Home / کالم / چیچہ وطنی کی ایک ہندو نرس کی کہانی

چیچہ وطنی کی ایک ہندو نرس کی کہانی

چیچہ وطنی کی ایک ہندو نرس کی کہانی

تحریر : ارشد فاروق بٹ
یہ کہانی ہے چیچہ وطنی کی ایک ہندو مذہب کی نرس بھراواں بائی کی جو تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال چیچہ وطنی میں نرس کے پیشے سے منسلک تھی. بھراواں بائی اپنے دو بیٹوں آنند کمار اور ستیانن سیوک ، اور ایک بیٹی لکشمی کے ہمراہ بلاک نمبر 4 میں رہائش پذیر تھی. شاعر نے تقسیم ہند کے دوران لوٹ مار کی کیا خوب عکاسی کی ہے.

مذہب کی بنیاد پہ کیا تقسیم ہوئے
ہمسایوں نے ہمسائے ہی لوٹے تھے

جس جگہ آج کل بلدیہ چیچہ وطنی کے دفاتر ہیں اس جگہ کبھی تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال ہوا کرتا تھا اور دور دراز سے آنے والے مریضوں کے لواحقین سستانے کے لیے راحت باغ کا رخ کرتے. تقسیم ہند کئی خاندانوں کی زندگیوں میں بھونچال لے آیا اور بھراواں بائی بھی اس کا شکار ہوئی، لیکن گمراہ ہجوم کے حملے اس کے دل سے شہر کی محبت نہ نکال سکے اور وہ شہر میں واپس آئی.

سال 1948 ، ہیڈ ماسٹرریٹائرڈ ریاض صاحب اپنی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے لکھواتے ہیں کہ :

میں گورنمنٹ ایم سی ماڈل ہائی سکول چیچہ وطنی میں دہم جماعت کا طالبعلم تھا، بھراواں بائی کا بڑا بیٹا آنند میرا ہم جماعت تھا. جبکہ اس کا چھوٹا بیٹا ستیانن سیوک چھٹی جماعت میں زیر تعلیم تھا. بھراواں بائی خدمت کے جذبے سے سرشار اور مذہبی تعصب سے بالاتر خیالات کی مالک خاتون تھی. تقسیم کے بعد چیچہ وطنی کے گردونواح میں آباد ہونے والے کچھ لوگوں میں تعصب کوٹ کوٹ کے بھرا ہوا تھا.

ایسے ہی چند بلوائیوں نے شام کے وقت بھراواں بائی کے گھر پر حملہ کر دیا، اپنے بچوں کو بغل میں دبائے وہ چھت سے دوسری طرف خالی مکان میں کود گئی جس سے اس کی ایک ٹانگ ٹوٹ گئی، لیکن اس نے خود بھی درد برداشت کیا اور بچوں کو بھی آواز نہ نکالنے دی. تقریبا تین گھنٹے وہ اسی حالت میں چھپی رہی.

خطرہ ٹلنے پربھراواں بائی نے ڈاکٹر عبدالغفور کے ہاں پیغام بھیجاجس نے رات 9 بجے اسے اپنے کوارٹر منتقل کیا، اس کی زخمی ٹانگ کا علاج کیا اور تین ماہ تک اپنے کوارٹر میں چھپائے رکھا، صحت یاب ہونے پر بھراواں بائی نے دوبارہ ہسپتال میں کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا. جس پر ڈاکٹر عبدالغفور نے اپنے سٹاف سے بات کی لیکن اسے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا. بھراواں بائی پر دوبارہ حملے کی مخبری پر ڈاکٹر عبدالغفور نے اسے بچوں سمیت اپنی کار کے ذریعے راتوں رات بارڈر پہنچایا.

بھراواں بائی اپنے بچوں کے ساتھ بھارتی پنجاب کے شہر لدھیانہ میں آباد ہوئی اور وہاں اپنے کلینک سے زندگی کا سفر ازسرنو شروع کیا. اس کے بڑے بیٹے کا انتقال ہو گیا، چھوٹا بیٹا ستیانن سیوک ڈاکٹر بنااور سال 1991 میں اپنی بیوی اور ماں کے ساتھ دوبارہ چیچہ وطنی آیا. اب تقسیم کی دھول بیٹھ چکی تھی. بھراواں بائی شہر کے ہر اس گھر میں گئی جہاں اس کی پہچان کے لوگ تھے، ڈاکٹر سیوک نے اپنے ابتدائی درسگاہ گورنمنٹ ایم سی ماڈل ہائی سکول کا بھی دورہ کیا اور طلباء کو لیکچر دیا.

سال 2014 میں ڈاکٹر سیوک نے دوبارہ چیچہ وطنی کا دورہ کیا. اس بار ان کے ہمراہ ان کی بہن لکشمی بھی تھی. ان کے اعزاز میں جناح ہال بلدیہ چیچہ وطنی میں ایک اعزازی تقریب بھی منعقد کی گئی جس میں ڈاکٹر سیوک نے اپنے شہر چیچہ وطنی سے اپنی محبت کو بیان کیا. ان کا تفصیلی انٹرویو آپ چند دن بعد دیکھ سکیں گے.

مزید فیچرز کے لیے ہماری ویب سائٹ ”
ساہیوال نیوز ڈاٹ کوم ڈاٹ پی کے” اور “”””قلمدان ڈاٹ نیٹ “””وزٹ کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے