ بھی نظر رکھے ہوتی ہیں۔ سن لیجئے کہ پاکستان کا ان قوتوں سے مقابلہ کرنا کنجشک کو عقاب سے لڑانے والی بات ہے، چہ جائیکہ امریکہ جیسی سپرپاور بھی ان کی چیرہ دستیوں سے محفوظ نہیں۔ کیا آپ کو یاد نہیں کہ امریکہ کے 2017ء کے انتخابات میں ہیلری کلنٹن کے سربراہ بن جانے کی امید کس قدر قوی تھی؟ یہاں تک کہ نیوزیک نے تو ان کی اپنے سرورق پہ بطور صدر امریکہ کی تصویر بھی شائع کردی تھی۔ مگر نادیدہ قوتوں نے سفید کو سیاہ میں یوں بدلا کہ ہیلری کو خود بھی یقین نہیں آیا اور وہ آنسوؤں سے رو پڑیں۔ عمران خان کی بات میں اوپر کرچکا ہوں۔ میں بات کررہا تھا کہ پاکستان کا ان نادیدہ قوتوں سے مقابلہ کنجشک کو عقاب سے لڑانے والی بات ہے۔ اسی تناظر میں ملالہ یوسف زئی کے حالاتِ زندگی کا مطالعہ کیجئے، صورتِ حال آپ پر واضح ہوجائے گی۔ وہ کہتے ہیں کہ ملالہ کو برسراقتدار لانے کے لیے ایک ٹرائیکا کے سے مقابلے کی شکل ترتیب دی جائے گی۔ مریم نواز، ملالہ یوسف زائی اور بلاول بھٹو اس ٹرائیکا کے ممبر ہوں گے۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس گھمبیر صورتِ حال میں عوام کو کیا کرنا چاہیے؟ تو ہم عوام کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے کردار میں مضبوطی پید ا کریں ۔ ایک بار نئے سرے سے اس مقصد کو یاد کریں جس کے خاطر یہ ملک معرضِ وجود میں آیاتھا۔ سیاسی پارٹیوں میں تقسیم ہوجانا کوئی بری بات نہیں، بلکہ صحت مند جمہوریت کا تقاضا بھی یہی ہے۔ لیکن سیاسی پارٹیوں میں بٹتے وقت ملک و ملت کے مفاد کو سرفہرست رکھیں۔ سیاسی پارٹیوں میں تو بٹیں لیکن صوبائیت میں بٹنے کو ایک لعنت سمجھیں۔ پنجابی، پٹھان، سندھی یا بلوچی کہلانے کی بجائے سیدھا سیدھا پاکستانی کہلوائیں۔ ضروری ہے کہ لبرل ازم کے نام پر حلال حرام کی تمیز ختم نہ ہونے دیں۔ لبرل ازم کو اپنے حقیقی معانی کی صورت میں زندہ رکھا جاتا تو کوئی بری بات نہ تھی۔ مگر اب لبرل ازم کے معنی تبدیل کیے جارہے ہیں اور اس کی موجودہ بیان کی جانے والی تعریف اسلام کی روح سے میل نہیں کھاتی۔ اپنی پسند کے امیدواروں کو برسراقتدار لانے کی غرض سے نادیدہ قوتیں لبرل ازم کو بطور ہتھیار استعمال کرارہی ہیں۔ صاف دکھائی دیتا ہے کہ اس ملک میں بھی نادیدہ قوتیں اپنے کھیل کو لبرل ازم کے نام پر آگے بڑھائیں گے۔ ہم اگر ان کے بہلاوے میں آگئے تو ہم وہاں جاگریں گے جہاں ہماری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے